Google+ Followers

Sunday, 13 July 2014

کچھ غزل کی ، کچھ چاند کی ‘چاندماری


آہا ! آج ہمیں رہ رہ کر اس مشاعرے کی یاد آرہی ہے جوہمارے اسکول میں برپا ہوا اور یہ ہماری زندگی کا سب سے پہلا مشاعرہ تھا جو ہم نے، خود ہم، نے سنا تھا۔اس کے بعد تو بس مشاعرے  اورہم اور باقی نام رہے اللہ کا۔اس مشاعرے کا ایک واقعہ اس طرح یاد ہے کہ ایک صاحب جنہیں ہم اس وقت شاعر سمجھے تھے ، اپنا نام پکارے جانے پر اسٹیج پر جلوہ افروز ہوئے اور ہوتے ہی،جلوہ افروز، یوں گویا ہوئے:
’’ایک غزل پیش خدمت ہے، عنوان ہے’’عشق ومحبت‘‘(قارئین سے گزارش ہے کہ عنوان کو اپنی سہولت کے عتبار سے بدل لیں ، ہمیں تو بھئی یہی مرغوب ہے)۔یہ کہتے ہی شاعر موصوف نے اپنے تخلیقی جوہر دکھانے شروع کیے۔وہ اپنے فن کا مظاہرہ اور ہم ان کے قد کاٹھ کا مشاہدہ کرنے لگے۔سیاہ رنگ،جسامت میں پہلوان،سفید قمیض اور سفید ہی پتلون۔ٹھوڑی پر ہاتھ بھر داڑھی اور باقی کھلا میدان۔ہلکی مونچھیں ،پچاس پچپن کے پیٹے میں رہے ہوں گے۔اُن کی شخصیت کا مطالعہ کرتے ہوئے ہم مسلسل یہ سوچتے رہے کہ ہمارے اردو کے استاد اسلم فاروقی ہمیں آج تک غلط سبق پڑھاتے رہے کہ عنوان صرف نظم کا ہوتا ہے غزل کا نہیں۔
ہمیں اسلم فاروقی کی کم علمی، جہالت پیشہ وارانہ نا اہلی پر رہ رہ کر پہلے رنج اور بعدازاں بے حد غصہ آتا رہا۔اصل میں اسلم فاروقی اردو کے ایک اچھے استاد تھے،پہلے خوب محنت اور محبت سے پڑھاتے تھے بعدازاں انہیں صفات میں بے رحمی کا اضافہ کرکے خوب مارتے تھے۔لیکن خال خال ہی ان سے کسی کو مار پڑتی تھی کیونکہ ان کا انداز ِ بیاں خود دل میں اترتا تھا۔آدھا سبق ان کا لہجہ ہمیں از بر کروا دیتا تھا۔ آدھا ہم خود کر لیتے تھے کہ آخر ہمارا بھی تو کچھ فرض بنتا تھا۔اسلم فاروقی کی ہمارے دل میں بے حد عزت تھی۔اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ وہ زبان ِ اردوئے معلی کے استاد تھے اور ہمیں بھی سوائے اردو کسی اور مضمون میں چنداں دلچسپی نہ تھی، ہاں البتہ سائنس کے مضمون میں سرتھامس الیو ایڈیسن اور نیوٹن کو استثنیٰ حاصل تھا۔وہ بھی اس لئے کہ اولالذکر نے بجلی کا بلب ایجاد کیا تھا،اور مرغی کے انڈوں پہ جا بیٹھے تھے۔مواخرالذکر یعنی سر نیوٹن نے بھی سنا ہے حرکت کے تین اصول دریافت کیے تھے۔حالانکہ یہ دونوں کافر، ملحد اور بے دین تھے، ہمیں یقین ہے کہ یہ دونوں جنت میں ہر گز ہرگز جانے کے نہیں لیکن پھر بھی ہم ان کی دریافتوں سے ازراہ ِ کرم استفادہ کرتے تھے اور ہیں۔یعنی’ گھر پیر کا بجلی کے چراغوں سے ہے روشن‘ بلکہ یہاں تو پیر کیا جوان و مرید تک روشن و رخشاں ہیں۔سر تھامس کے بلب سے ہم استفادہ کرتے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ انڈے ہماری من پسند غذا ہیں۔اس لئے ایڈیسن سے ایک نسبت یہ بھی ہے۔البتہ ہم ان کی طرح سنکی ہر گز نہیں کہ مرغی کے انڈوں پہ جا بیٹھیں اور سوچیں کہ اس میں سے چوزے نکلیں گے۔یہ تو بھئی ملحدانہ سوچ ہے۔ہمارا کام انڈے کھانا ہے نہ کہ ان فضولیات میں پڑنا کہ اگر مرغی انڈوں پہ بیٹھ کر چوزے نکال سکتی ہے تو ہم کیوں نہیں؟۔اللہ ! معاذ اللہ!ہمیں اجتماعی و انفرادی طور یہ اعزاز حاصل ہے کہ ہم نے الحمدوللہ کبھی ایسی کافرانہ سوچ نہیں رکھی۔ورنہ ہم میں اور اغیار میں فرق ہی کیا رہ جاتا۔ایک وہ دوسرے صاحب تھے۔کیا نام تھا ان کا۔نیوٹن!یہ حضرت ایک روز سیب کے باغ میں پیڑ کے نیچے بیٹھے فکر ِ فردا (بھلا یہ بھی کوئی فکر ہے)میں مبتلا تھے کہ دفعتاً ایک سیب’دھپ‘ سے ان کے قریب آگرا۔موصوف سوچنے لگے یہ سیب اُوپر سے نیچے کی طرف کیوں آیا ہے نیچے سے اوپر کیوں نہیں گیا؟پس یہیں سے اُن کی پریشانیاں شروع ہوئیں،حتیٰ کہ انہوں نے حرکت کے تین اصول مع قوت ِ کشش دریافت کر لیے جنہیں ہم بھرپور استعمال کرتے ہیں لیکن بھئی ملحد آخر ملحد ہے۔آخر کار وہ بھی مر کھپ گیا، جنت میں البتہ وہ ہرگز جانے کا نہیں۔دیکھئے ایسے منفی سوچ والے لوگوں کا جنت میں کیا کام۔بھلا کوئی تُک بھی ہے۔ بھئی سیب اگر گرا ہے تو تم اسے کھائو۔تم تو پیڑ گننے لگے۔ہم ہوتے تو جھٹ سے سیب چٹ کر جاتے بلکہ اِدھر اُدھر دیکھ کر، کہ کوئی ہمیں دیکھ تو نہیں رہا،کچھ اور سیب بھی اُتار لیتے۔بہرکیف! مذکورہ دونوں کی ایجادات کا ہم بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔یہ جو ہم نے گھروں میں قمقمے لگا رکھے ہیں، جنہیں ہم جب چاہتے ہیں آن یا آف کر لیتے ہیں اور اندھیرے نیز اجالے کا مقدور بھر فائدہ اٹھاتے ہیں۔انڈے کھاتے ہیں، منفی سوچ سے پرہیز کرتے ہیں۔سر نیوٹن کے پہلے دو اصولوں سے ہمیں کوئی خاص علاقہ نہیں لیکن ان کا تیسرا اصول یعنی ’ہر حرکت کا ردِ عمل حرکت بھر ہوتا ہے‘ہمارے بہت کام آتا ہے۔(حرکت سے مراد کوئی بھی حرکت، جیسے عطار کے لونڈے کی حرکت،حزب ، اختلاف کی حرکت وغیرہ)
سر نیوٹن کا مذکورہ تیسرا اصول ہمارے بے حد کام آیا۔اس سے ہمیں پتھرائو، توڑ پھوڑ،احتجاج، جلسے جلوس، اسمبلیوں، جرگوں، کچہریوں اور ہڑتالوں میں بہت مدد ملتی ہے۔ہم پہلے ناپ تول کر ایسا عمل کرتے ہیں کہ اس کا ردِ عمل عمل بھر آئے اور پھر جب آجاتا ہے، ردعمل، تو باقی رہے نام اللہ کا!
ایک اور بات یاد آئی۔اُس زمانے میں یہ سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ ہمارے شعراء حضرات، بُت،صنم،چرخ،عشق، کافر وغیرہ کے چکروں میں کیوں رہتے ہیں۔ہر شاعر ان الفاظ کو کم از کم دو تین بار اپنی غزل میں ضرور دہراتا تھا،اس لئے ہمیں اِن الفاظ اور دیگر ایسے الفاظ کی عظمت کا بھرپور احساس ہونے لگا تھا۔ہم ایسے الفاظ کے معنی تلاش کرتے اور لغات میں ان پر خط کھینچ کر پہروں الفاظ اورمعانی کے باہمی ربط،ان کے صوتی و لسانی رشتے پر غور کرتے رہتے۔اس حوالہ سے ہم نے انتہائی جرائت مندی کا ثبوت دیتے ہوئے مولوی فیروز دین ڈسکوی مرحوم و مغفور کی’’ فیروز الغات‘‘(اکبری ،عکسی و اضافہ شدہ ایڈیشن) تک کو نہیں بخشا۔گھنٹوں مغز ماری کرکے ایسے الفاظ ڈھونڈ ڈھونڈ نکالے جو صوتی ، لسانی اور معنوی اعتبار سے ہمیں بے ربط لگتے تھے۔ہم نے تو ’’فیروز الغات‘‘ تک کو بدلنے کا عزم بالجزم کر لیا تھا تاہم چند در چند مجبوریوں کے باعث ایسا نہ ہو سکا۔
ایسے بہت سے االفاظ جن کے معانی ان کے، الفاظ کے، ساتھ میل کھاتے نظر نہیں آتے تھے، کی ایک طویل فہرست ہم نے مرتب کر رکھی تھی ارادہ تھا کہ اولین فرصت میں اس کام کو’ منطقی انجام‘ تک پہنچا کر دم لیں گے۔ایسے الفاظ میں ’چرخ‘ کہ جسے ہم نے کلاسیکی شعراء کے ہاں بکثرت پڑھا تھا۔ ہم جہاں بھی اسے، چرخ، کو پڑھتے فورا فیروز اللغات نکال کر اس کے معنی تلاشتے اور پھر آسمان کی طرف دیکھتے کہ ضرور اس میںکہیں کسی جگہ کوئی نہ کوئی چرخہ ہے جبھی تو اچھے بھلے آسمان کو چرخ کہہ دیا گیا۔اس وقت تک ہمیں یہی معلوم تھا کہ بقول دادی اماں چاند پر ایک بڑھیا بیٹھی صدیوں سے چرخا کات رہی ہے، سو ہم چرخ اور چرخے کی مناسبت سے نت نئی کہانیاں گھڑتے اور خود کو تسلی دیتے اور حضرت مولوی فیروز الدین ڈسکوی کے بھرم اور اپنے دل میں ان کی عظمت کے بُت کو ٹوٹنے سے بچاتے رہتے تھے۔لیکن افسوس بعدازاں یہ بھرم بھی جاتا رہا جب معلوم پڑا کہ کوئی نیل آرمسٹرنگ تو چاند سے ہو آئے ہیں،انہیں تو وہاں کوئی بڑھیا نظر نہیں آئی۔اگر آئی ہوتی تو وہ ضرور اس کا ذکر کرتے۔نیل کی اس حرکت کا سن کر ہمیں بے حد صدمہ ہوا۔پھر یہ کہہ کر دل کو تسلی دی کہ ان بد عقیدہ لوگوں کا کیا بھروسہ بھئی۔ممکن ہے بُڑھیا وہیں کہیں کسی کونے میں بیٹھی ہو،یا اس کمبخت نے بڑھیا کو دیکھا بھی ہو اور دانستہ ہمیں جھٹلانے کے لئے جھوٹ بول رہا ہو۔یہ بھی ممکن ہے کہ نیل چاند پر گیا ہی نہ ہو،کسی جزیرے پر مٹر گشتی کرتا رہا ہو اور چاند سے لوٹ آنے کا شوشہ چھوڑ دیا ہو۔عین ممکن ہے کہ بڑھیا وہیں ہو اور نیل کو نظر ہی نہ آئی ہو۔بدعقیدہ اور ملحد لوگوں کو اسرار و رموز کہاں نظر آتے ہیں۔ہمیں تو بالکل یقین نہیں۔ہو نہ ہو نیل آرمسٹرنگ کی اس کاروائی کے پیچھے کوئی سازش ہے۔اور خاص کر ہمیں بدنام کرنے کے لئے ویسے بھی اغیار ہمیشہ ہی موقعہ کی تلاش میں رہتے ہیں۔اب معلوم ہوا ہے کہ رُوسی خفیہ اداروں کا بھی یہی خیال ہے کہ نیل آرمسٹرنگ چاند پر گیا ہی نہیں۔اس بات میں ہمیں دم لگتا ہے۔رُوس بڑا اچھا ملک ہے،ہر برے وقت میں اس نے ہماری مدد کی ہے۔اس کے خفیہ ادارے بھی سنا ہے نیکو کار لوگوں سے بھرے پڑے ہیں۔اللہ اللہ!!

کالم نویس: شیخ خالد کرار
اردو کی کلاسیکی شاعری پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں 

No comments:

Post a Comment