Google+ Followers

Saturday, 31 May 2014

رئیس فروغ : باز آمد




میں گیا وقت نہیں ہوں کہ پھر آ بھی نہ سکوں
غالبؔ 
شاعری مایوسی سے پھوٹتی ہے۔وہ شخص جو الف،ب ، ت ،ث سے واقف ہے، اپنے درد، اپنی خوشی اور اپنے کھردرے جذبوں کو الفاظ میں بیان کرنے کا ہنر جانتا ہے، شاعر نہیں ہوجاتا، ہر شعر کہنے والا آدمی ٹھیک اسی طرح شاعر نہیں ہوتا، جس طرح ہر بولنے والا صاحب زباں نہیں ہوا کرتا۔لفظ کو جوڑنے کی ترکیب کا نام اظہار تو ہو سکتا ہے شاعری نہیں۔شاعری مایوسی سے پھوٹتی ہے، ہاں، اسی کے ابدی دائرے میں جنم لیتی ہے، وقت کے تپتے ہوئے تجربے اسے کندن بناتے ہیں اور پھر ایسا ہوتا ہے کہ انسان جو کہنا چاہتا ہے، اس کی مایوسی، اس کی سخت مایوسی جو اسے گھیرے میں لے کر کہلواتی ہے، وہ کہتا ہے، یہی غم کا اعجاز ہے اور یہی وہ ہنر ہے جسے دنیا شاعری کہا کرتی ہے۔ہمارے بزرگ کہا کرتے تھے کہ میرآہ کے شاعر ہیں اور سودا واہ کے، لیکن جب غور کرو تو معلوم ہوتا ہے کہ سودا صاحب،کوئی شاعر نہیں تھے، ان کی غزلوں کے خمیر میں ایک طرح کی سرخوشی، اطمینان اور محفل آرائی گندھی ہوئی ہے کہ وہ ویسے ہوہی نہیں سکتے تھے جیسے کہ میر صاحب تھے۔کیونکہ شاعری اپنی ہی ذات کے صحرا میں دربدری مانگتی ہے، شاعری خوار ہوتے رہنے کی، خراب ہوتے رہنی کی جستجو کی طلب گار ہے، انسان کو ذرا سا کسی زاویے سے غم پرور ہونا چاہیے، کوئی واقعہ، کوئی سکھ دینے والا واقعہ بھی اس کی آنکھ میں ریزے انڈیلتا ہوا گزرے، تب اسے دکھ کی دولت حاصل ہوتی ہے۔انسان اپنی ذات کے سوال پر غور کرتا ہے، یہ سوال اس کے بیرون کو کھوکھلا بناتا چلا جاتا ہے، اور یہ تپش اس کے اندرون کو پگھلائے چلی جاتی ہے، اسے ایک بے قراری نصیب ہوتی ہے، جس کے بدلے میں دنیا بھر کا پانی بھی کم محسوس ہونے لگتا ہے، اور یہ بے چینی، یہ بے قراری زندگی کے اننت کال تک شاعر کا پیچھا نہیں چھوڑتی۔بظاہر ہنستے گاتے، خوش اور بھرپورمطمئین لمحات کو بھی شاعر اپنے اسی دکھ کے رنگ سے رنگتا ہے ، اسی سوال سے آنکتا ہے اور پھر جو لفظ نتیجے میں حاصل ہوتے ہیں وہ اعلیٰ فن کا نمونہ ہوتے ہیں، کیونکہ ان میں زندگی کے ہونے کے پیچھے چھپے راز کو تلاش کرنے کی بصیرت چھپی ہوئی ہوتی ہے۔
ایسی شاعری رئیس فروغ کے یہاں ہے، ان کے شعروں میں تخلیقی وجدان رقصاں ہے، وہ وجدان جس کے ظہور و غیاب دونوں میں ایک طرح کی تلاش ہے، اس تلاش کے بے سود نتیجے ہیں اور حاصل اور لا حاصلی کے کچھ بے چین مظاہر ہیں۔
راتوں کو دن سپنے دیکھوں، دن کو بتاؤں سونے میں
میرے لیے کوئی فرق نہیں ہے ہونے اور نہ ہونے میں
رئیس فروغ، ایک کھویا ہوا، گم کیا ہوا شاعر ہے، جہاں تک مجھے علم ہے، اس کی شاعری پر بہت کچھ نہیں لکھا گیا ہے۔وجہ ظاہر ہے، ہم غالب، میر، اقبال اور فیض کی آسانی کے اتنے شکار ہوگئے ہیں کہ ان کی مشکلات کو بھی قبول کیے بغیر بس ان پر لکھے جارہے ہیں، اور جن لوگوں پر نہیں لکھا جاتا، گویا ہماری تنقیدی تاریخ یہ قبول کرچکی ہوتی ہے کہ یہ لوگ کھلتے نہیں ہیں، ان کے ہنراور فن کو کچھ میکانکی اصولوں اور بنے بنائے زاویوں کے ذریعے نہیں جانچا جاسکتا ہے۔تو ایسا کیوں ہے کہ ہم جدید زندگی اور جدید فن کے ایسے اصول ہی نہیں بنا پائے ہیں جن سے ایسی شاعری یا ایسی کہانیوں کے وجود اور سالمات پر بات کی جاسکے، ان کی خوبصورتی، نئے پن، اسلوب کی تازگی اور مضامین کے اشکال پر عقل کی کدالیں ماری جاسکیں۔ہماری عادت دراصل پھلانگ جانے کی ہوگئی ہے، ہم سطحی معاملات زندگی میں، اوپری مسئلوں میں، خارجی خیالات میں اتنے الجھا دیے گئے ہیں کہ ہمیں سوچنے سمجھنے کی اپج سے ڈر لگنے لگا ہے۔ہم اشتہار بازی کی لعنت کا شکار ہوگئے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ پچھلا دور ہم سے اچھا تھا، اچھا تو ہمارا ہی دور ہے کہ وسائل بہت زیادہ ہوگئے ہیں، اب کسی نہ کسی ذریعے سے ، کسی نہ کسی راستے سے ایسے فن پاروں یا فن کاروں پر جینوین افراد کی نظر پڑ ہی جاتی ہے، جو کسی مخفی گوشے میں اپنی یا دوسروں کی وجہ سے پڑے ہوئے تھے۔
خیر بات ہورہی ہے رئیس فروغ کی، رئیس فروغ اردو کے ایسے معدودے چند شاعروں میں ہے، جس نے اپنی الگ آواز بنائی ہے۔آواز بنانے کا عمل مشکل ترین کام ہے۔یہ مشق سے حاصل نہیں ہوتا، فکر سے حاصل ہوتا ہے۔مشق تو داغ کے شاگرد بھی کیا کرتے تھے، اور ایک ہی طرح کی حسنیہ اور عشقیہ روایت کو آگے بڑھاتے بڑھاتے بوڑھے ہوجایا کرتے تھے، یہ نتیجہ تھا دراصل آواز سے آواز ملانے کا، مگر اپنی آواز بنانا،روایت کے دھارے پر چلتے رہنے کا نام نہیں ہے بلکہ اسے آگے لے جانے کا عمل ہے، ایک نئی آواز اس بات کا ثبوت ہوتی ہے کہ اس نے اپنے پیچھے کی تمام آوازوں کی سحر انگیزی کو قبول کیا ہے اور اب وہ اس قابل ہے کہ لفظوں کو نئی راہوں پر لے جائے،نئے آسمانوں کی سیر کرائے اور زندگی کو ان مشاہدات پر اکسائے جو اس سے پہلے کے لوگوں کی آنکھوں سے اوجھل تھے،یعنی کہ پہلے کے لوگ کہاں اس بات کو دیکھ پائے تھے کہ
میں نے بھی ایک حرف بہت زور سے کہا
وہ شور تھا مگر کہ کسی نے سنا نہیں
یا
ساحل جیسی عمر میں ہم سے ساگر نے اک بات نہ کی
لہروں نے تو جانے کیا کیا کہا بھی ہے اور سنا بھی ہے
یا
حسن کو حسن بنانے میں مرا ہاتھ بھی ہے
آپ مجھ کو نظر انداز نہیں کرسکتے
یا
تیزی سے دوڑتے ہیں ٹرک بھی لدے ہوئے
میں بھی بھرا ہوا ہوں بہت انتقام سے
کچھ سائنسی ترقیاں، کچھ سماجی تبدیلیاں، کچھ ذہنی انقلابات، کچھ جمہوری و پادشاہی نظام حکومت کا فرق، یہ تمام باتیں پرانوں سے نئے لوگوں کو بہت الگ کرتی ہیں، وقت کا پہیہ گھوما تو وقت کی کمی ہوگئی، فراغت سے بیٹھ کر آم کھانے کا زمانہ چلا گیا اور دفتروں میں زبردستی کرسی نشیں ہونے کا دور آیا۔اس انقلاب نے بہت حد تک انسان کو خود مختار، بااعتماد اور فریب کار بنایا۔پرانے دور کی تاریخ میں ہم دیکھتے ہیں کہ لوگ غزلوں کے پلندے ہاتھوں میں لیے ایک استاد کی تلاش میں گھوم رہے ہیں، اصلاحوں کے طویل سلسلے، شاگردوں کی خدمات کا خاکہ اور مصرعوں، شعروں پر لکیروں کے ساتھ ساتھ صاد، دو صاد یا سہ صاد بنانے کا عمل جاری ہے۔مگر جدید طرز زندگی استری کی ہوئی شرٹ اور پتلون کے ساتھ ٹائپ رائٹر یا کمپیوٹر اسکرین پر انگلیاں گھسنے، نئے نئے قسم کے ڈیٹا کلکٹ کرنے اور ان کی فہرست سازی کرنے میں جٹی ہوئی ہے۔اس نظام میں نوکری کی بڑی اہمیت ہے، لوگوں کی خوشی کا زیادہ تر دار و مدار ہر ماہ ہاتھ آنے والی ایک طے شدہ رقم پر ہے، بنیے ، بقال سے لیے گئے ادھارراشن، موبائل ، بجلی اور پانی کے بل، گھروں کے کرایے ، حتی کہ ہرسانس پر ادا کی جانے والی رقم یا ٹیکس نے نوکری کو انسان کی زندگی کا ایک اٹوٹ حصہ بنادیاہے، اور غور کیجیے تو انسان کی ساری زندگی اس چکر میں پستی رہتی ہے، پھر اس میں اور زمینداروں کے یہاں اپنے آبا و اجداد کا قرض چکانے والے کسانوں میں کون سا ایسا فرق رہ گیا ہے، میری نظر اسی حوالے سے رئیس کے ایک شعر پر پڑتی ہے تو زندگی کے اس تجربے سے اگنے والی مایوسی پھر عود کرآتی ہے
کیا جانیے کہ جبر ہے یا اختیار ہے
دفتر میں تھوڑی دیر جو کرسی نشیں ہوں میں
اس روٹینڈ زندگی نے فن کاروں کی آزاد طبیعت پر گہرا اثر ڈالا ہے۔وہ شخص جو ہواؤں کے بدلتے ہوئے عکس دیکھنا چاہتا ہے، پرندوں کی اڑان میں چھپے ہوئے ان کے کرب لا مکانی کو پرکھنا چاہتا ہے، تعمیر کے طویل سلسلوں میں انسانی زندگیوں کی گھٹن اور خاموشی کے درد کو بے نقاب کرنا چاہتا ہے اور سب سے بڑھ کر روز ایک نیا سوانگ رچا کر جینا چاہتا ہے، مرتا جارہا ہے، جدیدانسان نے اپنے لیے یہ زندگی خود چنی ہے، اس نے اپنے خوابوں کی جڑوں میں زہر ملا ہوا پانی خود پہنچا یا ہے، ایسے میں فن کی موت، فنکار کی موت ایک لازمی نتیجے کے طور پر ہونی ہے،جو کہ یقیناًثانوی بات ہے،کیونکہ پہلا سوال تو انسانی جیون کا ہے، سو شاعر کہتا ہے
میری رگوں کے نیل سے معلوم کیجیے
اپنی طرح کا ایک ہی زہر آفریں ہوں میں
رئیس فروغ کی شاعری میں ایک سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ غزل کو بالکل الگ ڈھنگ سے پیش کرنے پر مصر ہے، اس کے یہاں نئے الفاظ کو شاعری کی لغات میں شامل کرنے کی کوشش کی گئی ہے، بظاہر یہ تجربے ہمیں ناکام اور کئی ایک جگہ برے بھی نظر آئیں گے، کیونکہ ہماری سماعتیں ایسے تجربوں کی عادی نہیں ہیں، لیکن اسے محض جدیدیت کی اوٹ پٹانگ کوشش سے تعبیر کرنا غلط ہے، رئیس فروغ نے جان بوجھ کر ایسے الفاظ کو شاعری میں جگہ دی ہے،کیونکہ فن کی بقا اپنے ہی آپ کو الٹ پلٹ کر دیکھتے رہنے کی ہے، وہ زمین زرخیز ہوہی نہیں سکتی، جس کو بھربھرانہ کیا جائے، جس کی مٹی کو کھرچا نہ جائے، آلتی پالتی مار کر بیٹھے رہنے کا کام بھکشوؤں کا ہے، سادھوؤں کا ہے،فنکار کا نہیں۔وہ تو زبان اور خیال دونوں کی سطح پر کچھ اور کا خواہش مند ہوتا ہے، اب یہ خیال ہمارے ذہن کو پرایا لگے یا زبان ہماری سماعت کو ان سنی یا اٹ پٹی مگر تبدیلی اسی کی کوکھ سے جنم لیتی ہے۔پھر اس شاعری میں پڑھتے وقت آپ کو ذات و حیات کے ایسے ننھے ننھے واقعات بھی ملیں گے، جن سے انسان اپنی روزمرہ کی زندگی میں الجھتا ہی رہتا ہے اور بہت سوں نے تو اس وطیرۂ حیات کو غلامی کی طرح اپنالیا ہے، قبول کرلیا ہے، مگر جب کبھی احساس کا ناگ ڈستا ہے تو رئیس فروغ جیسے لوگ انسان کی چھوٹی موٹی خود سری، اچانک کسی بات پر پھٹ پڑنے والی تھکن اور خودکشی کے بیدار ہوتے رہنے والے ایک موہوم جذبے ان سب کو بیان کرنے سے کہاں باز آتے ہیں۔
رئیس فروغ ، بانی، ناصر کاظمی، جون ایلیا، صغیر ملال، اطہر نفیس اور ظفراقبال جیسے فنکاروں کی قبیل کے شاعر ہیں، جن پر ظاہر ہے کہ ہر اردو داں شخص کو فخر ہونا چاہیے۔

مضمون نگار: تصنیف حیدر



رئیس فروغ کی کتاب’رات  بہت ہوا چلی‘ پڑھنے کے لیے درج ذیل لنک پر کلک کیجیے:

No comments:

Post a Comment