Google+ Followers

Thursday, 23 January 2014

ریختہ بردار: الیاس ملک


ریختہ نے تین سال پہلے جس سفر کی ابتدا کی تھی، اس کے دوران کئی ایسے مشفق اور مخلص احباب ملے، جنہوں نے اس اہم سفر کو کامیاب بنانے کے لیے اپنے تعاون کا ہر طرح یقین دلایا۔ایسے لوگوں میں شاعر بھی تھے، افسانہ نگار بھی اور تنقید نگار بھی۔مگر اس سفر کے راستے میں آنے والے پتھروں کو کسی بھی طرح دور کرنے کے لیے کچھ ایسے لوگوں کو بھی میں نے دیکھا، جن کو نہ تو شاعری کا دعویٰ تھا اور نہ افسانہ نگاری کا۔جو ادب کو پڑھنے سے تعلق رکھتے تھے، کہیں کچھ سطریں ادھر ادھر سے لوٹ گھوم کر ان کے خانۂ دماغ میں کتنا ہی شور مچائیں مگر ان کی ذہنی تربیت میں ادب کو ہمیشہ مطالعے کا دوسرا نام قرار دیا جاتا تھا۔ایسے لوگ جو خاموشی سے اپنا کام کرتے ہیں، جن کے یہاں لفظوں سے آشنائی کا ہنر پانی کے حسن کی طرح صیقل ہوتا رہتا ہے۔میں ایسے ہی ایک آدمی کو جانتا ہوں۔شاید فیس بک پر موجود میرے بہت سے احباب بھی ان سے واقف ہونگے۔میری مراد الیاس ملک صاحب سے ہے۔الیاس صاحب، جن سے بہت دنوں طویل گفتگو نہیں ہوئی۔جن کے اندر وضعداری، خوش مزاجی اور حقانیت کے عناصر کوٹ کوٹ کر بھرے ہوئے ہیں۔شاید بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ انہوں نے ریختہ کی خاطر بہت کچھ کیا ہے، یوں تو وہ برصغیر سے کوسوں دور لندن کے کسی رہائشی علاقے میں رہتے ہیں۔راتوں کو غالباً دیر تک جاگتے ہیں اور بلیک ٹائی سوٹ میں ملبوس ان کی کچھ تصاویر ہم سب کو دیکھنے کو ملتی رہتی ہیں۔الیاس ملک وہ واحد آدمی ہیں، جن کی کوششوں سے سب سے پہلے ریختہ پر ساقی فاروقی صاحب کاکلیات اپلوڈ کیا جاسکا۔مجھے یاد ہے، میں اوکھلا ہیڈ پر اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا تھا کہ مجھے ایک فون آیا، بات کی معلوم ہوا کہ الیاس ملک صاحب بات کررہے ہیں، انہوں نے بات کرتے کرتے مجھ سے کہا :
’’ لیجیے! ساقی صاحب سے بات کرلیجیے!‘‘
ساقی فاروقی، جن کی شاعری کی بدمعاشیت سے میں اکثر وبیشتر کبھی ’صحرا کی آواز ‘ اور کبھی’رادار‘ کے ذریعے مل چکا تھا، آج مجھ سے محو گفتگو تھے، میں نے واقعی بہت خوشی محسوس کی۔ساقی صاحب نے مجھ سے بات کی شروعات اسی جملے سے کی!
’کیوں میاں تصنیف! کیا آپ بھی ویسے ہی بدمعاش ہیں، جیسے کہ ہمارے الیاس ہیں!‘
بعد میں معلوم ہوا کہ بدمعاش، ساقی صاحب کا تکیہ کلام ہے، مگر الیاس صاحب کی بدمعاشی ریختہ کے بہت کام آئی۔ریختہ کے پہلے اجلاس میں جب کوئی بھی ایسی جدید کتاب ریختہ پر موجود نہیں تھی، جس کی وجہ سے ہم جدید ادب کی نمائندگی کرنے میں کامیاب ہوں۔ساقی صاحب کا کلیات، الیاس صاحب کی کوششوں سے ریختہ پر اپلوڈ کردیا گیا۔الیاس ملک ،اچھا خاصا لمبا سفر کرکے صرف اسی کام کے لیے ساقی صاحب کے پاس گئے تھے۔میں ادب کے لیے ان کے ایسے زبردست کمٹنٹ سے بہت متاثر ہوا۔خیر، جب ریختہ نے ای کتاب گوشہ کا اپنی رسم اجرا میں اعلان کیا تو ان محض گیارہ کتابوں میں کچھ اہم قدیم کتابوں کے ساتھ ساقی فاروقی صاحب کا کلیات’سرخ گلاب اور بدرمنیر‘ بھی موجود تھی۔اس کے بعد الیاس صاحب کی ہی کوششوں کی بدولت ہم نے ساقی صاحب کی دوسری کتاب’ہدایت نامہ شاعر‘ بھی اپلوڈ کی۔میں نہ ساقی صاحب سے ملا ہوں اور نہ مجھے ایسی کوئی امید ہے کہ ان سے میری کبھی ملاقات ہوسکے گی، مگر الیاس صاحب کی بدولت میں نے ان کی شاعری اور شخصیت دونوں کو بہت کچھ سمجھا بھی ہے اور جانا بھی۔الیاس صاحب نے ایک بار اپنی گفتگو میں بتایا کہ ساقی صاحب نے کس طرح اپنی مشہور نظم’ایک سور سے‘ لکھی ہے۔وہ کیسے اپنے گھر سے نکل کر پارک میں ٹہلتے سوروں کو دیکھا کرتے، اور ان کی ذات ،ان کی دیکھ بھال کرتے لوگوں اور ان کے نتھنوں سے گھن کھانے والی مشرقی قوم کے معاملات کا جائزہ لیتے، ان کے بیان میں مجھے ایسا محسوس ہوتا تھا، جیسے میں خود ساقی صاحب کے ساتھ چہل قدمی کرنے کے لیے نکلتا ہوں۔ان کی نظم کے ساتھ ایسی شرکت بغیر الیاس صاحب کی ایسی معلومات افزاگفتگو کے بغیر ممکن ہی نہیں تھی۔لندن جانے سے پہلے وہ اور ان کے دو اوردوست محمد یامین اور زکریا شاذ صاحب کیسے ساقی صاحب کی شاعری پر تبادلۂ خیال کرتے تھے اور کس طرح ان لوگوں کو اس اہم شاعر سے ملنے کا اشتیاق تھا، آج بھی وہ للک الیاس صاحب کے لہجے میں عود کرآتی ہے، جب وہ اس دن کا ذکر کرتے ہیں، جب وہ پہلی بار ساقی فاروقی سے ملے تھے۔الیاس صاحب نے اور بھی بہت کچھ بتایا ہے مجھے، مگر زیادہ تر باتیں دھیان کی ڈھلان سے پھسل جاتی ہیں۔میں ہوں بھی تھوڑا سا لاپروا آدمی۔
ریختہ پر ان کی خاص توجہ کا سلسلہ طویل ہے مگر بس اتنا سمجھ لیجیے کہ ظفراقبال کا شعری کلیات ’اب تک‘ ان کے اور علی زریون کے سبب آپ سب تک پہنچ سکا ہے۔اور جلد ہی چراغ حسن حسرت کا شعری کلیات اور دوسری اہم کتابیں بھی آن لائن ہوسکیں گی۔
ان میں اور مجھ میں بہت سی باتیں مشترک ہیں، وہ سماج کی بے قاعدہ پابندیوں سے ذرا سے آزاد ہیں، تھوڑے سے بذلہ سنج بھی ہیں۔بات ذرا رک رک کر کرتے ہیں مگر اطمینان اور سکون گفتگو کے خوبصورت جھروکے سے اس دوران تاکتے رہتے ہیں۔آدمی اپنی زندگی میں کچھ لوگوں کی شخصیت سے متاثر ہوتا ہے، میں بھی الیاس صاحب سے متاثر ہوں۔میں چاہتا ہوں کہ وہ کبھی انڈیا آئیں اور ہم سردی کے کسی دھوپ بھرے دن میں کسی دالان میں بیٹھے دیر تک باتیں کرتے رہیں۔ان باتوں میں شاعری کی ہلکی پھلکی بحثیں ہوں، ان کی دو چار لکھی ہوئی نظموں پر میرے مختصر تبصرے ہوں اور ہماری ہنسی کی بڑھتی گھٹتی آوازیں ہوں،جن کے کچھ حصے وہ اپنے سرد خطے کی طرف لے جائیں اور باقی گونجیں میں اپنی سماعت میں سجا بنا کر رکھ لوں۔
ریختہ ایک کام نہیں کررہا ہے، بلکہ ایک تاریخ بنا رہا ہے، میری یہ تحریر اس اہم خدمت میں الیاس ملک صاحب کے تعاون کو ایک چھوٹا سا خراج تحسین ہے، ایک اعتراف نامہ ہے، تاکہ جب وقت اس اجلے کام کو تاریخ کی دھند میں چھپانے کی کوشش کرنے لگے، میری یہ سطریں کسی نگاہ کی رسی تھام کر دھویں کے دوسرے کنارے تک پہنچ جائیں اور ان ریختہ سے جڑے ان لوگوں کے کارنامے فراموش نہ ہوسکیں جو ہمارے لیے ریڑھ کی ہڈی کی سی حیثیت رکھتے ہیں۔ الیاس ملک ہی تھے جو شروع شروع میں مجھ سے کہا کرتے تھے کہ ’تصنیف صاحب۱ فکر نہ کریں! ابھی اس کام میں آپ خود دیکھیں گے کہ کیسے کیسے ادیب شریک ہوتے جائیں گے!‘ اور ان کے کلمات حق ثابت ہوئے۔ہمیں اپنے پہلے سال کے سفر میں ہی اردو ادب کے بیشتر اہم لکھنے والوں کی خدمات حاصل ہوئیں۔بہترین رسالے ریختہ پر بہم کیے جاسکے اور اہم ناشرین نے اپنی خدمات سے ریختہ کو بہرہ ور ہونے کا موقع دیا۔میں اور پوری ریختہ ٹیم ان کی محبتوں،عنایتوں اور خلوص کے لیے بے حد شکر گزار ہے۔

مضمون نگار: تصنیف حیدر

ساقی فاروقی کا شعری کلیات پڑھیے
http://rekhta.org/ebooks/surkh-gulaab-aur-badr-e-muniir-saqi-faruqi-uncategorized

ظفر اقبال کا شعری کلیات پڑھیے
http://rekhta.org/ebooks/ab-tak-volume-1-zafar-iqbal-uncategorized
http://rekhta.org/ebooks/ab-tak-volume-2-zafar-iqbal-uncategorized
http://rekhta.org/ebooks/ab-tak-volume-3-zafar-iqbal-uncategorized
http://rekhta.org/ebooks/ab-tak-volume-4-zafar-iqbal-uncategorized

No comments:

Post a Comment