Google+ Followers

Wednesday, 8 January 2014

ریختہ : ایک سال کی روداد، اگلے سال کی تیاری


ظفر اقبال کا ایک شعر ہے
سالہاسال سے خاموش تھے گہرے پانی
اب نظر آئے ہیں آواز کے آثار مجھے
ریختہ کو ایک سال کا عرصہ گزر گیا ہے۔کوئی تسلیم کرے یا نہ کرے، مگر اردو دنیا اس ایک سال کے عرصے میں ترقی کی ایک ایسی منزل سر کرچکی ہے، جس کا امکان شاید کسی کو نہیں تھا، آج سے تقریباً تین سال پہلے ریختہ جیسی ویب سائٹ بنانے کا خیال سنجیو صراف کو آیا اور انہوں نے اردو شاعری کو ہندی اور انگریزی داں طبقے تک اس کے اصل متن کے ساتھ پہنچانے کے لیے کوشش شروع کردی۔ترقی دراصل ایک خیال کی ہی مرہون منت ہوتی ہے۔ترقیاں اچانک ہی شروع ہوتی ہیں،ان کو زینہ بنانے کی ضرورت ہو نہ ہو، اڑنے کا سلیقہ ضرور آتا ہے۔ریختہ کی اس ایک سال میں پذیرائی خوب ہوئی۔اردو دنیا کے ماہرین نے اسے زبان کے حق میں فال نیک سمجھا اور بہت سے لوگوں نے اس کو شک کی نگاہ سے بھی دیکھا۔تعریف اور شک کا ساتھ چولی دامن کا ہے۔کئی لوگوں کے دل میں یہ بھی خیال پیدا ہوا کہ اتنا بڑا کام، اس سلیقے سے کرنے کے لیے آخر ایک ایسے شخص کو خیال کیوں آیا ، جو کہ بنیادی طور پر ایک صنعت کار ہے۔اس ایک سال میں ریختہ کی نگاہ اپنے چاروں جانب رہی ہے۔اس کی سچے دل سے ہونے والی پذیرائی کی طرف بھی ،اور اس پر لگنے والے الزامات کی طرف بھی۔کئی لوگوں نے ریختہ کو ایک بے کار محض ویب سائٹ اس لیے بھی کہا کیونکہ اس میں اردو کا متن یونی کوڈ میں فراہم نہیں کیا گیا تھااوراسے صرف و محض امیج کی حد تک قید رکھا گیا تھا۔اس طبقے کا ماننا تھا کہ امیج کی صورت میں متن پیش کرنے کی وجہ سے ویب پیج زیادہ دیر میں لوڈ ہوتا ہے اور موبائل پر ایسی ویب سائٹ کو پڑھ پانا یا ان سے استفادہ کرپانا، بہت مشکل کام ہے۔اور جب ریختہ نے ان کی خواہش کے مطابق اپنی پالیسی تبدیل نہیں کی، تو ایک صاحب نے کسی سیمینار کے دوران ریختہ کی تکنیکی خرابیوں کے ساتھ ساتھ اس کے ای۔کتاب گوشے کو بھی مجمع میں برا بھلا کہنا شروع کردیا۔ریختہ نے ان تمام الزامات پر نظر ثانی کی، مگر اس کا موقف اپنی جگہ درست تھا، لوگوں کو یہ بھی شکایت ہے کہ کتابیں ڈاؤنلوڈ کرنے کی سہولت کیوں نہیں دی جارہی ہے۔میں ریختہ کے ایک سال مکمل ہونے پر ان سوالوں کے جوابات دینے کی اپنی سی کوشش کررہا ہوں۔یہ جوابات میں کسی کے شکوک و شبہات رفع کرنے کے لیے نہیں دے رہا ہوں۔بلکہ تکنیکی طور پر جو لوگ کچھ بنیادی باتوں کو نظر انداز کردیتے ہیں، ان کو ریختہ کی اس پالیسی کے کچھ فائدے بتانا میرا مقصد ہے۔اول بات تو یہ ہے کہ ریختہ نے نوری نستعلیق فونٹ کو امیج میں کنورٹ کرکے اس لیے بھی اپلوڈ کیا ہے، کیونکہ تصویری صورت میں ہونے کی وجہ سے یہ ہر جگہ پر ایک جیسا خوبصورت اور دلکش نظر آتا ہے۔اب ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ جس جگہ نوری نستعلیق فونٹ ڈاؤنلوڈ نہیں کیا جائے گا،وہاں ریختہ کا متن عربی حروف ٹائپ نظر آئے گا۔اس مشکل سے بچانے کے لیے اور ڈاؤنلوڈنگ اور انسٹالنگ کے لمبے چکرسے اپنے قاری کو آزاد رکھنے کے لیے یہ کام انجام دیا گیا۔پھر کاپی کرنے کی سہولت نہ دینے کے پیچھے دراصل ریختہ کا ایک بنیادی حق ہے، جسے محفوظ رکھنے سے اسے کوئی نہیں روک سکتا۔ریختہ کسی فرد واحد کا کام نہیں ہے۔اس کے لیے ایک پورا اسٹاف کام کررہا ہے، ٹھیک اسی طرح جس طرح کسی بڑے ادارے میں موجود افراد کام کیا کرتے ہیں۔ان افراد کی معاشی اور جذباتی وابستگی ریختہ کے ساتھ لازمی ہے۔اگر ریختہ اس تمام تر متن کو کاپی ایبل بنادے تو کیا ممکن نہیں ہے کہ ایک مہینے کی محنت سے کوئی شخص جو ایک ویب ڈزائنر اور آئی ٹی کے شعبے سے تعلق رکھنے والے کسی سوفٹ وےئر انجینیر کی مدد سے ایسی ہی کوئی دوسری ویب سائٹ نہیں بنالے گا۔ریختہ کے کمپوزرز، اسکینرز ،ایڈیٹرز، پروف ریڈرزاور کلام کا انتخاب کرنے والے تمام تر لوگوں کی محنت پر کیا یہ تین شخص کیا بڑی آسانی سے پوری طرح اپنا تسلط قائم نہیں کرسکتے۔اب رہی دوسری بات کتابوں کی ڈاؤنلوڈنگ کی، تو تف ہے ان دماغوں پر، جو یہ نہیں سوچتے کہ جس طرح کا لٹریچر ریختہ نے ایک سال کی محنت سے آن لائن جمع کردیا ہے۔اس میں اسے کیسی کیسی مشکلات پیش آئی ہونگی، ظاہر ہے کہ ریختہ کوئی سرکاری ادارہ نہیں ہے، جسے اس طرح کی خدمات انجام دینے کے لیے گورنمنٹ کی طرف سے کوئی خاص گرانٹ وغیرہ مل رہی ہو۔اس سرمائے کا استعمال اگر کسی بھی طرح سے لٹریچر کو آن لائن کرنے کے لیے کیا جارہا ہے ، اور وہ بھی مفت میں اچھی کتابیں عوام کے سامنے لا کر رکھ دی جارہی ہیں تو صرف ایک انٹرنیٹ کنکشن کے استعمال پر یوں جھنجھلانا کیا کوئی کار عقلمنداں ہے؟ کیا لوگوں کو نہیں سوچنا چاہیے کہ ریختہ لوگوں کے گھرو ں میں موجود کتابوں کے بھاری بھرکم شیلف کو انٹرنیٹ پر اپلوڈ کرکے، مواد سرچ کرنے کی جو سہولت دے رہا ہے وہ ان کا وقت کس قدر بچا سکتا ہے۔کسی بھی کتاب کو اپلوڈ کرنے کے لیے ایک خاص پروسز کی ضرورت ہوتی ہے۔اگر کوئی کتاب کسی جدید مصنف کی ہے تو اس سے یا اسے شائع کرنے والے ادارے سے سب سے پہلے اس کا تحریری اجازت نامہ طلب کرنا ہوتا ہے۔اس کے بعد اس کتاب کو اسکیننگ کے مرحلے سے گزارا جاتا ہے، اسکین ہونے کے بعد کتاب کو ریڈیبل بنانے کے لیے اس کو ایڈٹ کیا جاتا ہے۔اس کے بعد کتاب کی فہرست کو ٹائپ کیا جاتا ہے، پھر اسے ٹول کے ذریعے ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا جاتا ہے۔پھر مصنف کو یا ادارے کو سب سے پہلے اس بات کی یقین دہانی کرائی جاتی ہے کہ ہمارا مقصد لوگوں کو کتابوں کی موجودگی کے بارے میں بتانا ہے، ریسرچ کرنے والے طلبا کو ان کا مطلوبہ مواد بہم کرانا ہے، اس لیے ہم آن لائن پڑھنے کی تو سہولت دے رہے ہیں، انہیں ڈاؤنلوڈ کرنے کی سہولت نہیں دے رہے، اور اگر ہم مستقبل میں ای۔کامر س کا شعبہ قائم کرتے ہیں تو اس میں ڈاؤنلوڈ کی جانے والی ہر کاپی کی ایک قیمت رکھی جائے گی اور اس کا ایک خاص شےئر کتاب اپلوڈ کرنے کی اجازت دینے والے ادارے یا مصنف کو دیا جائے گا۔یہ تو تھی جدید کتابوں کی بات، اب رہی ان پرانی کتابوں کی بات جو کہ کاپی رائٹ کے حقوق سے باہر ہیں، ان پر بھی ایک اسکینر، ایک ایڈیٹر، ایک فہرست ساز اور ایک اپلوڈر کی محنت لگتی ہے۔اب ان چار لوگوں کا حق محنت انہیں کوئی بھی کمپنی کس صور ت میں دے سکتی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ اگر یہ کتابیں ڈاؤنلوڈ کرنے کو دے دی جائیں تو کوئی بھی شخص بہ آسانی بغیر فہرست کے انہیں آرکائیو ڈاٹ او آرجی یا کسی اور بڑی کتابوں کی ویب سائٹ پر آسانی سے اپلوڈ کرسکتا ہے ،تو سوال یہ ہے کہ ان چار، پانچ لوگوں کی محنت تو رائگاں چلی گئی، پھر تو لوگ جو کتاب جہاں سے چاہیں گے ،آسانی سے انہیں وہ کتاب کوئی شخص دستیاب کرادے گا، پھر ریختہ کی اہمیت، انفرادیت اور افادیت ہی کیا رہ جائے گی۔
ریختہ نے ایک سال کے عرصے میں آٹھ ہزار غزلو ں کو ایک جگہ جمع کردیا ہے۔اس کے علاوہ تقریباًہزار نظمیں اور ایک ہزار کی ہی تعداد میں کتابیں بھی بہم کرادی گئی ہیں۔ان کتابوں میں ادب اور ادبی سیاق کو سمجھنے میں کارگر ہونے والی تمام تر کتابوں کو شامل رکھا گیا ہے۔ریختہ کا تعلق صرف و محض ادب سے ہے، مگر کوئی ایسی تاریخ کی کتاب جو ادب کا حوالہ بنتی ہے، کوئی ایسی مذہب کی کتاب جو ادب کا سیاق سمجھاتی ہے یا کوئی ایسی سماجیات و معاشیات کی کتاب جس سے ادب کے کسی بھی گوشے پر روشنی پڑنے کا امکان ہے،ریختہ کے ای بک سیکشن میں جگہ پا سکتی ہے۔اس سال ریختہ کے ای بک گوشے میں جہاں ایک طرف اجمل کمال ، عمر میمن، یاسر جواداور ارجمند آرا جیسے اہم ناموں کے تراجم اپلوڈ کیے گئے، وہیں تنقید کے شعبے میں مولانا الطاف حسین حالی، کلیم الدین احمد، آل احمد سرور، شمس الرحمن فاروقی اور شمیم حنفی وغیرہ کی کتابیں بھی عوام کے سامنے لائی گئیں۔شاعری کے گوشے میں ہم نے بہت سے اہم شاعروں کی کلیات اور مجموعے پیش کیے۔جن میں قائم چاند پوری،جعفر زٹلی، قلندر علی بخش جرات،نسیم لکھنوی،باقر علی چرکین، جگر مرادآبادی،علامہ اقبال، مجید امجد، جون ایلیا، ناصر کاظمی،سارا شگفتہ،اخترالایمان، ظفر اقبال، فہمیدہ ریاض، کشور ناہیداور نصیر احمد ناصر وغیرہ جیسے اہم نام شامل ہیں۔مقدمہ ابن خلدون جیسی بسیط اور فکر انگیز کتاب کے ساتھ ساتھ مولانا ابوالکلام آزاد کی حیات سرمد جیسی دبلی پتلی لیکن اہم کتاب بھی اس سال ریختہ کا حصہ بنی۔ساتھ ہی ساتھ خامہ بگوش کے قلم سے جیسی مشفق خواجہ کے کالموں کا مجموعہ بھی ریختہ کی زینت بنا۔
شاعری کے ذیل میں مجھے خود بہت سے اچھے شاعروں کو پڑھنے کا موقع ملا۔جن کے میں نے اب تک صرف نام سنے تھے اور انہیں ٹھیک سے پڑھا نہیں تھا۔ایسے ناموں میں ریختہ پر موجود ریاض لطیف، اطہر نفیس، ثروت حسین، صغیر ملال، آشفتہ چنگیزی، رئیس فروغ اور جلیل عالی جیسے کئی اور بھی شعراشامل ہیں۔نوجوان نسل میں معید رشیدی کی دو تنقیدی کتابیں ، امیر امام کا شعری مجموعہ ، علی اکبر ناطق کے دو شعری مجموعے اور زاہد امروز کی پابلو نیروداکی نظموں کے تراجم پر مبنی کتاب بہت اہمیت کی حامل ہے۔
اس سال ریختہ کا حلیہ تبدیل ہونے جارہا ہے۔کیونکہ بہت سے لوگوں کو یہ شکایت ہے کہ اردو شاعری کی یہ اہم ویب سائٹ دراصل سمندر ہے۔جس میں کسی ایک گہر بے بہا کی تلاش بہت ہی مشکل ہے۔اس لیے ریختہ نے اپنے اندر بہت سی گنجائشیں پیدا کرلی ہیں۔ریختہ اب کے ایک ایسے سرچ انجن کے ساتھ آپ کے سامنے آئے گی جس میں آپ تمام تر چیزیں، یعنی کلام، خاکے، ای بکس سب کچھ رومن، دیوناگری یا اردو رسم الخط میں ٹائپ کرکے تلاش کرسکیں گے۔اس سال ریختہ میر تقی میر کے چھ دیوان کی مکمل غزلوں،مناقب، مرثیوں،مثنویات، رباعیات اور قطعات کے ساتھ آپ کے سامنے آنے والی ہے، ساتھ ہی ساتھ غالب کا تمام متداول اور غیر متداول کلام اور سعادت حسن منٹو کی تمام تر کہانیوں کو بھی آپ کے لیے پیش کرنے جارہی ہے۔میر کے تمام کلام کے لیے ہم قومی کونسل برائے فروغ اردو زبان کے ساتھ ساتھ اس کے مدونین احمد محفوظ ،شمس الرحمن فاروقی اور ظل عباس عباسی کے ممنون ہیں ، اس کے علاوہ منٹو کی کلیات کا جو متن ہمارے یہاں پیش کیا جارہا ہے ، وہ پاکستان کے شہر لاہور میں رہائش پذیر امجد طفیل صاحب کی کلیات منٹو سے ماخوذ ہے۔ان کے اس تعاون اور اجازت کے لیے ہم ان کے بھی تہہ دل سے شکر گزار ہیں۔
اردو شاعری پڑھنے والوں اور اس سے حظ حاصل کرنے والوں کو عروض کی بھی اگر تھوڑی بہت شد بد ہوجائے تو کیا ہی لطف رہے۔اس خیال کے تحت ریختہ نے اپنے یوم جشن تاسیس کے موقع پر عروض کے لکچر کی ایک سیریز کا آغاز کرنے کی تیاری مکمل کرلی ہے۔جس میں بھارت کے شہر نوئیڈا میں مقیم ماہر عروض بھٹناگر شاداب نے آسان زبان میں عروض کی الگ الگ بحروں پر لکچر دیے ہیں، جس میں عروض کا ایک مکمل کورس تیار کروادیا گیا ہے۔اس کی مدد سے کوئی بھی شخص بہ آسانی شاعری نہ سہی لیکن عروض کو ضرورسیکھ سکتا ہے، سمجھ سکتا ہے۔
آخر میں ریختہ کے چاہنے والوں کو دو ہزار چودہ میں ہونے والے کچھ اہم کاموں کے بارے میں بتاتا چلوں
۰ گوپی چند نارنگ کی ساٹھ کتابیں آن لائن کردی جائیں گی، جن میں ساختیات، پس ساختیات اور مشرقی شعریات بھی شامل ہے۔
۰اردو ای۔لرننگ کورس شروع کیا جائے گا
۰منٹو کاپورا لٹریچر جس میں کہانیاں، خطوط، مضامین، ڈرامے اورناول وغیرہ شامل ہیں۔آن لائن کردیے جائیں گے۔
۰میر انیس ، مرزادبیر،جوش ملیح آبادی وغیرہ کے مراثی اردو،دیوناگری اور رومن میں اپلوڈ کیے جائیں گے۔

مضمون نگار:  تصنیف حیدر

www.rekhta.org

No comments:

Post a Comment