Google+ Followers

Sunday, 9 March 2014

مشرق و مغرب کے نغمے :میراجیؔ کے مجموعۂ مضامین پر فیضؔ کی تقریظ


میراجیؔ کے مضامین کی تالیف و اشااعت کئی اعتبار سے ایک اہم ادبی واردات ہے۔ یوں تو ابھی تک میراجیؔ کی منظومات کا شیرازہ بھی بکھرا پڑا ہے اور اُن کے کلام کا کوئی تسلی بخش مجموعہ ابھی تک مدوّن نہیں ہوا۔ اُن کی زندگی میں جو متعدد مجموعے طبع ہوئے وہ بھی آسانی سے دستیاب نہیں ہوتے، لیکن دنیاے شعر میں میراجیؔ کا نام اتنا معروف ہے کہ ایک حد تک اس کمی کی تلافی ہوجاتی ہے۔ اول تو یہ ہے کہ ان کا منظوم کلام کُلّی طور سے نہیں تو جزوی طور سے بیشتر اہلِ ذوق کی نظر سے گزر چکا ہے، دوسری بات یہ ہے کہ بہت سے ادبی جرائد اور تنقیدی کتابوں میں اُن کی شاعری سے متعلق تفصیلی اور سیرحاصل بحث و تبصرہ ہوچکا ہے۔ پھر یہ ہے کہ تلاش اور تجسس سے ان کے مجموعۂ خیال کے الگ الگ اوراق یکجا بھی کیے جاسکتے ہیں۔ اسی سبب سے میراجیؔ کے منظوم کلام کا شاید ہی کوئی پہلو ایسا بچا ہوگا جس سے اُن کے نقاد غافل یا اُن کے مداح ناآشنا ہوں۔
میراجیؔ کے مضامین کی صورت اور ہے۔ یہ مضامین آج سے بیس پچیس برس پہلے لکھے گئے اور اُسی زمانے میں بیشتر ایک ہی رسالہ یعنی ’ادبی دنیا‘ میں شائع ہوئے۔ مرحوم اُن دنوں اس ادارے میں شریک تھے۔ اب سے پہلے اُنھیں کتابی صورت میں محفوظ کرنے پر کسی نے توجہ ہی نہ کی۔ نتیجہ یہ کہ جو لوگ اُس دور کے بعد ذہنی بلوغت کو پہنچے یا اُس دور میں ’ادبی دنیا‘ کے باقاعدہ پڑھنے والوں میں نہ تھے نہ صرف اُن مضامین سے مستفید نہ ہوسکے بلکہ ان کے وجود سے بھی ناواقف ہیں۔ شاید میراجیؔ کی ادبی تخلیقات کے سلسلے میں ایک آدھ ناقد نے ضمنی طور پر اُن کی نثر نگاری کا بھی تذکرہ کیا ہو۔ لیکن اس سے ان مضامین کی نوعیت اور قدر و قیمت کا قطعی اندازہ نہیں ہوسکتا۔ جدید اردو ادب کے طلبہ غالباً اتنا تو جانتے ہیں کہ میراجیؔ نثر بھی لکھا کرتے تھے لیکن اس نثر کی صحیح پہچان اب تک کسی طور ممکن ہی نہ تھی۔ اسی سبب سے میراجی مرحوم نقاد اور نثر نگار کی حیثیت سے اہلِ نظر حلقوں میں بھی زیادہ متعارف نہیں۔ چناں چہ اس مجموعے کی اہمیت کا ایک پہلو تو یہی ہے کہ اس کی اشاعت سے میراجی کی ادبی شخصیت کی یہ ادھوری تصویر ایک حد تک مکمل ہوجائے گی۔ اس شخصیت کے بارے میں بعض محدود اور یک طرفہ تصورات کی تصحیح ہوسکے گی اور مرحوم کی تخلیقی کاوشوں اور صلاحیتوں کی وسعت اور تنوع کا بہترین اندازہ ہوسکے گا۔
لیکن بات صرف اتنی نہیں ہے کہ میراجیؔ محض شاعر ہی نہیں نقاد بھی تھے یا نظم کے علاوہ نثر بھی لکھتے تھے، یہ بھی ہے کہ اُن کی نثر کی ماہیت اور فضا اُن کی نظم سے قطعی مختلف ہے۔ میراجیؔ کے ذہن کا جو عکس اُن کی نثر میں ملتا ہے، بعض اعتبار سے اُن کی شاعرانہ شخصیت کی قریب قریب مکمل نفی ہے۔ ان مضامین کی نکھری ہوئی شفاف سطح پر اُن مبہم سایوں اور غیر مجسم پرچھائیوں کا کوئی نشان نہیں ملتا جو اُن کے شعر کی امتیازی کیفیات ہیں، اُن کی تخلیق کا یہ حصہ تمام تر اُسی پاسبانِ عقل کی رہنمائی میں لکھا گیا ہے جسے وہ بظاہر عملِ شعر کے قریب نہیں پھٹکنے دیتے۔ ایک حد تک تو خیر شعر اور دلیل میں یہ فرق ناگزیر بھی ہے لیکن میراجیؔ کی تحریروں سے یہ صاف عیاں ہے کہ اُنھوں نے تنقیدی جانچ پرکھ کے لیے جذب و وجدان کے بجاے عقل و شعور کا انتخاب مجبوری سے نہیں، پسند اور ارادے سے کیا ہے۔ مختلف ادوار، اقسام اور اطراف کے ادب کی تفسیر، تفہیم اور تنقید میں وہ خالص عقلی اور شعوری دلائل و شواہد سے کام لیتے ہیں۔ موہوم داخلی کشمکش و اکراہ کا کہیں سہارا نہیں لیتے۔ اور اسی وجہ سے مشاہیر شعرا کے متعلق اُن کی تنقیدی آرا سے اختلاف کی گنجائش بھی زیادہ نہیں۔ پھر اُن مشاہیر کے کوائف، اُن کے عہد، اُن کے ادبی اور سماجی ماحول کے خدوخال کی وضاحت اور تعین میں مرحوم کی کاوش اور تحقیق بھی اسی پر دلیل ہے۔ مجھے گمان ہوتا ہے کہ اگر ان مضامین کے تنقیدی مسلک اور عقائد کی روشنی میں میراجیؔ کی شاعری کا مکرر مطالعہ کیا جائے تو شاید اُس کے بعض پہلو رائج تصورات سے مختلف نظر آئیں۔
یہ سب مضامین اُن دنوں کی یادگار ہیں جب میراجیؔ اپنے وطن یعنی شہر لاہور میں مقیم تھے۔ اُن کے لیے یہ کوئی آسائش اور فراغت کے دن نہ تھے۔ جب بھی اُن کی ادبی زندگی کا غالباً سب سے مطمئن اور پُرسکون دور یہی تھا۔ زندگی دکھی اور کٹھن جب بھی تھی لیکن اِس میں بعد کی سی سراسیمگی، خانہ ویرانی اور بے نوائی کی سی کیفیت نہ تھی۔ ان مضامین کے ٹھہراو، اِن کی سلاستِ بیان اور سلامت خیالی میں اُن دنوں کا سُراغ بھی ملتا ہے۔ یہ اندوہ گیں احساس بھی ہوتا ہے کہ اگر ہمارے اہلِ فن کی اجاڑ زندگیوں میں داخلی درد و کرب کے علاوہ جسم و جان کے تقاضے پر گلی گلی خاک چھاننا اور در در صدا دینا نہ ہوتا تو شاید جدید ادب کی تاریخ قدرے مختلف ہوتی اور اس کے بعض دلکش ابواب اتنے تشنہ اور مختصر نہ رہ جاتے۔
آخری بات یہ ہے کہ یہ تحریریں اہم علمی، تحقیقی اور تاریخی دستاویزیں ہی نہیں، ایک گراں قدر تخلیقی کارنامہ بھی ہیں، اِن کے توسط سے میراجیؔ نے جس انداز سے ادبِ عالم کے حسین نمونے ہم تک پہنچائے وہ محض ترجمہ نہیں، ایجاد ہے۔ ان کی تخلیق سے اردو ادب میں بدیسی ادب کے معروف اور غیر معروف شاہ پاروں ہی کا اضافہ نہیں ہوا بلکہ ہمارے ہم عصر ادیبوں کے فکر واحساس کی تربیت بھی ہوئی، کچھ نئی شمعیں بھی جلیں، کچھ نئے راستے بھی دکھائی دیے۔ اس مجموعے کی اشاعت سے ممکن ہوچلا ہے کہ نوواردانِ ادب کے لیے اس عمل کا پیہم اعادہ ہوتا رہے!
(فیض فہمی، مرتّبہ سیّد تقی عابدی کے توسط سے)
qqq

فیض احمد فیضؔ 

میراجی کی شاعری پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں
http://rekhta.org/poets/mira-ji

No comments:

Post a Comment