Google+ Followers

Monday, 9 June 2014

غزل بہانہ کروں



آہا عزیزو! ایک روز ہم غزل گنگنا رہے تھے اور اس کے معنی پہ غور کر رہے تھے۔ غزل کے معنی تو آپ بخوبی جانتے ہیں کہ ’عورتوں کے متعلق باتیں کرنا‘اور غزل کہنے( فی زمانہ گھڑنے) والے کو شاعر کہتے ہیں۔ اللہ اللہ ! کیا معنی ہوئے ہیں غزل کے۔ یعنی عورتوں کے متعلق باتیں کئے جاؤ اور دھڑلے سے کئے جاؤ۔کوئی پوچھنے والا نہیں۔اللہ معاف کرے ! ہمارے پیرو مُرشد کو معلوم نہ ہونے پائے۔ خدا جانے اس صدمے کا ان پر کیا اثر ہو؟یعنی حد ہے بھئی! یہ شاعر لوگ اتنے کایاں ہیں کہ بہو بیٹیوں کی باتیں برسرِ عام کرتے پھریں اور کوئی خبر تک نہ لے۔میاں قربِ قیامت کی نشانیاں ہیں سب۔ اللہ معاف کرے۔استغر اللہ! ٹھیک ہی کہا تھا افلاطون نے کہ اس کی مثالی ریاست میں شاعروں کے لئے کوئی جگہ نہیں۔اسی لئے ہم افلاطون کی بے حد عزت کرتے ہیں۔ افلاطون بہو بیٹیوں کی عزت کرنا جانتا تھا اور شاعروں کے اس وطیرے سے بھی غالباً آگاہ تھا۔
شاعر بھی کیا ہوئے ہیں ا ور ہیں۔ یعنی ایک جانِ ناتواں اور اس قدر بکھیڑے۔پہلے تو ایک خیالی دنیا آباد کرنی، اُس میں چرند پرند، انسان، حیوان، نباتات و جمادات پیدا کرنے اور دُودھ اور شہد کی نہریں بہانیں،گُل و بلبل کے نغمے ،آبشاروں کا ترنم اور پھولوں کا تبسم ۔پھر ایک رقیبِ رُوسیاہ کو دعوت دینی کہ میاں تم بھی آؤ۔ اس قدر خوبصورت جگہ اتنی محنت سے بنا کر بجائے اس کے کہ اس میں ہنسی خوشی رہے شاعر ایک عدد پری زاد کو باغ میں بٹھا کر اس کی پرستش اور رقیب سے حسد شروع کر دیتا ہے اور پھر اس کے ہجرو فراق میں وہ نغمے الاپتا ہے کہ الاماں! بھئی! بڑے دل گُردے کا کام ہے ہم تو باز آئے۔
اب دیکھئے ایک شاعر ہوئے ہیں ، حق مغفرت کرے۔انہوں نے تو علیٰ الاعلان کہہ دیا کہ’ کروں نہ یاد مگر کس طرح بھلاؤں اُسے؍ غزل بہانہ کرو اور گنگناؤں اسے‘۔توبہ ہے بھئی!تو گویا غزل کی آڑ میں آپ گیت بھی گاتے پھرتے ہیں۔ یہ تو دوہراجرم ہے۔ مثالی ریاست میں گویوں کا کیا کام؟ مزید بر�آں ہمارے بزرگوں کا بھی یہی حکم ہے کہ موسیقی سے پرہیز کرو۔ ہاں نُور جہاں، کندن لال سہگل اور بیگم اختر اور عزیز میاں کو گاہ بہ گاہ سننے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ خاص کر عزیز میاں قوال کے متعلق تو کہا جاتا ہے کہ انہیں نہار منہ سننے سے دماغ کی گرمی جاتی رہتی ہے اور قالب رواں رہتا ہے۔
شاعر بھی کیا ہوئے ہیں اور اور کیا کہہ گئے ہیں،۔کبھی کبھی تو ہم انگشت بدنداں رہ جاتے ہیں اور بعد میں انگشتِ شہادت دیکھتے ہیں جس پر ہمارے ہی دانتوں کے نشان ہوتے ہیں۔ ہم حیران ہیں کہ اس قدر لاغر جسم، ڈھانچہ نما وجود اور شاعر کا یہ حوصلہ۔ایک شاعر تو بہت پہلے کہہ گئے تھے کہ میاں شیخ دیکھو ہماری تر دامنی پہ مت جاؤ، ہم اگر دامن نچوڑ دیں تو فرشتے آآر کر وضو کریں۔گویا یہ ایک طرح سے چیلنج تھا فرشتوں کے لئے،چاہیے تو یہ تھا کہ فرشتوں کی سلامتی کونسل اس حوالے سے کوئی اقدام کرتی اور شاعر اور شاعروں کے ہوش ٹھکانے لائے جاتے لیکن ہنوز ایسا نہیں ہوا۔بھئی یہ بھی کوئی بات ہے کہ دامن نچوڑ دیں تو فرشتے وضو کریں۔اوّل تو اس نُوری مخلوق کو وضو کی ضرورت اور فرصت ہی کیا ہے۔ دوم اگر ضرورت پڑ بھی جائے تو شاعر کا دامن نچڑوانے کی کیا تُک ہے۔کیا حوضِ کوثر کم ہے؟؟فرشتوں کی اس حرکت، یعنی شعراء اور بطور خاص شاعر مذکور کے خلاف کاروائی نہ کرنے سے ہمیں زبردست مایوسی ہوئی۔ تب سے ہم سوچ رہے ہیں کہ ہو نہ ہو فرشتے شعراء سے خائف رہتے ہوں گے جبھی تو کسی فرشتے نہ کسی شاعرکی آج تک خبرنہ لی۔ایک بار اس یقین سے حوصلہ پا کر ہم پورا دن دامن نچوڑتے رہے اور اُفق کی طرف دیکھتے رہے کہ اب کوئی فرشتہ آئے کہ تب۔لیکن پورا دن دامن نچوڑنے کے بعد ہمارایقین کہ فرشتے شعراء سے خائف رہتے ہیں، یقینِ کامل میں تبدیل ہو گیا۔اس روز ہمیں بے انتہا خوشی ہوئی کہ چلو کوئی تو ہے جس سے فرشتوں جیسی مخلوق بھی خائف ہے۔آنجہانی کرشن چندر سے روایت ہے کہ شاعر سے پولیس اور چور دونوں خائف رہتے ہیں۔حالانکہ یہ دونوں اپنی صفات کے اعتبار سے کسی دوسرے بالکل نہیں ڈرتے لیکن شاعر نظر آجائے تو چور سامان چھوڑ کر اور حوالدار لٹھ چھوڑ کر بھاگ جاتا ہے۔ایک بار ہم اپنے ایک دوست سے ملاقات کی غرض سے پولیس تھانہ پہنچے تو کیا دیکھتے ہیں کہ اندر زبردست سراسیمگی ہے۔بعداز تحقیق معلوم ہوا کہ ہمیں پھاٹک سے اندر آتے دیکھ لیا گیا ہے اور دیکھنے والوں میں ہم سے خار رکھنے والے بھی شامل تھے۔یقیناًانہوں نے تھانیدار سے ہماری چغلی کھائی ہوگی کہ ہم شاعر ہیں۔حالانکہ ہم تو کسی پایہ کے شاعر بھی نہیں۔بہر حال اس روز ہم نے نہایت اطمینان سے پورے پولیس تھانہ کی چہل قدمی کی اور بڑی افسردہ دلی سے گھر لوٹ آئے۔
ہاں توعزیزو! جیسا کہ ہم نے عرض گزاری کہ عام آدمی اگر کوئی بڑا دعویٰ کرے تو لوگ اس پر ہنستے ہیں۔ مثلاً ہمارے ہمارے استاد اگر یہ کہیں کہ رات بھر جاگ گر انہوں نے آسمان کے تارے گنے اور کُل ستاسی کروڑ بانوے ہزار نوسو ستر ہوئے ہیں۔ تو لوگ ان پر ہنسیں گے اور اگر کسی سیاسی جماعت کا کوئی کارکن یہ کہے کہ وہ عنقریب وزیراعظم بننے والا ہے تو لوگ اور بھی ہنسیں گے کہ بَڑ ہانک رہا ہے۔لیکن شاعر اگر کوئی ایسا دعویٰ کرے تو اسے تعلیٰ کہہ کر داد و تحسین کے ڈونگرے برسائے جاتے ہیں اور خوب خوب تالیاں پٹتی ہیں۔ مثلاً کوئی شاعر کہہ گئے ہیں کہ بھئی ’ہمارے سر کی پھٹی ٹوپیوں پہ مت جاؤ؍ ہمارے تاج عجائب گھروں میں رکھے ہیں‘۔بھلا ان تاجوں کا کیا جو عجائب گھروں میں پڑے پڑے خراب ہو رہے ہیں اور آپ ہیں کہ ٹوپیاں مانگ مانگ کر اور سی سی کر گزارہ کر رہے ہیں۔ یعنی صبح ہوئی اور بقول مرزا نوشہ گھر سے کان قلم پر رکھ کر نکلنے سے قبل جمال و جلال کی اماں سے کہا’’ نیک بخت! ذرا جانا تو،مکرر ارشاد میاں کے گھر سے ایک ٹوپی اُدھار لے آنا آج مشاعرہ پڑھنا ہے‘‘۔اب اس کو، عجائب خانے میں رکھی ٹوپیوں کو، بَڑ کی جگہ تعلیٰ کہیں گے۔ چونکہ ہم بیان کر چکے ہیں کہ شاعر بڑے کایاں ہوتے ہیں انہوں نے بَڑ کو صفت میں شامل کرکے اس کا نام تعلیٰ ڈال دیا تاکہ کوئی شریف زادہ ان کی طرف آنکھ میلی کر کے نہ دیکھ سکے۔
شاعروں کے نام اور تخلص بھی بڑے دلچسپ ہوتے ہیں ۔ ہمارا دعویٰ ہے کہ اودھ بلاؤ کے بعد دنیا کی یہ واحد مخلوق ہے جس کے نام و تخلص شخصیت سے بالکل میل نہیں کھاتے جیسے شاکرؔ بخیلی،ببنؔ کریلہ پوری،مشربؔ طاغوتی،دردؔ خوش آبادی،غمؔ شہریاری، شیخوؔ شیخ چلی وغیر جیسے بیشمار تخلص مستعمل ہیں۔خود ہمارا بھی ارادہ ہے کہ انشاء اللہ بڑے ہو کر غزل گھڑنے کی مشق بہم پہنچائیں گے اور جب اس ہنر میں خوب مشتاق ہو جائیں گے تو اپنا ایک منفرد نام و تخلص مشتاقؔ آدم بیزاری رکھ کر شعر کہیں گے کیونکہ فی زمانہ شعر کہنا چنداں مشکل نہیں۔بس آپ اردو کا کوئی پرانا اخبار اٹھا لیجئے اور اس کے مضانین کو کاٹ کر غزل کے پیرایہ میں لکھتے جائیے۔آپ اس کے لئے نیا اخبار بھی استعمال کر سکتے ہیں لیکن سرقہ کے الزام کا خطرہ ہے۔لہذا مناسب یہی ہے کہ اخبار پرانا ہو اور اس میں کہیں نہ کہیں کسی مضمون میں فارسی کا استعمال بھی ہوا ہو۔اگر ایران سے فارسی اخبارات کی ایک کھیپ منگوا لی جائے تو زیادہ موزوں ہوگا۔اس سے لوگوں، خاص کر شعراء اور نقادوں پر رعب بنا رہے گا کہ فارسی پر بھی گرفت رکھتے ہیں۔اگر آپ چاہیں تو اپنے نام کے ساتھ جدید، مابعد جدید، انتہائی جدید، اور پسِ ما بعد جدید یااسی طرح کی تراکیب بھی استعمال کر سکتے ہیں۔ اس سے آپا کا رعب دگنا ہو جائے گا اور انشا اللہ چاروں طرف آپ کا طوطی بولنے لگے گا اور جب خوب بول جائے تو آپ طوطی کو چپ بھی کرا سکتے ہیں۔بس یہ خیال رہے کہ کوئی قاری لاکھ سر مارے آپ کے اشعار سے معنی بر آمد نہ ہو سکیں۔شعر جس قدر مشکل ہو اور معنی جس قدر کم ہوں، شاعر اس قدر کامیاب اور عمدہ تصور کیا جائے گا۔اس کے لئے فقط ایک شعر کی مثال کافی ہے جوخود ہماری عمدہ شعر گوئی کا نمونہ بھی ہے ملاحظہ کیجئے انشاء اللہ شعری افاقہ ضرور ہوگا۔
تشکیک و لایعنیتِ بیش وکمِ حیات ہے
حیات ہے، بساط ہے، مری میں بھی سوات ہے
skkarrar@gmail.com

کالم نگار: شیخ خالد کرار

خالد کرار کی غزلیں ریختہ پر پڑھنے کے لیے کلک کریں

1 comment: