Google+ Followers

Tuesday, 17 June 2014

ملاقات شاہِ خرستان سے



عزیزو! صاحبو! اور بادشاہو.....وہ جگالی کر رہا تھا۔
اس روز غلطی سے ہمارا پاؤں اُس کی دُم پہ جا پڑاتھا۔ گدھے نے ہمیں گھور کر دیکھا اور کان جھٹک کر دوبارہ جگالی میں مصروف ہوگیا۔ہم نے بھی کھسک لینے میں ہی عافیت جانی کہ جانے کب دولتی جھاڑ دے لیکن دوسرے روز پھر جب ایسا ہی ہوا یعنی چلتے چلتے ہمارا پاؤں اس کی دُم پہ جا پڑ ا تو گدھا یک لخت چاروں ٹانگوں پر کھڑا ہوگیا۔ ہمیں لگا جیسے ابھی اُچھل کر دو لتی جھاڑے گا اور پھر ہمیں دبوچ لے گا لیکن اس نے خالصتاً لکھنوی انداز میں ایک ٹانگ سے کورنش بجا لایا اور نہایت شستہ وشائستہ زبان میں گویا ہوا:’’آداب عرض کرتا ہوں حضور!‘‘
صاحبو! آپ جب کسی گدھے کو باتیں کرتے سنیں، اور اسے خالص لکھنوی انداز میں’’ آداب عرض‘‘ کرتے ہوئے پائیں، تو جو آپ کی ہوگی وہی ہماری ہوئی،یعنی کیفیت، ہرچندپاؤں کے نیچے سے زمین کھسک گئی،تاہم نے بڑی مشکل سے اسے، زمین کو، دوبارہ پاؤں کے نیچے دبالیا اور لگے سوچنے کے یہ کیا ہو رہا ہے؟اس سے قبل ہم نے صرف آنجہانی کرشن چندر کے گدھے کو باتیں کرتے سنا تھا جو پہلے بارہ بنکی کے رامو دھوبی کے ہاں کام کرتا تھا اور بعدازاں سوامی جواہر لعل نہرو کو اس سے شرفِ ملاقات حاصل ہوا تھا۔
ہم نے اسے، گدھے کے گویا ہونے کو، سماعت اور بصارت کا دھوکہ جانا اور ذرا تیکھے انداز میں اسے گھورا اور اپنے عصا سے دھمکاتے ہوئے کہا:’’گدھے.........پیچھے ہٹو!!‘‘
گدھے نے یہ سن کر استہزایہ ہنہناہٹ بھری جیسے قہقہہ لگا رہا ہو ۔پھر گویا ہوا:’’حضور! آگئے نا آپ اپنی اوقات پر۔ویسے آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ میرا نام خرخر شریفیؔ ہے۔مجھے گدھا کہلانے میں کوئی عار نہیں انسان البتہ کوئی کہے تو دولتیوں سے اس کا حلیہ بگاڑ دوں‘‘
’’لیکن تم کیسے گدھے ہو؟‘‘ بولنا کہاں سے سیکھا تم نے؟‘‘
’’حضور! گویائی کے جملہ حقوق محض آپ انسانوں کے نام مخصوص نہیں۔ یہ تو عطائے خداوندی ہے جسے چاہے نواز دے۔ویسے آپ انسان بھی عجیب مخلوق ہیں۔حوا کو آدم کی پسلی سے پیدا کرنے اور پھر حضرتِ آدم کی نجی غلطی سے جنت بدر ہونے اور بعدازاں زمین پر آباد ہو کر ساری مخلوق کا ناطقہ بند کرنے کے نظریے کو بھی تسلیم کرتے ہیں اور چچا ڈارونؔ کے نظری�ۂ ارتقا پر بھی یقین رکھتے ہیں، حالانکہ یہ دو متضاد نظریات ہیں۔ویسے آپ کی اطلاع کے لئے عرض ہے کہ ڈارونؔ کے نظریۂ ارتقا کے تحت کیا یہ ممکن نہیں کہ اکیسویں صدی تک آتے آتے گدھے بھی بولنے لگ جائیں؟‘‘۔یہ کہہ کر گدھے نے نہایت چبھتی ہوئی نظروں سے ہمیں دیکھا۔ہم جھینپ گئے اور بغلیں جھانکنے کا ارادہ رکھتے تھے لیکن معلوم ہوا کہ ایک بغل میں چھتری اور دوسری میں استاد فیروز دیناؔ کا دیوان تھاما ہوا ہے۔لہذا بغلیں جھانکنے کے ارادہ کو ملتوی کیا اور لگے سوچنے کہ یہ گدھا تو جان کو آگیا۔لیکن ہم نے اپنی روایتی اَنا کو بروئے کار لایا جو ہم ہمیشہ ایسے موقعوں پر لاتے ہیں ا ور طنزیہ لہجہ اختیار کرتے ہوئے کہا:’’اے گدھے!ڈارونؔ کی تھیوری پیش کرکے تم ہم پر اپنی علمیت کا رعب جھاڑنا چاہتے ہو‘‘۔
گدھے نے نہایت اطمینان سے اپنی دُم کو ایک عدد بوسہ دیا، کان کھجائے اور بولا:’’مجھے علمیت کے اظہار کا کوئی شوق نہیں۔سب جانتے ہیں میں کیا ہوں۔یہ شوق آپ کو مبارک۔ویسے آپ کی اطلاع اور اصلاحِ زبان کے لئے دوبارہ عرض کرتا ہوں کہ خرِ ناچیز کو خرخر شریفی ؔ کہتے ہیں۔ لکھنؤ میں پیدا ہوا بعدازاں ’چٹ پٹ یونیورسٹی آف پولیٹی‘ سے ماسٹرز اور ڈاکٹریٹ کی اسناد حاصل کیں۔نامساعد حالات نے ہجرت پر مجبور کر دیا۔سردست میں یہاں ایک معروف ٹھیکدارکے ہاں ملازم ہوں جوان دنوں سیاسی میدان میں قسمت آزمائی میں مصروف ہیں۔تمہاری اطلاع کے لئے عرض ہے کہ میں محض ڈارونؔ کا نظریہ سے ہی واقف نہیں بلکہ دنیا بھر کے انقلابوں کی تاریخ،مختلف سیاسی نظریات اور عالمی تاریخ،ادب اور تنقید سے گہری واقفیت رکھتا ہوں۔نظریاتی طور میں خرشلسٹ ہوں‘‘۔
’’خرشلسٹ....................؟‘‘ ہم نے قدرے حیران ہو کر پوچھا:’’ یہ کیا ہے میاں خر خر شریفیؔ ‘‘
’’ یہ گدھوں کے حقوق کے لئے وضع کردہ عالمی نظریہ ہے جس کے تحت گدھوں کی ایک آزاد و خودمختار ریاست کا قیام جس میں خرشلسٹ نظام ہوگا اور’حقوقِ خر‘ سمیت عالمی سطح پر گدھوں کے ساتھ ہونے والے امتیاز کے خلاف جدوجہد کرنا ہے۔میں اس مجوزہ ریاست کا نامزد بادشاہ ہوں۔ریاست خرستان!‘‘
عزیزو! ہم نے اپنے دائیں بائیں دیکھا کہ کوئی ہمیں گدھے سے باتیں کرتے دیکھ کر غلطی فہمی کا شکار تو نہیں ہو رہا۔کہتے ہیں غلط فہمی کی وبا بڑی جلد پھیلتی ہے اور ویسے بھی ہمارے دشمن بہت ہیں اسلئے احتیاط لازم ہے لہذا آپ بھی جب کسی گدھے کو باتیں کرتے ہوئے پائیں تو اسے، احتیاط کو،، ملحوظ رکھیں۔اس میں دو اور چار ٹانگوں والے گدھوں کا کوئی استثنیٰ نہیں۔
گدھے کی اس عالمانہ گفتگو سے ہماری تو گھگی بندھ گئی تھی تاہم ہم نے کھانس کر حلقوم تر کیا ،کہ گدھا ہمیں جیّد جاہل تصور نہ کر لے اور ہمارے متعلق غلط فہمیاں نہ پھیلاتا پھرے ،ہم نے ذرا بارعب انداز اختیار کرتے ہوئے کہا:’’خرخر شریفی! تم بھی کسی عام مخلوق سے مخاطب نہیں ہو۔ اول تو ہم اشرف المخلوقات میں سے ہیں۔دوم اردو زبان کے نہایت بے لوث خادم،مصنف ، مفکراور ماہنامہ’’برقِ ناگہاں‘‘ کے مدیر ہیں، انسانوں سے بات کرنے سے پہلے اپنی اوقات ملاحظہ کرو، منطق، فلسفہ شعرو حکمت، ریاضی اور نجوم پر ہماری دس کتابیں منظر عام پر آچکی ہیں اور بارہویں قینچی میں ہے‘‘
گدھا چند لمحے ہمیں یوں دیکھتا رہا جیسے ہمارے علم و دانش پہ خاموش ہنسی ہنس رہا ہو پھر بولا:’’پتہ نہیں یہ تم انسانوں نے اپنے ساتھ اشرف المخلوقات کا دُم چھلہ کیوں لگا رکھا ہے۔کبھی سوچا ہے کہ آخر تم میں اشرافیت کون سے ہے؟۔خداوند اِ کریم نے جس انسان کو اشرف المخلوقات کہا تھا وہ تو جنابِ آدم اور ان کا فرزندِ خوش بخت ہابیلؔ تھا جسے اس کے اپنے بھائی قابیل نے تہہِ تیغ کر دیا اور آج تک یہ روایت جاری ہے۔قتل، خونریزی،دھوکہ دہی،فریب،بغض، عناد، نفرت کیا یہ اشرافیت ہے؟نسل، قومیت، کلیسا۔محمود و ایاز کا فرق، گنگو تیلی اور راجا بھوج کا امتیاز۔جمہوریت کا ڈھول پیٹتے ہو اور صارفیت اورعصبیت کو فروغ دیتے ہو..................۔پیچھے بھاگ رہے ہو اور اسے ترقی کہتے ہو۔انشاء اللہ ریاست خرستان کہ جس کے قیام کے امکانات روز افزوں روشن ہوتے جا رہے ہیں،کو قائم ہو لینے دو۔ پھر دیکھنا حقیقی فلاحی ریاست کیا ہوتی ہے۔ اور کیا کہا تم نے مدی ہو تم؟یہ دبدبہ کسی اور کو دکھانا۔ میں جانتا ہوں کہ فی زمانہ مدیر وہی بن سکتا ہے جو اوّل تو سرمایہ دار ہو یا بالکل سر مایہ دار نہ ہو۔مدیر بننے کی تیسری کوئی صورت نہیں۔ ویسے سرمایہ دار میں سے سر نکال باہر کیا اور صرف مایہ دار رہ جائے تب بھی آپ مدیر بن سکتے ہیں۔لہذا یہ کوئی قابلِ عزت بات ہر گز نہیں۔طب، ریاضی، فلسفہ،منطق اور شعرو ادب میں تم میرا مقابلہ نہیں کر سکتے۔ گوکہ میری ابھی تک کوئی کتاب نہیں چھپی تاہم ارادہ ہے کہ انشاء اللہ ریاست خرستان کے قیام کے ساتھ ہی اپنی تمام مطبوعات کو چاند پر چپکاؤں گا تاکہ رات پڑتے ہی سب مخلوقات بلا معاوضہ و بلا امتیاز ان کا مطالعہ کر سکیں۔ویسے تمہارے اطلاع کے لئے عرض ہے کہ اردو شاعری میں مجھے ظفر بے حد پسند ہے...........!!‘‘
’’کون ظفر؟ ‘‘ہم قدر متعجب ہوئے:’’ظفر سموسے والا‘‘
’’اماں یارتم ظفر کو نہیں جانتے‘‘اس نے ہمیں گھورتے ہوئے کہا’’ اردو کا بہت بڑا شاعر ہے۔ بلکہ بعضے کا خیال تو یہ ہے کہ شاعر ہی وہی ہے فی زمانہ۔تم نے اس کی ’’رطب و یابس‘‘ نہیں پڑھی۔اگر نہیں پڑھی تو میرا ماننا ہلے کہ تم سراسر جاہل ہو۔ آہا کیا کہہ گیا ہے ظالم۔شعر سنو:
چھوٹے ٹھاہ بھئی موٹے ٹھاہ
کاروں کوٹھیوں والے ٹھاہ
یہ سن کر پہلے تو ہمارا جی چاہا کہ اُسے، خر خر شریفی کو،اپنے عصا سے پیٹ کر واپس دریا پار بھگا دیں۔ آخر گدھا ہی تو ہے، کیا ہوا اگر انسانوں جیسا نام رکھا لیا ہے، تاریخ،فلسفہ، سائنس، ریاضی اور عروض و بیان پر قدرت رکھتا ہے۔ لیکن آخر ہے تو گدھا ہی۔لیکن پھر یہ سوچ کر خاموش رہے کہ علمیت میں بہر حال ہم سے آگے ہے لہذا کیا ضروری ہے اس دل جلے کو چھیڑ کر خواہ مخواہ ایک طویل بحث میں الجھا جائے۔یہی سوچ کر ظفرکے شعر پر بے حد داد دی اور خر خر شریفی کے آگے ہم نے بھی کورنش بجا لایا اور رخصت کی اجازت چاہی لیکن اس کا سلسل�ۂ کلام بدستور جا رہا:
’’ تم کیا جانو اس شاعری کو میاں!یہ اصل شاعری ہے۔شاعر اس میں بیک وقت سوشلسٹ، صارفیت، جنگجوئیت،اشتراکیت، سمیت دیگر نظریات سمونے میں کامیاب رہا ہے۔ وہ زمانے لد گئے جب شاعر قتل و خوں کے لئے باضابطہ تمہید باندھتا تھا اور خنجر ، تیغ، وغیرہ کی باتیں کرکے اپنا اور دوسروں کا وقت خراب کرتا تھا۔اب جدید اور ترقی یافتہ دور میں خنجر آزمائی کا وقت کس کے پاس۔لہذا شاعر سیدھے سادے انداز میں’’ ٹھاہ‘‘ کرکے اپنا اور دوسروں کا وقت بھی بچاتا ہے اور تکنیکی ترقی کی فضیلت بھی بیان کرتا ہے جس کے باعث محض ایک ’’ ٹھاہ‘‘ میں ہی اشرف المخلوقات کو ڈھیر کیا جا سکتا ہے‘‘
’’بس بس..........!‘‘اب ہم میں کھڑے ہونے کی سکت بھی باقی نہیں رہی تھی اس لئے ہم نے اس بلیغ گدھے کو ٹوکتے ہوئے کہا:’’ہمیں اس طویل بحث میں الجھانے کی کوشش مت کرو.....آخر تم گدھے ہو اور گدھے ہی رہو گے۔ہمارے ساتھ ایسی باتیں کر لیں سو کرلیں کسی اور انسان سے مت کرنا نہیں تو پیٹ پیٹ کر دوبارہ لکھنؤ بھاگنے پر مجبور کر دے گا‘‘
گدھا اس بات پر پہلے ہمیں نہایت خشمگیں نظروں سے دیکھتا رہا پھر قہقہہ بلند کرتے ہوئے بولا:’’ایسی باتیں ہا ہا......ہنچو ہنچو ہا ہا ہا...............ہم گدھے ایسی باتیں سب سے نہیں کرتے۔یہ اعزاز توہم محض انہیں بخشتے ہیں جن میں ہمیں گدھے پن کا شائبہ ہو اور یہ اُمید ہو کہ انہیں’گدھایا‘‘ جا سکتا ہے۔ ورنہ انسان بھی کوئی منہ لگانے کی چیز ہے۔ باسی اور مری ہوئی گھاس کے موافق.................میاں چلو!اب اپنا راستہ ناپو۔ ہمارے قیلولہ کا وقت ہو چلا ہے‘‘
lll
skkarrar@gmail.com

کالم نگار: شیخ خالد کرار

اردو کی اچھی کتابیں پڑھنے کے لیے کلک کریں:

1 comment:

  1. وااااااااااااااااااااااااہ ۔۔۔۔۔ بہت عمدہ

    ReplyDelete