Google+ Followers

Wednesday, 28 May 2014

میری بنیادی شناخت ادب کے ایک قاری کی ہے: آصف فرخی


فرائیڈے اسپیشل:آپ افسانہ نگار ہیں، مترجم، نقاد اور مدیر بھی ہیں، کبھی کبھی آپ ہمیں اینکر بھی نظر آتے ہیں۔ آپ اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں بیک وقت لکھتےہیں۔ آپ کی فیلڈ آف اسپیشلائزیشن یعنی آپ کی شناخت کیا ہے؟
ڈاکٹر آصف فرخی: میری بنیادی شناخت اگر کوئی ہے، جس پر ایک سوالیہ نشان ہے، وہ پہلی شناخت ہے۔ اور جس پر مجھے اصرار ہے وہ ایک پڑھنے والے کی ہے۔ ادب کے ایک قاری کی ہے۔ ایک ایسا شخص جو ادب میں گہری دلچسپی رکھتا ہے۔ ایسا شخص جس کے لیے ادب زندگی کا بہت اہم حصہ ہے، جس کے بغیر زندگی کا کوئی تصور نہیں کرسکتا۔ بنیادی بات یہ ہے کہ مجھے اپنے پڑھنے پر بہت اصرار ہے۔ یہ میرا شوق ہے۔ اس کے بعد تھوڑا بہت اپنی بساط کے لحاظ سے لکھنا ہے۔ یہ ضرور ہے کہ میں نے کئی اصناف میں کوشش کی۔ شاید اس لیے کہ یہ اپنا راستہ ڈھونڈنا، اپنے طرز اظہار کی جستجو، اپنی دریافت کا ایک عمل ہے۔ اس حوالے سے اصناف سامنے آتی رہی ہیں۔ بعض دفعہ یہ ہوتا ہے کہ وفاداری بشرط استواری کے قائل ہوتے ہیں۔ جیسا کہ اگر آپ افسانہ نگار ہیں تو تنقید نہ لکھیں، اور تنقید نگار ہیں تو ڈراما نہیں لکھنا چاہیے۔ چونکہ میں سب چیزیں پڑھتا ہوں اور ان میں دلچسپی لیتا ہوں، اس لیے کوشش یہ کرتا ہوں کہ خود کو آزما کر دیکھوں۔ لیکن ہر بار اس آزمائش میں پورا نہیں اترا۔ ایک آنچ کی کسر رہ جاتی ہے۔ یہی چیز مجھے لکھتے رہنے پر مجبور کرتی ہے۔ میں چونکہ ایک بہت کمزور اور بے بس ادیب ہوں اسی لیے کسی ایک صنف پر ٹک کر نہیں بیٹھ سکا۔ ہر بار یہ کوشش کی کہ صنف مجھے وہ طاقت دے دے جو میرے لکھنے میں نہیں۔ ابتدا میں نے شاعری سے کی، مگر شاعری میرے پلے میں زیادہ تھینہیں۔ پھر نثر کی طرف آیا۔ افسانے لکھے۔ کچھ تھوڑی بہت تنقید لکھی۔
فرائیڈے اسپیشل: کبھی آپ کو یہ خیال نہیں آیا کہ آپ نے اپنے آپ کو اتنا زیادہ پھیلا لیا ہے؟ کسی ایک صنف پر اپنی توجہ مرکوز کرنی چاہیے؟
ڈاکٹر آصف فرخی: ہاں! کئی بار یہ خیال آیا اور کسی ایک صنف پر فوکس (مرتکز) کرنے کی کوشش بھی کی، مگر کامیاب نہ ہوسکا۔ ہر افسانہ نگار کی طرح میں بھی یہ چاہتا تھا کہ ایک ناول لکھوں، اور ناول لکھنے کے لیے جس ارتکاز، فرصت اور زندگی کے جس تجربے کی ضرورت ہوتی ہے وہ کبھی میسر نہیں آیا۔ کئی بار ایسا ہوا کہ ناول بننا شروع ہوا اور بنتے بنتے رہ گیا۔ دو باب لکھے، تین باب لکھے، نوٹس لکھے لیکن ناول نہیں لکھ سکا۔ اس کی بنیادی وجہ ارتکاز کی کمی تھی۔ یہ قلق رہے گیا۔ میں یہ بھی چاہتا تھا کہ تنقید کے حوالے سے ایک مستقل کتاب لکھوں۔ کم از کم تین موضوعات تو ایسے ہیں جن پر میں لکھنا چاہتا تھا۔ محمد حسن عسکری صاحب کے تنقیدی عمل پر کوئی مفصل کتاب لکھنا چاہتا تھا۔ میں چاہتا ہوں کہ  انتظار حسین صاحب کی خدمات پر ایسا کام کرجائوں جو قابل ذکر ہو (میں نے ان پر ایک مختصر کتاب لکھی ہے)۔ ایک ادیب ایسا بھی ہے جسے میں نے بہت دل لگا کر پڑھا ہے اور جن سے میری ذاتی واقفیت بھی رہی ہے۔ ان سے فن کے اسرار و رموز سمجھتا ہوں۔ وہ ہیں حسن منظر۔ لیکن معاشرے میں ان کی وہ پذیرائی نہیں ہوئی جو ہونی چاہیے تھی۔ ان کے حوالے سے لکھنا چاہتا ہوں۔ کیا پتا کبھی لکھ لوں!
فرائیڈے اسپیشل: مجنوں گورکھ پوری نے اپنے ایک تنقیدی مضمون میں لکھا تھا کہ پاکستان میں ادیب کم، اور ادب کے خوردہ فروش زیادہ پیدا ہورہے ہیں۔ بیس سال بعد جب ان سے یہ سوال کیا گیا کہ کیا اس میں کچھ بہتری آئی؟ تو انہوں نے کہا: نہیں! خوردہ فروشوں کی تعداد بڑھ گئی ہے۔ آج 2014ء میں آپ ان کے اس خیال سے کتنا اتفاق کرتے ہیں؟
ڈاکٹر آصف فرخی: دیکھیں میں تو اپنے ہی خیالات سے نامتفق ہوں۔ مجنوں صاحب کا بیان مجھے یاد نہیں۔ ممکن ہے کہ میں نے کبھی پڑھا ہو۔ لیکن اس خیال کے ذمہ دار وہ ہیں، میں نہیں۔ ویسے بھی مجھے یہ بات سمجھ میں نہیں آئی کہ وہ کس بات پر اعتراض کررہے ہیں؟
فرائیڈے اسپیشل:آپ کے خیال میں پاکستان میں آج ادب کس مقام پر ہے؟ لوگ ادب نہیں پڑھتے، ادبی کتابیں خال خال ہی بکتی ہیں۔ پہلے ہزار کتابیں چھپتی تھیں، پھر پانچ سو چھپنے لگیں، اور اب تین سو چھپتی ہیں۔ آپ کی نظر میں ادب کے زوال کی  وجہ کیا ہے؟
ڈاکٹر آصف فرخی: آپ نے ایک ساتھ تین سوالات کردیے۔ تینوں سوالوں کے الگ الگ جواب دوں گا۔ پہلے کتاب کی اشاعت پر بات کرلیتے ہیں۔ آپ نے کہا کہ کتاب کی اشاعت کم ہوئی ہے اور اس کے پڑھنے والے کم ہوگئے ہیں۔ یہ بات درست ہے کہ کتاب کی اشاعت کم ہوگئی ہے۔ ہمارے اشاعتی ادارے بھی یہی گلہ اور شکوہ کرتے ہیں کہ پڑھنے والوں کی تعداد کم ہوگئی ہے۔ اب کتابیں کم فروخت ہوتی ہیں۔ یہ بہت ہی حیرت انگیز اور دلچسپ بات ہے کہ پاکستان میں آبادی کا تناسب جیسے جیسے بڑھتا جارہا ہے، پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ اس تناسب سے نہیں ہورہا۔ جس تیزی سے شرح خواندگی کو ہم کاغذوں میں بڑھاتے ہیں وہ شرح خواندگی قارئین کی تعداد میں تبدیل نہیں ہوتی۔ وہ ٹرانسفارمیشن نہیں ہوتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں دو طرح کے لوگ ہیں۔ اول وہ جو پڑھنا نہیں جانتے، اور دوم وہ جو پڑھنا نہیں چاہتے۔ یعنی ایک لفظ illiteracy ہوتا ہے۔ اس کے مقابلے میں انگریزی میں ایک لفظ بنایا گیا ہے a literacy ۔ یعنی وہ لوگ جو پڑھ سکتے ہیں۔ ہمارے معاشرے میٰں ایسے لوگوں کی بڑی تعداد ہے۔ میں اس میں یہ بھی اضافہ کردوں گا کہ ہمارے معاشرے میں ایسے لوگوں کی بھی بہت بڑی تعداد ہے جو پڑھنا نہیں چاہتے۔ معاصر ادب سے پوری طرح واقف نہیں ہیں۔ آپ اگر اُن کے سامنے کوئی اچھا ناول رکھ دیں، شاعری کا کوئی نیا مجموعہ رکھ دیں تو تنقید اور تفہیم کے جو بنیادی اوزار ہوتے ہیں وہ اُن کے پاس نہیں ہوں گے۔ وہ اس کو سمجھ نہیں پائیں گے۔ محسوس نہیں کرسکیں گے۔ اس کی بنیادی اور اصل وجہ یہ ہے کہ ہمارا معاشرہ بڑی تیزی کے ساتھ جہالت کو فروغ دے رہا ہے۔ اس میں بنیادی کردار ہمارے ادبی نصاب اور نظام تعلیم کا ہے۔ جو تعلیم ہمیں دی جاتی ہے، وہ بڑی ناقص ہے۔ اس سے ادب کی سمجھ، اس کی تفہیم اور اس کا زندگی میں جو مقام ہے وہ احساس پیدا نہیں ہوتا۔ اس لیے کتابوں کی اشاعت کیسے بڑھے گی؟ مگر یہ صورت حال بلیک اینڈ وائٹ بھی نہیں ہے۔ ایک عجیب چیز میں یہ دیکھتا ہوں کہ مجھے تھوڑے بہت ایسے پروگراموں میں شرکت کا موقع ملتا ہے جن میں کتابوں یا ادب کے حوالے سے گفتگو ہوتی ہے، جہاں میں یہ دیکھتا ہوں کہ لوگ جوق در جوق آتے ہیں، کتابیں خریدتے ہیں، مصنفوں سے دستخط کراتے ہیں، ان سے ملتے ہیں اور یہ شکایت کرتے ہیں کہ جناب ایسے مواقع کم ملتے ہیں۔ اب ساری بات لوگوں پر ڈال دینے کے بجائے یہ بھی تو دیکھیے کہ خود اس شہر میں، میں جب چھوٹا تھا یا طالب علم تھا تو صدر کے علاقہ میں کتابوں کی بے انتہا دکانیں تھیں۔ 20،25 دکانوں کے نام تو میں گنوا سکتا ہوں کہ جہاں میں جاتا تھا، کتابیں دیکھتا تھا، دیکھتا زیادہ تھا کیونکہ میری قوتِ خرید کم تھی۔ طالب علم تھا۔ اتنے پیسے نہیں ہوتے تھے۔ بہت شوق سے ان کے چکر لگایا کرتا تھا۔ اب صدر کے علاقہ میں کتابوں کی کتنی دکانیں ہیں؟ دوسرا بڑا المیہ یہ ہے کہ ہمارے یہاں کتابوں کی فروخت اور ان کی مارکیٹنگ کو جدید خطوط پر استوار نہیں کیا گیا۔ کراچی کتنی بڑی آبادی کا شہر ہے۔ اس میں اردو کتابوں کی دکانیں کتنی کم ہیں۔ اس شہر میں چرس اور ہیروئن خریدنا آسان ہے لیکن کتابیں خریدنا بہت مشکل ہے۔ مجھے اردو کی کتابیں خریدنا ہوتی ہیں تو میں لاہور یا اسلام آباد سے آسانی سے خرید لیتا ہوں، کیونکہ کراچی میں کتابوں کی دکانیں اردو بازار کے علاقہ تک محدود ہیں۔ اردو بازار آنا جانا، وہا رکنا، ٹھیرنا بے انتہا مشکل ہے۔ (ہنستے ہوئے) مشتاق یوسفی صاحب مجھ سے کہتے ہیں کہ اردو بازار جانے کے لیے ایک ہی سواری مناسب ہے، وہ ’’ٹینک کی سواری‘‘ ہے۔ اس لیے ہم نے کتابوں کی ترویج، ان کی فروخت اور انہیں دوسرے لوگوں تک پہنچانے کے لیے کوئی انتظام نہیں کیا۔ الٹا یہ گلہ کرتے ہیں کہ ادیب مفلوک الحال نہیں رہا۔ کتاب پڑھنے والے کم ہوگئے۔ اس المیہ کا ذمہ دار کون ہے؟ ہم اپنے گریبان میں بھی تومنہ ڈال کر دیکھیں۔
فرائیڈے اسپیشل: کیا ٹیلی ویژن اور بعد ازاں انٹرنیٹ کا آنا بھی کتابیں کم پڑھنے اور چھپنے کی وجہ بنا ہے، یا آپ یہ سمجھتے ہیں کہ یہ تاثر غلط ہے، حالانکہ مغربی دنیا جہاں سے یہ چیزیں آئی ہیں وہاں تو پڑھنے کا رجحان آج بھی وہی ہے؟
ڈاکٹر آصف فرخی: اب مغرب میں ایسا نہیں ہے۔ وہاں کتابیں پڑھنے والوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔ انٹرنیٹ، ٹیلی ویژن اور دوسرے ذرائع ابلاغ کو ہم نے کتاب سے دوری کا ایک بہانہ بنا لیا ہے۔ وہ جو غالب نے کہا تھا کہ:
وامائندہ شوق تراشیدہ پنائے
کیونکہ اصل مسئلہ شوق ہے۔ اور یہ حقیقت ہے کہ ہم پڑھنا ہی نہیں چاہتے۔ جب ٹیلی ویژن اور انٹرنیٹ نہیں تھا تو پڑھنے والے لوگوں کی تعداد کیوں کم ہوتی جارہی تھی؟ ایک تو یہ بات ہے۔  ایک بات یہ بھی ہے کہ میں ٹیلی ویژن کی بات نہیں کرتا، انٹرنیٹ کی بات کرتا ہوں۔ انٹرنیٹ پر بھی بنیادی عمل ریڈنگ ہی ہے۔ انٹرنیٹ پر آپ جو صفحہ دیکھتے ہیں، اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ پڑھ رہے ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ کتابوں سے ہمارا تعلق ہے، انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن سے نہیں۔ بعض جگہ ایسی صورت حال بھی ہوتی ہے کہ انٹرنیٹ اور ٹیلی ویژن کتاب کے فروغ کا بھی سبب بنتے ہیں۔ امریکہ میں ٹیلی ویژن کا مشہور پروگرام ہے۔ اوپرا ونفرے جو مشہور ٹی وی اینکر ہے، اس کا پروگرام ہوتا ہے۔ وہ اپنے ہر پروگرام میں ایک کتاب کا ذکر کرتی ہیں۔ گزشتہ دنوں انہوں نے ایک چالیس پچاس سال پرانے ادیب جان اسٹائن بیک کا ذکر کیا، جو مرچکا ہے۔ اس کی کتاب East of Eden اٹھائی جو اس کی مشہور ترین کتابوں میں سے نہیں۔ اس کی اہم کتاب Grapes of Wrath ہے (یہ وہ اسٹائن بیک ہے جس کی چھوٹی سی کتاب The Perl کا ترجمہ ممتاز شیریں نے درشہوار کے نام سے کیا تھا۔ بے حد خوبصورت ترجمہ ہے)۔ وہ کتاب اس ٹیلی ویژن شو میں آنے کے بعد بیسٹ سیلر بن گئی۔ لاکھوں کی تعداد میں لوگوں نے اس کتاب کو پڑھنا شروع کیا اور کہا کہ واہ صاحب کتنی عمدہ کتاب ہے۔ اس کتاب کو تو نظرانداز کیا گیا۔ اسی طرح ایک اور کتاب کا حوالہ دوں گا۔ آج کل امریکہ میں جس ناول کی تعریف ہورہی ہے اس کا نام ’’اسٹونر‘‘ ہے۔ یہ ناول 1965ء میں شائع ہوا تھا۔ ناول لکھنے والا بھی مرگیا۔ اسے کئی ایوارڈ بھی ملے۔ اب نیویارک ٹائمز میں اس ناول پر تبصرہ چھپا کہ یہ تو امریکی کلاسک ہے اسے کیسے نظرانداز کیا گیا تو ذرائع، ادب کی دریافت کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ آپ یہ بتائیے کہ ہمارے یہاں اتنے پروگرام ہوتے ہیں، ان میں ہر فعل سے لے کر کوکنگ، بیوٹیشن، شادی کرنے اور طلاق دینے کے طریقے اور دیگر تمام چیزوں پر بات ہوتی ہے لیکن کتاب پر بات نہیں ہوتی۔ کتاب کے بارے میں ایک آدھ پروگرام ہوا بھی، میں نے بھی کچھ پروگرام کیے لیکن نہیں چلے اور بالآخر انہیں بند ہی کرنا پڑا۔ جب ہم کتاب سے دلچسپی ہی نہیں رکھتے تو گلہ کس بات کا کرتے ہیں؟ صرف انٹرویو کرنے کی خاطر ادب کا گلہ کریں، شاید یہ بہت آرام دہ صورت حال ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: عام طور پر ادب اور معاشی خوش حالی… یہ دو متضاد چیزیں ہیں، لیکن آپ سے اور اکا دکا دوسرے ادیبوں سے مل کر یہ تاثر بالکل زائل ہوجاتا ہے کہ ادب اور معاشی خوش حالی ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ برائے مہربانی اس پر اپنا نکتہ نظر بیان فرمادیں۔
ڈاکٹر آصف فرخی:(ہنستے ہوئے) آپ نے خوب سوال پوچھا ہے۔ مجھے نہیں معلوم تھا کہ انٹرویو کے ساتھ ساتھ آپ انکم ٹیکس کے محکمہ کے لیے بھی کام کرتے ہیں۔ آپ کہیں تو انکم ٹیکس کے محکمے کی فائل بھی پیش کردوں۔ اصل میں ادیب کے مفلس ہونے یا مفلوک الحال ہونے کا تصور رومانوی ہے۔ آپ کو شاید اس شہر کے بہت سے ادیبوں سے ملاقات کا شرف حاصل نہیں ہوا، کاش کہ ہوتا۔ آپ نے ان کے گھر دیکھے ہوتے! لیکن میں اس حوالے سے کوئی دفاعی بیان نہیں دینا چاہتا۔ میں ایک درمیانے طبقے کی زندگی گزار رہا ہوں۔ اب اگر آپ یہ سوال کریں کہ جو کچھ ہے وہ کیسے حاصل کیا؟ تو آپ کو بتاتا چلوں کہ یہ سب کچھ میں نے اور میری اہلیہ نے برسوں کی محنت سے حاصل کیا ہے۔ آپ کو میں نے اپنے ہاتھوں سے چائے بنا کر پلائی ہے، شاید اس شہر کے بہت سے ادیبوں کے گھر آپ کو اس سے زیادہ آسودگی ملے گی۔ اس کے بارے میں کیا بات کی جائے؟ یہ تو ایک عمومی سا سوال ہے۔ آپ وضاحت کے ساتھ کوئی بات پوچھ لیجیے۔
فرائیڈے اسپیشل: کہنے کا مقصد یہ ہے کہ خیال یہ کیا جاتا ہے کہ ایک ادیب کو ایک ادیب کی طرح زندگی گزارنا چاہیے۔ کیونکہ اس کی ترجیح میں ادب ہوتا ہے، اور ادب کے بعد اس کے پاس اتنا وقت نہیں ہوتا کہ وہ مال کمانے یا اپنے آپ کو معاشی طور پر مضبوط کرنے کے لیے وقت نکالے۔
ڈاکٹر آصف فرخی:دیکھیے! ہم لوگوں نے یہ تصور کرلیا ہے کہ ادیب بہت مفلوک الحال ہو۔ ساری زندگی روتا پیٹتا رہے۔ اس لیے کہ معاشرہ ادیب کی ذمہ داریوں کو پورا نہیں کرتا۔ یہ بات میرؔ و سوداؔ سے لے کر غالب، اقبال اور پھر آج کے عہد تک آتی ہے۔ ہم ادیب سے یہ مطالبہ تو کرتے ہیں کہ فلاں چیز لکھو، فلاں رویہ ہونا چاہیے، فلاں نظریے پر کاربند ہونا چاہیے، لیکن معاشرے نے کبھی سوچا ہے کہ اس نے ادیب کو کیا دیا ہے؟ معاشرہ ادیب کو لکھنے کی فراغت اور قلم سے روزی روٹی کمانے کی سہولت بھی نہیں دیتا۔ جس آدمی نے قلم سے روزی روٹی کمائی، وہ بڑا قابلِ عزت نام ہے، مجھے امید ہے آپ اس کا نام لکھیں گے۔ کیونکہ میں اسے بہت لائقِ احترام سمجھتا ہوں۔ وہ سعادت حسن منٹو ہے اور اس معاشرے نے سعادت حسن منٹو کے ساتھ جو سلوک کیا، اسے بھی یاد کریں تو ہم معاشرے کے طور پر ایسے لوگوں سے آنکھ بند کرلینا چاہتے ہیں۔ ہم یہ چاہتے ہیںکہ معاشرہ انہیں قلم کے ذریعہ روزی روٹی بھی نہ کمانے دے اور وہ مفلوک الحال نظر آئیں۔ میرا ایک بہت بڑا المیہ یہ ہے کہ زندگی میں میرا پیشہ ادب نہیں رہا۔ ادب سے محفوظ میں مختلف راہ پر کاربند رہا۔ آپ یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ محفوظ رہا۔ میں نے اپنی زندگی ادب کے ذریعے نہیں بنائی۔ اس کا فائدہ یہ ہوا کہ مجھے آسودگی مل گئی اور نقصان یہ ہوا کہ میں ارتکاز کے ساتھ کچھ نہیں لکھ پایا۔ آپ کو میری جو سماجی صورت حال نظر آرہی ہے وہ میرا المیہ ہے، میری مجبوری ہے۔ یہ میری ناکامی ہے۔ It’s My tragic failure، یہ خوش ہونے کی بات نہیں بلکہ اس پر افسوس ہونا چاہیے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ نے کئی سال پہلے پاکستان ٹیلی وژن پر محمد عسکری پر نشر ہونے والے پروگرام میں کہا تھا کہ آپ کو مغربی ادب کی تنقید لکھنے والے محمد حسن عسکری تو سمجھ میں آتے ہیں مگر مابعدالطبعیات کی طرف راغب ہونے والے حسن عسکری صاحب سمجھ میں نہیں آتے۔ سوال یہ ہے کہ مابعدالطبعیات یا مذہب میں ایسی کیا بات ہے کہ جس کی طرف عسکری صاحب کی رغبت آپ سمجھ نہیں پاتے؟
ڈاکٹر آصف فرخی: آپ نے جو سوال کیا ہے اور جہاں تک میں اسے سمجھ سکا ہوں اس کا سیدھا سا جواب یہ دوں گا کہ ’’مذہب یا مابعدالطبعیات‘‘ میں کوئی ایسی بات نہیں۔ یہ بات عسکری صاحب میں ہے۔ ان کے ذہنی سفر کے اس حصہ کو میں سمجھ نہیں پایا اور اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ عسکری صاحب کی تحریر یا فکر گنجلک تھی یا پیچیدہ تھی۔ میں اس فکر کا ساتھ نہیں دے سکتا۔ اس لیے کہ مابعد الطبعیات اور مذہب کے بارے میں میری ذہنی تربیت اس طرح نہیں ہوئی۔ مذہب پر مجھے انگریزی کے بہت بڑے نقاد ایف آرلیوس (جو عسکری صاحب کو بہت پسند تھا) کا ایک فقرہ یاد آرہا ہے، جسے عسکری صاحب کی زبانی کہیں سنا تھا۔ اس نے تحریروں میں کہیں لکھا ہے کہ ’’کاش مجھے اتنی مابعدالطبعیات آتی جسے میں اپنی تحریروں سے دور رکھ سکتا۔‘‘ تو ناسمجھی میں بہت سی مابعدالطبعیات آجاتی ہے۔ میرا چونکہ اس کا مطالعہ نہیں ہے اس لیے عسکری صاحب جس راستے پر لے جارہے ہیں میں اس راستے پر ان کے پیچھے نہیں چل سکا۔ خرابی ان کی رہنمائی میں نہیں ہے۔ طالب علم بھی تو بدشوق ہوسکتا ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:آپ ان کی صحبت میں بھی رہے۔ آپ کے والد اسلم فرخی بھی تصوف کے سلسلے سے وابستہ ہیں۔ صحبت کا اثر تو ہوتا ہے؟
ڈاکٹر آصف فرخی: میں آپ کو اس کا جواب دیتا ہوں۔ آپ اسے اسی طرح لکھیے گا۔ پہلی بات تو یہ کہ مجھے حسن عسکری صاحب کی خدمت میں چند بار حاضر ہونے کا موقع ملا اور میں نے ایک طالب علم کی حیثیت سے ان سے استفادہ کی کوشش کی۔ انہیں دیکھا۔ انہیں سنا۔ ان سے ملا۔ لیکن ان کا قریبی رفیق نہیں بن سکا۔ ظاہر ہے کہ عمر اور مرتبے میں بہت فرق تھا۔ وہ بعض باتیں مجھے بتاتے تھے اور میں بے وقوفی میں ان سے بہت سے سوالات کرتا تھا کہ جناب ’’آگ کا دریا‘‘ کے بارے میں سمجھ میں نہیں آیا، یا مجھے فنی گن ویب پڑھا دیجیے۔ تو اس لیے میں اُن کا خاطر خواہ حق ادا نہیں کرسکا۔ اُس وقت میں انٹرمیڈیٹ سالِ اول کا طالب علم تھا جب انہوں نے مجھے اپنے گھر بلایا تھا۔ دوسری بات آپ نے والد کے حوالے سے کہی۔ ظاہر ہے کہ مجھ پر میرے والد کا بہت گہرا اثر رہا ہے۔ اتنا اثر رہا ہے کہ بعض معاملات میں، مَیں انہیں سمجھ بھی نہیں پاتا کہ وہ اثر کہاں ختم ہوتا ہے اور میںکہاں شروع ہوتا ہوں۔ لیکن یہ بات بڑی دلچسپ ہے کہ آپ نے یہ کیسے تصور کرلیا کہ والد کے مذہبی خیالات کا مجھ پر اثر کچھ نہیں ہے؟ اور ویسے بھی مذہب سے تعلق ایک ذاتی اور نجی معاملہ ہے۔ آپ نے فرض کرلیا کہ میرا مذہب سے کوئی تعلق نہیں ہوگا۔ حالانکہ میں نے اپنے والد سے بڑی سخت محنت اور دیانت کا سبق سیکھا۔ وہ اپنے اصولوں پر چلتے رہے۔ اس پر قائم ہیں۔ انہوں نے زندگی سے سہولت اور مراعات کا راستہ اختیار نہیں کیا۔ پاکستان آنے کے بعد انہوں نے مشکل طریقے سے بہت معمولی اور ابتدائی طریقے سے کام شروع کیا۔ اپنے بہن بھائیوں کی پرورش کی۔ سخت ترین محنت کی۔ اتنی محنت کہ ان کی صحت خراب ہوگئی اور دل کے مریض بن گئے، لیکن دیانت پر اور اپنے اصولوں پر وہ قائم رہے۔ میں نے پہلا بڑا سبق یہ سیکھا۔ دوسرا بڑا سبق جو میں نے ان سے سیکھا اور جس کے لیے میں ان کا بڑا شکر گزار ہوں وہ ادب اور زندگی کا تعلق ہے۔  ابا کے نزدیک جو آدمی شعر نہیں پڑھ سکتا یا جس کی گفتگو میں اشعار کے حوالے نہ ہوں، اسے وہ پڑھا لکھا آدمی نہیں سمجھتے تھے۔ میرے والد کا تصوف کے سلسلہ میں بھی بہت مطالعہ ہے اور صرف علمی نہیں بلکہ عملی تعلق بھی ہے۔ نظام الدین اولیاؒ کے حوالے سے ان کا بہت کام ہے۔ کتابیں بھی ہیں۔ اور اس حوالے سے نہ تو وہ خود بات کرتے ہیں اور نہ ہی بات کرنا پسند کرتے ہیں۔ اس لیے مذہب اور عقیدہ میرا نجی معاملہ ہے۔ اب کسی محفل میں اگر آپ ایک ادیب کی حیثیت سے میرا انٹرویو کررہے ہیں اور یہ میرا کورٹ مارشل نہیں ہے تو میرے کام کے بارے میں بات کیجیے۔
فرائیڈے اسپیشل: آپ کے نزدیک حسن عسکری صاحب اور سلیم احمد صاحب کی اردو ادب میں کیا خدمات ہیں؟
ڈاکٹر آصف فرخی: میں آپ کے اس سوال سے اپنی بریت کا اظہار کردوںکہ مجھے یہ سوال اس لیے اچھا نہیں لگا کہ ہمارے یہاں ایک نیا رجحان پیدا ہوگیا ہے کہ حسن عسکری صاحب اور سلیم احمد صاحب کو ایک ہی لکڑی سے ہانکا جائے۔ گویا وہ ایک ہی طرح کے تھے۔ حالانکہ دونوں بہت ہی مختلف لکھنے والے ہیں۔ دونوں کی جداگانہ حیثیت ہے۔ دونوں اپنی اپنی جگہ بہت منفرد ہیں مگر بہت مختلف ہیں۔ تو دونوں کو ایک ہی جیسا بناکر نہ دیکھا جائے۔ عسکری صاحب کے بارے میں تو میں نے شاید لکھا بھی ہے۔ اور جب عسکری صاحب کے بارے میں بات کریں تو صرف ان کے بارے میں بات کریں، سلیم احمد کے بغیر۔ عسکری صاحب کی کئی حیثیتیں ہیں۔ پہلی حیثیت افسانہ نگار کی ہے۔ ان کی شہرت افسانہ نگار کی حیثیت سے ہوئی۔ انہوں نے اپنی پوری زندگی میں کل 11 افسانے لکھے۔کاش انہوں نے مزید افسانے لکھے ہوتے اور ناول لکھا ہوتا، کیونکہ ناول کے بارے میں بھی ان کی جو طرز نظر اور جو انداز تھا، وہ ناول کے بہت بڑے نقاد تھے۔ کاش ناول لکھا ہوتا، لیکن نہیں لکھا۔ جو کچھ لکھا ہے وہی بہت ہے۔ ان کے افسانے بہت منفرد ہیں۔ ان میں خوف کا رنگ بھی ہے اور زندگی کا گہرا مشاہدہ بھی۔ ایک گہرے اضطراب کی بھی کیفیت ہے جو ان افسانوں کے بین السطور میں اس طرح سے ظاہر ہوتی ہے جو انہوں نے اپنے افسانے کے مجموعے میں پہلے مضمون کا اختتامیہ لکھا ہے… جزیرہ کا اختتامیہ، وہ کمال کی تحریر ہے۔ مجھے تو ایسا لگتا ہے کہ اختتامیہ بھی ایک افسانہ ہے جس کا اصل کردار محمد حسن عسکری ہے۔ اس طرح وہ افسانہ نگار عسکری کی نقاد عسکری پر بہت بڑی فتح ہے۔ نقاد کی حیثیت سے عسکری صاحب نے انکشاف اور بصیرت کے نت نئے راستے دریافت کیے۔ انہوں نے ادب کو پڑھنے اور اس میں ڈوب کر زندگی کی معنویت کو تلاش کرنے کا جو طریقہ اپنے مضامین کے ذریعے وضع کیا، میں سمجھتا ہوں کہ اس سے بصیرت کے نت نئے راستے دریافت کیے۔ انہوں نے ادب کو پڑھنے اور اس میں ڈوب کر زندگی کی معنویت کو تلاش کرنے کا جو طریقہ اپنے مضامین کے ذریعے وضع کیا، میں سمجھتا ہوں کہ اس سے زیادہ بصیرت افروز تنقید کسی نے نہیں لکھی۔ عسکری صاحب میں ایک اور بہت بڑی بات ہے جس سے لوگ گھبراتے بھی ہیں لیکن میں اسے ان کی بہت بڑی کامیابی سمجھتا ہوں کہ جس طرح ان کی فکر کی ترقی اور نشوونما ہوتی رہی، انہوں نے اپنی آرا کو غلط ثابت کیا، اس سے خود ہی اختلاف کیا۔ ہمارے یہاں تو لوگ بہت جلدی قطب بن جاتے ہیں اور اپنے گرد مرید جمع کرلیتے ہیں، لیکن عسکری صاحب نے ہر بت کو توڑا جس میں ان کا اپنا بت بھی شامل تھا۔ اپنی باتوں کو غلط بھی کہا اور بعض ایسے راستوں پر چلے جو ان کے عقیدت مندوں کو قابل قبول معلوم نہیں ہوتے۔
فرائیڈے اسپیشل: سلیم احمد صاحب کی تنقید، شاعری اور افسانہ نگاری پر آپ کی کیا رائے ہے؟
ڈاکٹر آصف فرخی: ان کا اپنا مقام ہے۔ پہلے تو میں ذاتی حوالے سے بات کروں گا۔ سلیم احمد صاحب کو میں نے بچپن سے دیکھا، بہت قریب سے دیکھا۔ میرے والد صاحب کے وہ دوست تھے۔ شہر میں انہیں سلیم بھائی کہا جاتا تھا۔ میں شاید واحد آدمی ہوں جو انہیں سلیم بھائی نہیں بلکہ سلیم چچا کہتا تھا۔ وہ اس بات پر بہت ہنستے تھے اور کہتے تھے کہ اردو ادب میں ایک چچا بھتیجے اس سے پہلے بہت مشہور ہوئے، تم میرے ساتھ وہ سلوک نہ کرنا۔ وہ چچا تھے غالب اور بھتیجے یاس یگانہ چنگیزی، جنہوں نے غالب شکن لکھی اور صحیح معنوں میں غالب کو چچا بنا کر چھوڑا۔ تو سلیم احمد میرے لیے نہایت ہی قابلِ احترام تھے۔ ان کے یہاں جو محفل جمتی تھی میں اُس میں ایک طالب علم کی حیثیت سے شریک ہوتا تھا۔ ریڈیو پر ان کے ساتھ بہت سے پروگراموں میں شریک رہا۔ ان سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملا۔ سلیم احمد میں ایک حیرت انگیز صلاحیت تھی جو ان کے بعد میں نے شاید کسی آدمی میں دیکھی ہو، وہ یہ کہ وہ معمولی طالب علم یعنی مجھ جیسے کو بھی ذہانت پر آمادہ کرتے تھے، اکساتے تھے کہ سوچو، یہ بات کہو۔ طاہر مسعود صاحب جن کا آپ نے پچھلی بار حوالہ دیا تھا، ہماری دوستی بزم طلبہ سے شروع ہوئی اور ہم وہیں سے سلیم احمد کے عقیدت مند بنے۔ انہوں نے کہا کہ تم بزم طلبہ میں ادبی پروگرام میں آئو۔ ہمدانی صاحب پروڈیوسر ہوا کرتے تھے۔ مجھے اس میں بٹھا دیا۔ میں بولنے سے بہت گھبراتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ہمدانی خان آج پروگرام براہِ راست نشر ہوگا۔ میں نئے لوگوں سے بات کرنے سے بہت گھبراتا ہوں۔ میں بالکل دفاعی پوزیشن پر آجاتا ہوں۔ اس کے بعد سلیم احمد صاحب نے مجھے کہا کہ جناب آصف فرخی صاحب آج خبر آئی ہے کہ مجید امجد کا انتقال ہوگیا ہے، آپ تو بہت افسردہ ہوں گے۔ میں نے کہا کہ جی ہاں میں بہت افسردہ ہوں۔ مجھے بتائیے کہ مجید امجد کی شاعری میں آپ کو کیا نظر آتا ہے؟ میں نے جواب دیا۔ اس پر گفتگو ہوئی۔ وہ گفتگو اتنی پسند کی گئی کہ ریڈیو کے شعبہ آرکائیوز نے اسے ریکارڈ کیا۔ سلیم احمد میرے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے تھے۔ بولو، بات کرو، اختلاف کرو۔ اختلاف وہ سکھاتے تھے۔ اس میںنئی بات میں وہ ساتھ دیتے تھے۔ اس پر سلیم احمد صاحب پر بہت اعتراض ہوتا تھا اور انتظار حسین صاحب لکھتے تھے کہ صاحب یہ لنگڑے نقاد ہیں کیونکہ ان کے یہاں تنقید ایک ٹانگ پر چلتی ہے، فکشن والی ٹانگ ان کے یہاں نہیں ہے۔ لیکن میری نظر میں سلیم احمد لنگڑے نقاد نہیں تھے۔ میں نے ہرمن بے دل کے ناول کا سدھارتھ ترجمہ کیا۔ سلیم احمد نے کہا کہ آئو اس پر بات کرتے ہیں۔ انہوں نے اخبار میں کالم لکھا اور گفتگو کی جو ریکارڈ کی گئی اور اس کتاب کی اشاعت کے ساتھ چھپی۔ انہوں نے اس کا مسودہ پڑھا تھا اور کہا کہ یہ کہانی، کیا تم اس کتاب سے اتفاق کرتے ہو؟ کیونکہ تمہیں یہ کتاب اپنی معلوم ہوتی ہے۔ میں نے کہا جی۔ اچھا آئو بات کرتے ہیں۔ میرے افسانے کا پہلا مجموعہ چھپا تو سلیم احمد صاحب نے اس پر کالم لکھا۔ اس لیے سلیم احمد صاحب کا یہ ذاتی حوالہ میرے لیے زیادہ اہم ہے۔ ہاں میں نے یہ گستاخانہ حرکت ضرور کی کہ اُن سے ہیرالڈ کے لیے انٹرویو کیا اور اس کی مدیرہ رضیہ بھٹی کی ہدایت پر سلیم احمد سے سوال کیا کہ آپ ثقافتی امور کے مشیر ہیں اور جوش ملیح آبادی پر پابندی لگ رہی ہے؟ پھر میں نے سوال کیا کہ آپ جسارت میں لکھتے ہیں جبکہ جسارت والے سعادت حسن منٹو اور عصمت چغتائی کو پسند نہیں کرتے؟ انہوں نے کہا کہ عصمت چغتائی اور منٹو پر جس ماحول میں پابندی لگی وہ ماحول انہیں پسند نہیں۔ سلیم احمد صاحب کی یہ بڑائی اور عظمت تھی کہ مجھ جیسے چھوٹے اور مبتدی آدمی کو سوال کرنے سے انہوں نے کبھی روکا نہیں بلکہ اس کی حوصلہ افزائی ہی کی۔ آخری دنوں میں جب وہ بہت پریشان بھی تھے تو انہوں نے مجھے اور میرے دوست طاہر مسعود کو بلا کر کہا کہ: ’’وعدہ کرو کہ ادب سے کبھی روگردانی نہیں کرو گے۔ ادب سے کبھی اپنا تعلق نہیں توڑو گے، چونکہ تم ذہین ہو اور ذہانت کے راستے میں خطرے بہت آتے ہیں۔ ایسا نہ ہو کہ تم ادب کے راستے سے ہٹ جائو۔‘‘ سلیم احمد صاحب کی بعض باتیں مجھے جکڑ لیتی ہیں۔ جب میں بے خوابی کا شکار ہوتا ہوں، گھبراتا ہوں تو مجھے سلیم احمد صاحب کا وہ قہقہہ، ان کا سگریٹ جلا کر مٹھی میں دباکر بات کرنا، ان کی آنکھوں کی چمک، ان کی شیروانی یاد آتی ہے (یہاں بات کرتے کرتے آصف فرخی کی آواز رندھ گئی)۔ مجھے لگتا ہے کہ مجھ سے پوچھ رہے ہیں کہ ’’ تم نے کیا کیا؟‘‘ میں کیا جواب دوں اس سوال کا؟ آپ نے تو مجھے رُلا دیا۔
فرائیڈے اسپیشل:سلیم احمد اور حسن عسکری صاحب کے آپ بہت مداح ہیں۔ آپ نے خود کہا کہ آپ شاید وہ واحد آدمی ہیں جو انہیں چچا کہتے تھے؟ اتنی قربت رہی آپ کی دونوں حضرات سے، بلکہ آپ نے اپنی انٹرویوز کی کتاب سلیم احمد کے نام معنوِن بھی کی ہے۔ لیکن آپ کے ایک معاصر اور دوست ڈاکٹر طاہر مسعود نے حال ہی میں فرائیڈے اسپیشل کو انٹرویو میں کہا کہ آپ حسن عسکری صاحب اور سلیم احمد صاحب کا ذکر بہت کرتے ہیں لیکن جو ادبی کانفرنسیں منعقد ہوتی ہیں ان میں فیض اور جالب کو تو یاد رکھتے ہیں لیکن ان دونوں افراد کے حوالے سے کوئی کام نہیں کرتے، اور اسے وہ ادب سے غداری قرار دیتے ہیں، آپ اس پر کیا کہیں گے؟
ڈاکٹر آصف فرخی: اچھا کیا آپ نے مجھے بتا دیا۔ مجھے اس بات پر حیرت ہورہی ہے۔ میں چونکہ اس بات سے ناواقف تھا کیونکہ بحمداللہ میں آپ کا رسالہ نہیں پڑھتا، اس لیے میں نے یہ حوالہ نہیں پڑھا۔ دیکھیں طاہر مسعود صاحب میرے بہت ہی عزیز اور پرانے دوست ہیں۔ میرا اور ان کا تعلق نظریات کا نہیں محبت کا ہے۔ اس لیے میں ان کی ہر بات سن سکتا ہوں اور محبت کی ایک بات یہ بھی ہے کہ وہ یکطرفہ بھی ہوسکتی ہے۔ پہلے آپ کے سوال میں غلطی کی نشاندہی کردوں۔ آپ سے ایک ملاقات میں مَیں نے یہ کہا تھا کہ عسکری صاحب کے چند صفحات ہر دوسرے تیسرے دن پڑھتا ہوں۔ سلیم احمد صاحب کے لیے یہ نہیں کہا تھا۔ ٹھیک ہے ناں! آپ کی طرح طاہر مسعود صاحب بھی حسن عسکری اور سلیم احمد صاحب کو ایک ہی بندوق سے مارنے کی کوشش کررہے ہیں۔ دونوں شخصیتوں کو مختلف سمجھیے۔ دونوں مختلف تھے اور دونوں میں نظریاتی بُعد بھی تھا۔ اور آپ نے کیسے فیصلہ کرلیا کہ میں نے نظرانداز کردیا؟ اگر یہ طاہر مسعود صاحب کا خیال ہے تو اس کے ذمہ دار تو وہ خود ہیں۔ میں تھوڑی ہوں۔ لیکن چونکہ آپ نے سوال کیا ہے تو بہتر ہے کہ میں جواب دے دوں۔ پہلی بات تو یہ کہ سلیم احمد صاحب کے حوالے سے اور ان سے بڑھ کر عسکری صاحب کے حوالے سے میں نے بارہا لکھا ہے۔ مجھ پر الزام یہ لگایا جاتا ہے کہ عسکری صاحب کا ذکر کیے بغیر یہ نوالہ نہیں توڑتے۔ یہ بات درست ہے کہ عسکری صاحب کے بغیر میں نوالہ توڑ ہی نہیں سکتا، جب تک عسکری صاحب کا کوئی حوالہ نہ آئے اُس وقت تک مجھے یہ احساس ہی نہیں ہوتا کہ میری یہ رائے لکھے جانے کے قابل ہے۔ میں عسکری صاحب کی تنقید پر بے انتہا انحصار کرتا ہوں۔ ان کی تنقید کے ذریعے اپنے ذہن کو فروغ دینے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس لیے انہیں نظرانداز کرنے کا کیا سوال ہے! یہ ضرور ہے کہ بعض معاملات میں اُن کی فکر یا بعض فیصلوں سے مجھے اتفاق نہیں ہے جو میری کم فہمی بھی ہوسکتی ہے۔ انہوں نے بعض شاعروں کو پسند کیا۔ میں نے نہیں کیا۔ انہوں نے بعض کتابوں کو اہم سمجھا، بعض بیانات دیے۔ میں ان چیزوں سے اپنے آپ کو متفق نہیں پاتا۔ اب سوال فیسٹیول میں ان کا تذکرہ نہ کرنے کا ہے! تو بات یہ ہے جناب کہ فیسٹیول میں میرا کام مشورہ دینا ہوتا ہے۔ جس فیسٹیول کے بارے میں طاہر مسعود صاحب کہہ رہے ہیں اور اس کا آپ نے نام نہیں لیا۔ بعض معاملات مشورے سے ہوتے ہیں۔ مطلق العنان رائے سے نہیں ہوتے۔ شاید یہ مشورے کا طریقہ طاہر مسعود صاحب کو پسند نہیں ہے۔ فیسٹیول عوام کی دلچسپی کے لیے ہوتے ہیں۔ اگر عوام کو فیض اور جالب سے دلچسپی ہے تو ان کا تذکرہ کیوں نہ ہو؟ طاہر مسعود نے چونکہ ناراض ہونے کی قسم کھالی ہے تو انہیں شاید یاد ہی نہیں یا ان کے علم میں نہیں کہ پچھلے فیسٹیول میں (جو فروری میں کراچی میں ہوا تھا) عسکری صاحب پر گفتگو ہوئی تھی۔ مہر افشاں فاروقی ہندوستان سے تشریف لائی تھیں۔ شمیم حنفی جو بہت بڑے نقاد ہیں، انہوں نے مہر افشاں فاروقی کا تعارف کرایا اور عسکری صاحب کے حوالے سے مہر افشاں فاروقی صاحبہ کی جو کتاب ہے اس کی رونمائی ہوئی تھی۔ وہ عسکری صاحب پر لکھی جانے والی سب سے تفصیلی کتاب ہے۔ یہ الگ بات ہے کہ اس کے بعض پہلوئوں پر مجھے اعتراض بھی ہے۔ اس کتاب پر میں نے تفصیل کے ساتھ تبصرہ بھی لکھا ہے۔ اور پھر یہ بڑا سادگی پر مبنی تصور ہے کہ فیسٹیول میں کس کے بارے میں بات ہونا اس کی اہمیت کا معیار ہے۔ اب دیکھیں لٹریچر فیسٹیول میں اقبال پر کوئی سیشن نہیں ہوا۔ کیا اس سے اقبال کی عظمت میں کوئی کمی آگئی؟ اس میں مرزا رفیع سودا اور ولی دکنی پر کوئی سیشن نہیں ہوا۔ کیا وہ کم اہم شاعر ہوگئے؟ ہمیں یہ توفیق نہیں ہوئی کہ ہم ٹالسٹائی کے بارے میں کوئی پروگرام کرتے یا جیمز جونز کے بارے میں کوئی پروگرام کرتے۔ کیا وہ اپنے عہد کی اہمیت سے معزول ہوگئے؟ شیکسپیئر دنیا کا سب سے بڑا شاعر ہے۔ شاید کہ طاہر مسعود صاحب یہ بات تسلیم کرتے ہوں، لیکن فیسٹیول میں تذکرہ نہ کرنے سے کیا اس کی اہمیت میں کوئی کمی آگئی؟ فیسٹیول کا تو ادبی سماجیات سے تعلق ہے۔ اب فیسٹیول میں عسکری صاحب پر جو سیشن ہوا اس میں اگر وہ خود نہیں آئے تو میں کیا کروں؟ اب کیا انہیں پالکی بھیج کر بلوائوں! اب اگر آپ واقف ہی نہیں ہیں اور یہ طے کررکھا ہے کہ جناب آصف فرخی صاحب نے نظرانداز کیا، اور بات یہ ہے کہ اسے آپ نے غداری قرار دے دیا تو غداری اگر ہوئی ہے تو وہ غداری کہاں ہوئی ہے؟ کیا وہ میری طرف سے ہوئی ہے؟ یا کسی اور طرف سے ہوئی ہے؟ اور اس بات پر تھوڑا اور گلہ کریں چونکہ مجھ سے گلہ کرنا بہت آسان ہے آپ کے لیے، آپ کے رسالے کے لیے، طاہر مسعود کے لیے… لیکن آپ مجھے بتائیں کہ شہر کراچی میں کیا کوئی سڑک حسن عسکری صاحب کے نام سے منسوب کی گئی؟ عسکری صاحب کا جو مقام تھا کیا اس پر یادگاری تختی لگائی گئی؟ سلیم احمد صاحب پر کیا کوئی کتاب لکھی گئی؟ یا کوئی کام ہوا یا نہیں ہوا؟ آپ نے کراچی کے حکام بالا سے اس کی شکایت کیوں نہیں کی؟ میں تو ایسا آدمی ہوں جس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہے۔ طاہر مسعود صاحب تو ایک پروفیسر اور شعبہ کے صدر ہیں، مجھ سے جو نہ ہوسکا کاش انہوں نے کیا ہوتا تو میں آج انہیں سلام کررہا ہوتا۔ اب بات یہ ہے کہ طاہر مسعود صاحب خود فیسٹیول میں آتے نہیں ہیں۔ پچھلے سال حسن عسکری صاحب پر جو سیشن ہوا اُس میں حسن عسکری صاحب پر بے انتہا، زبردست اور دھواں دھار باتیں ہوئیں۔ شمیم حنفی صاحب نے اس پر گفتگو کی۔ انتظار حسین صاحب نے بھی اس کتاب پر لکھا۔ اس پر بڑی گرماگرمی ہوئی۔ اب اگر طاہر مسعود صاحب کو اس کا علم نہیں ہے تو میں اس کا ذمہ دار تھوڑی ہوں۔وہ میرے دوست ہیں اور ان کی شان کے منافی میں کوئی فقرہ نہیں کہنا چاہتا۔ وہ بہت قابلِ احترام آدمی ہیں۔ ہاں آخری بات میں یہ کہہ دوں کہ طاہر مسعود صاحب کی بہت سی ادبی جہت ہیں۔ میرے نزدیک ان کی جو بہت ہی ادبی جہت ہے، وہ ان کی افسانہ نگاری ہے۔ اب مجھے ایسا لگتا ہے کہ وہ ایک دن میرے بارے میں کوئی کردار بنا کر افسانہ لکھ دیں گے اور اس کا محلِ وقوع کوئی ادبی فیسٹیول ہوگا۔ عسکری صاحب کا حوالہ تو میری ذہنی مجبوری ہے، بلکہ میں تو اسے اپنی ذہنی طاقت بھی سمجھتا ہوں۔ میرا کوئی بھی مضمون جیسا بھی ہے اس میں عسکری صاحب کا ذکر کہیں نہ کہیں آجاتا ہے۔ ان کے انتقال کے اتنے برس بعد بھی میں عسکری صاحب کے سوا کوئی بات نہیں کہہ سکتا۔ میرے نانا شاہد احمد دہلوی کے ساتھ ’’ساقی‘‘ میں رہے، پھر اختلاف بھی ہوا۔ اس اختلاف کی وجہ بھی مجھے معلوم ہے۔ مہر افشاں فاروقی صاحبہ نے اس کتاب میں جو بعض باتیں کہی ہیں، مجھے ان سے شدید اختلاف ہے جس کا میں ان سے اظہار بھی کرچکا ہوں۔ انہوں نے عسکری صاحب کی ذاتی زندگی پر تنقید کی ہے۔ مجھے وہ بات معلوم ہے۔ اس لیے عسکری صاحب کے بارے میں مہر افشاں فاروقی صاحبہ نے جو لکھا ہے وہ غلط ہے۔ وہ عسکری صاحب کی نجی زندگی کی تفصیلات ہیں اور آپ نے تو نماز پڑھنے اور اعتقاد کے بارے میں بات کی۔ میں اس کا بھی جواب دیتا ہوں۔ عسکری صاحب نماز کے بڑے پابند تھے۔ میں دیکھتا تھا کہ ان کے پاس مولانا ]مفتی[ محمد شفیع صاحب آتے تھے اور وہ تفسیر کا ترجمہ کررہے تھے۔ عسکری صاحب سگریٹ بہت پیتے تھے۔ چین اسموکر تھے، لیکن جب تفسیر کا ترجمہ کرتے تو باوضو ہوکر بیٹھتے اور اتنی دیر سگریٹ نہ پیتے۔ سگریٹ نہ پینے سے انہیں جو تکلیف ہوتی تھی وہ میں دیکھتا تھا۔ عسکری صاحب نے مجھے ادب کے سلسلے میں کوئی تلقین نہیں کی۔ نماز پڑھنے کی بہت تلقین کی۔
فرائیڈے اسپیشل: ہمارے ادب میں ترقی پسندی، جدیدیت اور مذہبی تشخص پر اصرار کے حوالے سے مختلف نظریات موجود ہیں۔ آپ اس منظرنامہ میں خود کو کہاں کھڑا پاتے ہیں؟
ڈاکٹر آصف فرخی: میری گفتگو سے اگر میں غالبؔ کی زبان میں کہوں تو
نوائے طائرانہ آشیاں گم کردہ
میں تو گم کردہ آدمی ہوں۔ راہ سے بھٹکا ہوا آدمی۔ راہ کی تلاش میں ہوں۔ آپ نے دائیں بازو اور بائیں بازو کی جو باتیں کی ہیں، یہ تفریق کولڈ وار (سردجنگ) کے دور کی پیداوار ہے۔ آج وہ تفریق ختم ہوگئی ہے۔ اب کہاں ہے؟ اور ہم تو بھائی! بازو بریدہ اور سربریدہ لوگ ہیں۔ ہم نہ دائیں بازو کے رہے اور نہ بائیں بازو کے۔ نہ دایاں بازو وہ رہا نہ بایاں بازو وہ رہا۔ ادب کے لیے دائیں بائیں کی تفریق اہم نہیں۔ میرے لیے تو ادب کا ادب ہونا پہلی اور آخری شرط ہے۔ ادیب کے لیے بھی یہی شرط ہے کہ وہ ادیب ہو خواہ دائیں بازو کا ہو یا بائیں بازو کا۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے! اس طرح آپ نے بات کی تھی ترقی پسندی، جدیدیت اور مذہبی تشخص کی… تو میری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ آپ نے انہیں ایک ساتھ کیسے کھڑا کردیا! یہ تینوں الگ الگ چیزیں ہیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ انہیں اس طرح سے کھڑا کرکے جیسے نشانہ کے تیر لگائے جاتے ہیں، بتایا جائے کہ آپ اِدھر کے ہیں یا اُدھر کے ہیں؟ جدیدیت اور ترقی پسندی نہ تو ایک دوسرے کے مخالف ہیں اور نہ ایک دوسرے سے متصادم۔ بعض لوگوں نے یہ کہا کہ جو ترقی پسندی کی مخالفت ہے وہ جدیدیت ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ ترقی پسندی ادب کا ایک بہت بڑا رجحان ہے۔ پہلے تو میں یہ وضاحت کردوں کہ ترقی پسندی کو میں کیا سمجھتا ہوں۔ ترقی پسندی اور ترقی پسند تحریک ہمارے ادب کا بہت اہم اور ایک بڑا پرمایہ تاریخی ورثہ ہے۔ میں اسے بہت اہم سمجھتا ہوں۔ اس نے شاعری کو، افسانے کو بہت مالامال کیا۔ کرشن چندر ہیں، فیض احمد فیض ہیں، اور لوگ ہیں۔ اس سے روگردانی نہیں کی جاسکتی۔ لیکن تمام تاریخی تحریکوںکی طرح یہ وقتی تقاضوں کا نتیجہ تھی، لیکن اسے مطلق صداقت کہہ دینا ٹھیک نہیں ہوگا، مگر اپنے وقت میں اس نے جو کام کیا وہ بہت بڑا کام ہے، اسے آج بھی میرا سلام ہے۔ اس کے بعد ترقی پسندی ایک عقیدہ بن گئی۔ اس سے روگردانی کی جدیدیت کی تحریک نے، اور نظریات کی پابندی اور اس کی جکڑ بندی کے خلاف نئے راستے متعین کرنے اور ادب کو ادبی اصولوں کے تحت دیکھنے پر زور دیا تو وہ جدیدیت بن گئی۔ جدیدیت ان معنوں میں کوئی تحریک نہیں ہے۔ ترقی پسند تحریک کا تو ایک منشور تھا۔ اس کا خطبہ دیا گیا۔ جدیدیت کے ساتھ ایسا نہیں۔ یہ تو جدیدیت کی بات ہوگئی۔ مذہبی تشخص کا آپ نے سوال کیا تو اس بھیڑ میں مَیں اس اجنبی چہرے کو دیکھ کر حیران ہوں کہ یہ ان معنوں میں ایک تحریک نہیں۔ مذہبی تشخص تو ہمارے وجود، شخصیت اور نام و نسب میں شامل ہے۔ اسے آپ جدیدیت اور ترقی پسندی کے برابر کیوں کھڑا کررہے ہیں؟ شاید آپ ایسا اس وجہ سے کررہے ہیں کہ آپ الٹرا رائٹ کو بھی ایک نظریاتی تحریک دیکھ رہے ہیں، جیسے کہ ترقی پسندی یا جدیدیت تھی؟
فرائیڈے اسپیشل: بیسویں صدی بیک وقت ترقی پسند ادب کے عروج و زوال کی صدی ہے۔ سوشلزم رد ہو چکا ہے اور تاریخ کے کوڑے دان میں پڑا ہوا نظر آتا ہے۔ مجنوں گورکھ پوری نے بھی آج سے 40، 50 سال پہلیاس کے خاتمے کا اعلان کردیا تھا۔ آپ کی اس بارے میں کیا رائے ہے؟
ڈاکٹر آصف فرخی: مجنوں صاحب جب زہر عشق کی بات کرتے ہیں تو میرے لیے بہت قابل احترام آدمی ہیں۔ اگر انہوں نے یہ کہا کہ ترقی پسند تحریک کا خاتمہ ہو گیا تو ’’چہ معنی دارد؟‘‘ ترقی پسند تحریک تو سرسید نے شروع کی تھی، آپ کہیں گے کہ اس تحریک کا خاتمہ ہو گیا، یا غالب نے اردو غزل میں جو فضا قائم کی تھی اس کا خاتمہ ہو گیا۔ ادبی رجحانات اس طرح نہ تو شروع ہوتے ہیں اور نہ ہی اس طرح ختم ہوتے ہیں۔ یہ ضرور ہے کہ ترقی پسندی ادبی تحریک میں اس طرح منظم نہیں رہی لیکن جو ترقی پسند تحریک کا سرمایہ ہے، فیض کی جو شاعری ہے اور کرشن چندر کے جوافسا نے ہیں، وہ تو اپنی جگہ پر قائم ہیں۔ آپ فیض پر بھی ایک سوال مجھ سے پوچھیں گے۔ اور آپ نے سوشلزم کو تاریخ کے کوڑے دان میں کیسے ڈال دیا، اگر ایسا ہے تو یہ تو بڑی حیرت اور افسوس کی بات ہے۔ دیکھے سوشلزم ایک نظریہ تھا۔ معاشرے میں بہتری اور معاشرے سے استیصال کو ختم کرنے کا ایک خواب تھا جو انسان نے دیکھا۔ اگر انسان کا یہ خواب کوڑے دان میں چلا گیا ہے، تو بہت افسوس کی بات ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ہم بھی اپنے انجام کی طرف جارہے ہیں۔
فرائیڈے اسپیشل:۔ آپ فیض احمد فیض کو بڑا شاعر سمجھتے ہیں، حالانکہ نہ فیض کے پاس بڑا تجربہ ہے نہ بڑا خیال اور نہ ان کی شاعری کا کینوس بڑا ہے۔ تو کیا محض کسی شاعر کے مقبول ہونے، کسی نظریے سے وابستہ ہونے یا اس کا ڈھول پیٹے جانے سے وہ بڑا شاعر بن جاتا ہے؟
ڈاکٹر آصف فرخی : فیض احمد فیض کے بارے میں آپ نے پچھلی بار سوال میں کہا تھا کہ فیض کا تجربہ محدود ہے اور ان کی زبان مصنوعی ہے۔ آپ کا سوال میں نے بڑے تحمل سے سن لیا۔ میں تو آپ سے یہ جاننا چاہتا ہوں کہ بڑا شاعر کون ہوتا ہے؟ کیا ہوتا ہے؟ کسے بڑا شاعر کہتے ہیں؟ اس بات کا معیار کیسے طے کریں گے؟  اچھا اردو تنقید میں ایک بڑا رویہ ہے اہرام مصر کی طرح۔ یعنی اردو تنقید میں ہمیں چوٹی دار اہرام بنانے کا بڑا شوق ہے کہ صاحب میرؔ، غالبؔ اور اقبالؔ… اس کے بعد بات نہیں ہوگی۔ ان شاعروں کے علاوہ ہم کسی کو دیکھنے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ لیکن میرے نزدیک فیض بیسوی ںصدی کے بہت بڑے شاعر ہیں۔ اس بات میں کیا کلام ہو سکتا ہے!
فرائیڈاسپیشل: آپ ان کے کن اشعار سے سمجھتے ہیں کہ فیض احمد فیض بڑے شاعر ہیں؟
ڈاکٹر آصف فرخی : میں کسی بھی فہرست کی بات فیض سے مہمل سمجھتا ہوں۔وہ نظم یاد ہے آپ کو
یہ رات اس درخت کا شجر ہے
جو مجھ سے تجھ سے عظیم تر ہے
میں ایک بات اور کہوں کہ آپ نے فیض کے بارے میں جو سوال پوچھا ہے اس حوالے سے شرطیہ یہ دعویٰ کرسکتا ہوں کہ اگر آپ کو کمرے میں 12 گھنٹے بند کر دیا جائے اور کہا جائے کہ بیسویں صدی کے جتنے مصرعے اور اشعار آپ کو یاد ہیں وہ لکھیے تو ان میں اکثر اشعار فیض کے ہوں گے۔ میں تو اپنا تاثر بتارہا  ہوں۔ بڑے ہیں یا نہیں ہیں میرے پاس ناپنے کا پیمانہ نہیں ہے۔ میں تو الٹا آپ سے پوچھ رہا ہوں کہ بڑا شاعر کیا ہوتا ہے؟ میں چونکہ ایک کم علم آدمی ہوں اس لیے ذرا کتاب کا حوالہ دیکھ لیتا ہوں۔ ایک مضمون ہے جو میں نے برسوں پہلے پڑھا تھا اور آج تک یاد ہے۔ وہ ٹی ایس ایلیٹ کا مضمون تھا “What is Minor Poetry?” کہ وہ شاعر جو بڑا نہیں ہوتا وہ کیا ہوتا ہے۔ کیا آپ Minor Poetry کو نظر انداز کرسکتے ہیں؟ عسکری صاحب کا حوالہ میں آپ کو دوں۔ عسکری صاحب کا ایک دلچسپ مضمون ہے، اگر آپ نے نہیں پڑھا تو پڑھیے گا، اللہ نے چاہا تو افاقہ ہوگا، وہ مضمون ہے ’’مزیدار شاعر‘‘۔ وہ جرأتؔ کے بارے میں ہے۔ اور یہ کمزور شاعر ہے۔ معمولی شاعر ہے۔ مگر اس میں بعض باتیں ایسی ہیں کہ وہ آپ کو خدائے سخن میر تقی میرؔ کے یہاں بھی نہیں ملیں گی۔ تو ’’چھوٹے شاعر‘‘ کو ہم کم تر یا گھٹیا کیسے کہیں؟ پھر پتا نہیں آپ نے یہ بات کیسے کہی کہ فیض احمد فیض کا تجربہ وسیع نہیں ہے۔ ایسا نہیں ہے۔ ان کا کینوس بہت بڑا ہے۔ شاید آپ یہ بات اس لیے کہہ رہے ہیں کہ آپ کو فیض صاحب کے نظریات سے اختلاف ہے۔ فیض صاحب کے نظریات سے اگر اختلاف ہے تو ان کی شاعری سے اختلاف کرنا بہت مشکل ہے۔ آپ یہ بات مانیں یا نہ بالکل نہ مانیں۔ ممکن ہے کہ آپ حفیظ جالندھری کو بہت بڑا شاعر مانتے ہوں گے۔ اگر آپ حفیظ صاحب کو بڑا شاعر مانتے ہیں تو سبحان اللہ !کیا کہنے۔ مگر فیض صاحب کو ان کے مقام پر ہی رہنے دیجیے۔
فرائیڈے اسپیشل: ن م راشد نے تو یہ بھی کہا ہے کہ فیضمرکزی  نظریات کا نہیں احساسات کا شاعر ہے۔
ڈاکٹر آصف فرخی: شاعری کی بنیاد تو احساسات پر ہی ہوتی ہے۔ نظریات کی بنیاد پر جو شاعری ہوتی ہے وہ بڑی خطرناک شاعری ہے۔ اس میں نظریہ بلند بانگ لہجہ میں بات کرتا ہے۔ شاعری دب جاتی ہے۔ کہیں کہیں یہ بات اقبال میں نظر آتی ہے۔ اقبال جب مسجد قرطبہ پر نظم لکھتے ہیں
سلسلہ روز و شب نقشِ گر حادثات
یہ احساس ہی ہے، نظریہ نہیں بول رہا۔ بیسویں صدی کے جو بڑے شاعر ہیں ان میں فیض صاحب کے ساتھ ن م راشد اور مجید امجد کا نام بھی لوں گا۔ مجھے ذاتی طور پر ن م راشد بہت پسند ہیں۔ ان کے کلام کا بہت تھوڑا حصہ ہے۔ میں سمجھ تو نہیں سکا، پڑھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ اس کے بعد مجید امجد کا نام آتا ہے۔ یہ بہت بڑے شاعر ہیں۔ اور بات یہ ہے کہ ایک کو پڑھنے کی خاطر دوسرے کو مسترد کیوں کیا جائے؟ اس لیے فیض پر میں اپنی رائے پر قائم ہوں اور فیض کا دفاع بھی نہیں کروں گا اس لیے کہ نہ تو میں فیض کا دفاع کرنے کا اہل ہوں اور نہ انہیں میرے دفاع کی ضرورت ہے۔
فرائیڈے اسپیشل:یہ خیال عام ہے کہ افسانے اور تنقید میں اب بڑے کیا قابلِ ذکر نام بھی سامنے نہیں آرہے۔ لوگ کہہ رہے ہیں کہ فنِ افسانہ نگار ی اور اردو تنقید زوال کا شکار ہو چکے ہیں، آپ اس رائے سے کتنے متفق ہیں؟ اگر ایسا ہے تو اس کا کیا سبب ہے؟
ڈاکٹر آصف فرخی: مجھے یہ سوال ہی دکھ میں ڈالنے والا معلوم ہوتا ہے۔ لوگ اس طرح کے جھاڑو پھیرنے والے بیانات جب دیتے ہیں تو مجھے اندازہ ہوتا ہے کہ شاید انہوں نے بہت زیادہ زحمت کرکے آج کے ادب کو پڑھنے کی کوشش ہی نہیں کی۔ افسانہ کی بات پہلے کرتے ہیں۔ افسانہ نگاری میں انتظار حسین صاحب ماشااللہ زندہ ہیں۔ اردو افسانے کا کتنا بڑا نام ہیں۔ کتنے رجحان ساز اور عہد ساز ادیب ہیں جنہوں نے خود کو بھی بدلا اور اس کے ساتھ اردو ادب کو بھی بدلا۔ ان کے بعد اسد محمد خان ہیں۔ کیا خوبصورت افسانہ لکھتے ہیں۔ حسن منظر ہیں۔ ان کے ہاں کردار اور سچویشن کا جو تنوع ہے وہ شاید ہی کسی افسانہ نگار کی تحریر میں ہو۔ خالدہ حسین ہیں، بے حد افسانے لکھتی ہیں۔ الطاف فاطمہ کو آپ لوگ کیوں بھول جاتے ہیں۔ زاہدہ حنا بہت اہم افسانہ نگار ہیں۔ تاریخ کا شعور ان کے یہاں بہت ہے۔ عبداللہ حسین کو ناول نگار کے طور پر مانا جاتا ہے۔ انہوں نے افسانہ نگار کی حیثیت سے کام کیا ہے (مختصر افسانہ نویسی میں سات رنگ جو ان کا ایک ہی مجموعہ تھا اب فریب کے نام سے دوسرا مجموعہ آیا ہے۔ ) ان کا ہر افسانہ اپنی جگہ اہمیت رکھتا ہے۔ یہ تو وہ نام ہیں جو فوری طور پر ذہن میں آگئے۔ منشا یاد کا نام اس فہرست میں نہیں لیا کیونکہ اب ان کا انتقال ہوچکا ہے۔ وہ اب ہمارے درمیان موجود نہیں، لیکن کتنا دقیق کام چھوڑ کر گیا ہے وہ شخص۔ کیا ہم نے ان کے افسانوں پر تنقید یا مطالعہ کا حق ادا کیا؟ ہم نے تو ان کے افسانے کو وہ اہمیت ہی نہیں دی۔ اکرام اللہ ہیں، مسعود اشعر ہیں، حمید شاہد ہیں، نیلو فر اقبال ہیں۔ ناموں کی ایک پوری فہرست ہے۔ اب بات یہ ہے کہ ان کے چھوٹے یا بڑے کام کا فیصلہ فٹوں سے ناپ کر نہیں ہوسکتا۔ اصل بات یہ ہے کہ جدید ادب کو پڑھنا ضروری ہے۔ اسی طرح کہا جاتا ہے کہ اردو میں ناول کم لکھا جاتا ہے۔ ارے صاحب! حسن منظر کے چھ، سات ناول ہیں۔ مرزا اطہر بیگ نے ’’غلام باغ ‘‘ سے ناول نگاری کا جو تجربہ کیا، اب ان کا تیسرا ناول بھی آرہا ہے۔ زاہدہ حنا کا ناول ہے۔ خالدہ حسین کا ناول ہے۔ یہ وہ ناول ہیں جو گزشتہ 10، 12، 15 سال کے دوران لکھے گئے۔ یہ غیر معمولی ناول ہیں۔ لیکن ہمارے نقاد اور بہت سے طالب علم جدید اور معاصر ادب کو پڑھنے کی زحمت نہیں کرتے۔ چنانچہ ہم یہ بات بہت آسانی سے کہہ دیتے ہیں کہ اردو میں افسانہ نہیں لکھا جارہا۔ یہ ٹھیک ہے کہ اس طرح اور اس کثرت سے افسانہ نہیں لکھا جا رہا… لیکن جو لکھا جا رہا ہے، پہلے اس کا حق تو ادا کیجیے، پھر شکایت کیجیے۔ آج جو لکھ رہے ہیں، کام کررہے ہیں، اس میں ہمارے کل کا پرتو بھی شامل ہے۔ خالدہ حسین تو ابھی کہانی لکھ رہی ہیں۔ میں نے ان کی نئی کہانی ابھی پڑھی ہے، کیا عمدہ کہانی ہے۔ مسعود اشعر نے نیا افسانہ لکھا ہے۔ حسن منظر برابر لکھ رہے ہیں۔ یہ لوگ لکھ رہے ہیں لیکن ہم نے ان کا حق ادا نہیں کیا۔ ہم یک لخت مسترد کردیتے ہیں کہ صاحب! افسانہ نہیں لکھا جا رہا۔ اسی طرح سے سرحد پار سے سید محمد اشرف ہیں۔ ذکیہ محمدی کا کیا عمدہ کام ہے۔ خالد جاوید نے جس قسم کے افسانے لکھے اس نے اردو افسانہ میں ایک نیا دریچہ وا کیا ہے۔ اور آج کے لکھنے والوں میں سب سے پہلے نیر مسعود کو سلام کرنا چاہیے تھا۔ نیر مسعود اِس وقت جدید زمانہ کے شاید سب سے اچھے افسانہ نگار ہیں۔ تنقید کا ذکر ہورہا تھا۔ اس میں شمیم حنفی اور شمس الرحمن فاروقی دو بہت بڑے نام ہیں۔ ظاہر ہے کہ بزرگ ہیں۔ شمس الرحمن فاروقی نے غالب، اس کے بعد میر فہمی اور پھر داستان کی شعریات کو جس طرح اجاگر کیا ہے (چار جلدیں چھپ چکی ہیں، پانچویں جلد لکھ رہے ہیں) اس پر یہ کہنا چاہیے کہ انہوں نے نیا فیلڈ آف اسٹڈی کھول دیا ہے۔ یہ اس دور کا کارنامہ ہے۔ نئے لکھنے والوں میں امجد طفیل بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔ ضیاء الحسن بہت اچھا لکھ رہے ہیں۔ لیکن جس آدمی کی ہر نئی تحریر کا میں بڑے اشتیاق کے ساتھ مطالعہ کرتا ہوں وہ لاہور کے ناصر عباس نیر ہیں جنہوں نے نوآبادیاتی مطالعہ اور اردو ادب پر سے برطانوی وکٹوریائی فکر کی گرد جھاڑ کر اسے نئے طریقے سے دیکھنے کا جو انداز اختیار کیا ہے  وہ اردو تنقید میں ایک بالکل نیا باب ہے۔
فرائیڈے اسپیشل: سلیم احمد نے اپنے ایک کالم میں آپ کے افسانوی مجموعے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا: آصف فرخی کے افسانے ایسے ہیں کہ انتظار حسین کو ان کی ادبی دنیا میں آمد سے ڈرنا چاہیے۔ آپ خود بتائیں کہ آپ سلیم احمد صاحب کی اس توقع پر کتنا پورا اترے؟
ڈاکٹر آصف فرخی: خدا کا شکر ہے کہ میں ان کی اس توقع پر پورا نہیں اترااور نہ پورا اترنا چاہتا ہوں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ کسی نئے لکھاری کی آمد سے پرانے لکھنے والے کو ڈرنا نہیں چاہیے۔ جب داغؔ نے پہلی غزل لکھی تو اُس وقت سب سے بڑے شاعر غالب تھے۔ انہوں نے تو ان کا استقبال کیا تھا۔ ان سے ڈرے تھوڑی تھے۔ اور داغؔ نے تو ایک نیا طریقہ نکالا تھا۔ انتظار صاحب تو میرے بزرگ ہیں۔ بڑے محترم ہیں۔ ہم تو ان سے سیکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ مجھے وہ بے حد پسند ہیں، جیسے قرۃ العین حیدر بہت پسند ہیں۔ میں تو انہیں سمجھنے کی کوشش کرتا ہوں۔ ظاہر ہے کہ انہیں سمجھنا، ان کا مطالعہ کرنا ایک زندگی بھر کا سودا ہے۔ اس لیے ادب میں یہ نہیں ہوتا کہ نئے کے آنے سے پرانے مسترد ہو جاتے ہیں یا پرانے کو ختم کردیں۔ یہ سائنس میں ہوتا ہے کہ نیوٹن نے ایک نظریہ پیش کیا۔ اس کے بعد سائنس نے ترقی کی۔ اس کے بعد آئن اسٹائن آئے اور جدید فزکس نے نیوٹن کے فزکس کی جگہ لے لی۔ لیکن ادب میں اس طرح نہیں ہوتا۔ ادب میں نیا پرانے کے ساتھ تسلسل میں جڑ جاتا ہے۔ اس لیے ادبی روایت سائنسی روایت کی طرح نہیں چلتی۔ ادبی ارتقا سائنسی ارتقا کی طرح نہیں ہوتا۔
فرائیڈے اسپیشل: سلیم احمد صاحب کی باتوں سے آپ اختلاف کرتے ہیں؟
ڈاکٹر آصف فرخی: ہاں ! اختلاف کرتا ہوں۔ اس لیے کہ انہی سے سیکھا ہے۔ اس لیے کہ ان کی زندگی میں ان کی بہت سی باتوں سے اختلاف کرتا تھا۔ آج بھی حیران ہوتا ہوں کہ وہ صرف تعلقات کی بنیاد پر بہت سی کتابوں پر فلیپ لکھ دیتے تھے، ہر آدمی کی حوصلہ افزائی کرتے، یہ ان کا اصول تھا، ایک طریقہ تھا۔ اب ہر بڑے نقاد کی رائے سے میرا متفق ہونا ضروری نہیں۔ رائے کا اختلاف ہمارے ایک بہت ہی محترم، نظریات پرکاربند دوست ہی کرتے ہیں۔ میں اس کو بہت اہم سمجھتا ہوں۔ میں نے کسی کا نام نہیں لیا۔ نام لینے کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ لوگ سمجھ جائیں گے۔
کچھ نہ سمجھے خدا کرے کوئی
فرائیڈے اسپیشل: آکسفرڈ کے تحت لٹریری فیسٹیول ہوا۔ اس طرح کے فیسٹیول کا ہماری تہذیب اور ادبی روایت سے کیا تعلق ہے؟محض شو آف ہے، نوکری کا تقاضا ہے یا کچھ لوگوں کو اس سے سہولت مل جاتی ہے؟
ڈاکٹر آصف فرخی: پہلی بات تو یہ کہ میں آپ کا سوال پوری طرح سے سمجھا ہی نہیں۔ اس لیے کہ شو آف کون کررہا ہے؟ کیا کررہا ہے؟ نوکری کس کی ہے؟ بھئی میری نوکری اس سے وابستہ تو نہیں ہے؟ میرا کام تو ایک اعزازی مشیر کا ہے۔ اگر کسی کی نوکری وابستہ ہے تو میں نہیں جانتا۔ بات یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں آپ خود ہی تو گلہ کررہے تھے کہ جناب کتاب کا مطالعہ کم ہورہا ہے۔ تو اگر اس طرح کی کوئی کوشش ہورہی ہے تو بجائے اسے ویلکم کرنے کے آپ اسے شو آف اور نوکری کا تقاضا کہیں، یہ بڑے دکھ کی بات ہے۔ لیکن بات یہ ہے کہ جیسے انگریزی میں کہتے ہیں کہ  “Nothing Succeed like Succes” یہ لٹریری فیسٹیول 5 سال پہلے جیسے شروع ہوا تھا، اس کے بعد اس میں شریک ہونے والوں اور اسے پسند کرنے والوں کی تعداد بڑھتی گئی۔ ہمارے بہت سے لوگ اس سے ناخوش ہیں۔ شاید وہ یہ چاہتے ہیں کہ ہم کتاب، مطالعہ اور ادبی تنقید کے بجائے اس کی جگہ نظریات کے حق میں نعرہ لگانے میں سارا وقت صرف کریں۔ ادیب کی نظریاتی وابستگی کے بجائے اس کے کام کی معنویت، اس کی تفہیم، اس کی گرہ کشائی، اس کی عقدہ کشائی… یہ بڑا بنیادی تقاضا ہے۔ جو ادب میں ہونا چاہیے اس ہنر کو ہم بھولتے جارہے ہیں۔ یہ ہنر وہ ہے جو عسکری صاحب نے سکھایا تھا۔

اے۔ اے۔ سید

(بشکریہ فرائیڈے اسپیشل)

No comments:

Post a Comment