Google+ Followers

Wednesday, 20 November 2013

فیض احمد فیض اور شاعرصدی کی کشمکش


’’فیض کسی مرکزی نظریے کا شاعر نہیں۔صرف احساسات کا شاعر ہے۔‘‘
(ن۔م۔راشد)

’’یہ نہیں کہ فیض کا نقطۂ نظر غلط ہے۔ایک عالم اس نظریے کی افادیت اور ہمہ گیری کا معترف ہے۔کون ہے جو ظلم، جبر، غلامی اور حق تلفی کی حمایت کرے گا۔ لیکن فیض کا منصب شاعر کا ہے ،مصلح یا سیاسی لیڈر کا نہیں۔لیڈر یا مصلح کے لیے ایک خاص نقطۂ نظر کی لکیر پر کاربند رہنا ازبس ضروری ہے۔لیکن شاعر نشو ونما، مسلسل تخلیقی عمل اور تدریجی ارتقا کا نقیب ہوتا ہے اور اس کے لیے کسی مقام پر ہمیشہ کے لیے رک جانا اس کی شاعری کے حق میں مفید نہیں ہوتا۔‘‘
(وزیر آغا)

شاعری اور نظریے کے انطباق کا مسئلہ ادب کے لیے ہمیشہ اہم رہا ہے۔ اور ان دونوں میں غزل اور نظم کا کردار بھی منفرد رہا ہے اور مزاج بھی۔ غزل جہاں ایک طرف اپنی ہےئت اور ساخت کی پابندی کی وجہ سے شاعر کو ردیف و قافیے کی مجبوری کے ذریعے لاشعوری طور پر اپنے طے شدہ راستوں پر چلنے کے لیے مجبور کرتی ہے وہیں نظم کا فارمیٹ نظریے کی تبلیغ اور اظہار کے لیے بہت مناسب معلوم ہوتا ہے کیونکہ نظم میں شاعر اپنے خیال کو قافیے کے سانچے میں ڈھالنے پر مجبور نہیں ہوتا۔مجموعی طور پر اگر دیکھا جائے تو غزل میں اکثر شاعر نہ چاہتے ہوئے بھی دومختلف خیالات کو پناہ دینے کا مرتکب ہوجاتا ہے اور نظم اس کے برعکس شاعر کو ایک دشتِ بے کنار کی طرح تب تک چلتے رہنے کی اجازت دیتی ہے جب تک شاعر کا موقف واضح نہ ہوجائے ، اس کی بات پوری نہ ہوجائے۔غزل کا ہر شعر بجائے خود ایک غزل ہے جبکہ نظم کی منجملہ لفظیات ایک شعر کی حیثیت رکھتی ہیں۔صاف لفظوں میں کہا جائے تو وہ شعر جو غزل میں ردیف اور قافیے کی مجبوری کے سبب اپنی بات پوری نہ کرپایا ہو اس کے لیے نظم کی بے پناہ وسعت کسی غیر مترقبہ نعمت سے کم نہیں اور شاعر یہی کرتا بھی ہے۔ غزل کا شعر تب کامیاب ہوتا ہے جب اس کی کم سخنی میں شاعر کی تمام تر قوتِ گویائی کاسلیقہ سماجائے اور نظم تب کامیاب ہوتی ہے جب اپنی وسعت کی گرانی کے باوجود وہ نظریے کی رسائی میں کامیاب ہوگئی ہو۔اردو میں نظم کا سلیقہ ابتدا سے موجود تھا، غزل ہماری روایت کی پاسدار صنف ہے اور اس میں بھی کوئی شک نہیں کہ ایسی کامیاب صنفِ سخن کی نظیر دنیا کے کسی اور ادب میں موجود نہیں ہے۔نظریہ شعر کے لیے ضروری ہے پھر چاہیں وہ غزل کا شعر ہو یا نظم کا ۔شعر بغیر نظریے کے کامیاب نہیں ہے ۔شاعر اپنے نظریے کی توضیح کے لیے رمز و کنایے سے کام لیتا ہے، استعارے کا سہارا لیتا ہے، صنائع کے سرسبز میدانوں کی سیر کرتا ہے اور مضمون آفرینی اور معنی آفرینی کے نئے سے نئے بت تراشتا ہے۔مگر کیا یہ سب لاشعوری طور پر ہوتا ہے؟ کیا شاعر سچ میں خدا کی جانب سے ٹھیک پیغمبروں اور ولیوں کی طرح زمین پر اتارے جاتے ہیں؟ کیا سچ میں سینۂ فطرت کا راز جاننے کی صلاحیت شاعرکا ہی خاصہ ہے؟ کیا اپنی کامیابی اور ناکامی کے درپردہ شاعر کے ذہنی مزاج، سازشی اقدامات یا بے رخی کا کوئی ہاتھ نہیں ہوتا؟ کیا شاعری میں نظریات کی تفرقہ اندازی بھی لوحِ محفوظ پر کندہ کی گئی ہے؟ یہ تمام سوال یونہی میرے ذہن میں نہیں آئے ہیں کہ میں انہیں بے ساختہ ضابطۂ تحریر میں لے آیا ہوں۔ میں اکثر سوچتا ہوں کہ ان سوالوں کے جواب کیسے حاصل کیے جائیں؟ ان پر گرما گرم بحثیں کروائی جائیں۔ ان کے جواب کے لیے عالمی ادب سے مثالیں ڈھونڈی جائیں اور سب سے اہم سوال جو میرے درِذہن کو اپنی دستک سے لہو لہان کیے رہتا ہے وہ یہ ہے کہ کیا نظریے کے بغیر شاعری کا وجود ممکن ہے؟ میں نے اوپر جو دو اقتباسات دیے ہیں ان کا مقصد صرف یہ ہے کہ میں آپ کو یہ بتا سکوں کہ فیض کی شاعری جس صدی کی ترجمانی کے لیے ناکافی ہے اس میں فیض کو اسے صدی شخصیت کہنا کیسے ممکن ہے۔میں راشد اور وزیر دونوں کا معاصر نہیں ہوں۔میں فیض کو ان سے پچاس سال بعد دیکھ اور پڑھ رہا ہوں اس لیے ظاہر ہے کہ دونوں کی بات سے اتفاق میرے لیے ممکن نہیں ہے۔ کیونکہ میں نے نہ صرف فیض کی شاعری کا تفصیلی جائزہ لیا ہے بلکہ اس شاعری کے محرک واقعات کی تفصیل کو بھی تاریخ کی روشنی میں دیکھا ہے اور مجھے محسوس ہوا کہ فیض کی شاعری ایک نظریے کی گونج سے سہمی ہوئی شاعری ہے ، اس میں احساسات اگر ہیں بھی تو وہی گھسے پٹے ہیں جو ایک ناکام نظریے کے مقلد کے حصے میں آتے ہیں۔ وزیر آغا نے کلکِ قلم کویہ لکھتے لکھتے گھس دیا کہ فیض نے محض ’نقشِ فریادی‘ میں جو شاعری کی تھی وہ اسی کا تتبع کرتے رہے اور زندگی بھر اپنی اس نظریاتی شاعری سے پیچھا نہ چھڑا سکے جس نے انہیں فیض احمد فیض کے درجے پر فائز کیا تھا۔لیکن وہ یہ بھول گئے کہ فیض کا نظریہ مختلف ادوار میں تجربے کی ان دبیز تہوں میں لپٹتا چلا گیا جو ان کے عہد کا مقدر تھے، اول اول جو ہنگامہ آرائی ان کے قلم سے وجود میں آئی اس کے آئینے پر رفتہ رفتہ نومیدی اور مایوسی کی دھول جمنے لگی اور فیض کی شاعری نے کہیں دھیمی اور کہیں اونچی آواز میں اس ہار کو تسلیم کیا ، اس ناکامی کو قبول کیا۔ایک اہم سوال جو اس مقالے کا موضوع بھی ہے وہ یہ ہے کہ کیا فیض شاعرِ صدی ہیں؟ اور ظاہر ہے کہ اگر نہیں ہیں تو کیوں نہیں ہیں اور اگر ہیں تو کیوں ہیں؟ یہاں ذرا موضوع سے ہٹ کر ایک بات کہنا چاہوں گا ، غالبؔ کو غالبؔ بنانے میں کیا محض غالب کی شاعری کا ہی ہاتھ تھا؟ نہیں بالکل نہیں۔کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو میرؔ کی موجودگی میں غالب کو کبھی آفاقی شاعری کے اس تختِ طاؤس پر نہیں بٹھایا جاتا جس کی حکمرانی دراصل میر کا حصہ تھی۔ ایک وہ وقت تھا جب ہمارے یہاں سے باقاعدہ مغربی ادب سے مرعوب اور بات بات پر عالمی ادب میں اپنے یہاں سے مثالیں دینے پر بغلیں جھانکنے والی قوم کو ایک ایسے شاعر کی تلاش تھی جسے عالمی ادب کے بازار میں اپنا نمائندہ بنا کر بھیجا جائے۔ اس بات سے مفر نہیں کہ غالب کی شاعری میں اس نمائندگی کی صلاحیت تھی اسی وجہ سے ان کو اس منصب پر فائز کیا گیا۔ باقاعدگی سے غالب تنقید اور تحقیق کے دروازے کھولے گئے اور غالبیات کا عالیشان محل تعمیر کیا گیا۔مگر کیا میریات، غالبیات اور اقبالیات کے علاوہ فیضیات ایسا موضوع ہے جس میں ان تمام موضوعات کی طرح اتنی ہی وسعت ہو جسے ایک صدی کے غیر معمولی، آفاقی اور لافانی ادب کا اختصاص حاصل ہو؟میں فیض کے یہاں ایسی کوئی خاص بات محسوس نہیں کرتا ۔ یہ شاعری ٹھیک اسی طرح متاثر کرتی ہے جس طرح شاد عظیم آبادی، اختر شیرانی، عندلیب شادانی اور عبدالحمید عدم کی شاعری کا مطالعہ اپنی اثر انگیزی کے حصار میں لیتا ہے۔فیض کی شاعری کو ٹرینڈ سیٹر کی حیثیت اس لیے بھی حاصل نہیں ہے کیونکہ ان کی شاعری میں محض مخاطب بدلا ہے، علامتیں اور استعارے نہیں بدلے۔ وہ غزل یا نظم کو ایسا کوئی نرالا اسلوب اور انوکھا طرزِ بیان دینے سے قاصر تھے جیسا اندازن۔م۔راشد اور ظفر اقبال کے حصے میں آیا تھا۔وجہ وہی تھی کہ خود کو ان روایتی علامتوں سے بچانا فیض کے بس کا روگ نہیں تھا۔ان سے کئی بہتر کوششیں مخدوم، مجاز اور جاں نثار اختر نے کی ہیں مگر زمانے کی دست برد سے ہنر کی نت نئی کوششیں بھی گزند کھائے بغیر نہیں رہتی ہیں اسی وجہ سے بہت سی نئی تاویلیں تاریخ کے سیہ غاروں میں گم ہوکر رہ گئیں اور دہلیز پر صرف فیض کا چراغ روشن ہوکر رہ گیا۔ مجروح سلطانپوری نے کہا تھا کہ ’فیض ترقی پسندوں کے میر تقی میر ہیں۔‘ میر تقی میر ماننا شاید مشکل ہو مگر میر ماننے سے انکار اس لیے نہیں کیا جاسکتا کیونکہ فیض کی شاعری کو اس نقشِ قدم کی سی حیثیت حاصل ہے جس نے ترقی پسندی کی ڈگر پر اسے پہلے پہل ثبت کیا۔اور یہی فیض کا سب سے بڑا کارنامہ ہے، مگر یہ کارنامہ اتنا اہم نہیں ہے کہ اس کی وجہ سے فیض کو شاعرِ صدی کی مسند پر بٹھا دیا جائے کیونکہ یہ ایک غیر ارادی فعل ہے، اگر یہ کام فیض نہ کرتے تو ظاہر ہے مجروح کرتے، مجاز کرتے یا مخدوم کرتے۔اب آئیے اسی بات کی طرف جو میں نے اولاً کہی تھی کہ نظریہ شاعری کے لیے کیوں ضروری ہے اور فیض کی شاعری میں نظریے کا تجرباتی دور کس کشمکش، الجھن اور تنزل کا شکار ہے۔ ترقی پسندی کے نظریے کو لے کر ہم اکثر بھول میں رہتے ہیں کہ غمِ دوراں کو غمِ جاناں پر ترجیح دینے والی حقیقی شاعری فیض جیسے شاعروں کا ہی حصہ ہے۔حالانکہ غالب نے فیض سے کئی برسوں پہلے کہہ دیا تھا کہ 
تیری وفا سے کیا ہو تلافی کہ دہر میں
تیرے سوا بھی ہم پہ بہت سے ستم ہوئے
یہ نظریہ مکمل طور پر نہ سہی مگر رجحان کے طور پر ہمارے شاعروں کے یہاں بہت پہلے سے موجود تھا۔ اردو میں ترقی پسندوں نے کوئی ایسا کارنامہ سرانجام نہیں دیا ہے جس سے ان کی حیثیت اگلوں سے مقدم ٹھہرے کیونکہ اردو ادب کا بہ نظرِ غائر مطالعہ کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ ولی، میر، سراج، یقین، غالب اور مومن وغیرہ نے بھی غمِ دنیا کوعنوان بنایا تھا اور یہ نشتر لہجہ دلوں کے پار اتر جانے کا ہنر جانتا تھا۔ کسی شاعر نے بہت پہلے کہا تھا کہ 
آہیں افلاک میں مل جاتی ہیں
محنتیں خاک میں مل جاتی ہیں 
ظاہر ہے یہ شعرخواص کے اس عیاش طبقۂ حیات کے لیے نہیں کہا گیا ہے جس نے عیش کوشیوں میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی بلکہ اس افلاس زدہ، مجبور اور لیبر کلاس کے لیے یہ شعر کہا گیا ہے جس کی زندگی کا مقصد ہی صفحۂ ہستی سے رفتہ رفتہ نیست و نابود ہوجانا ہے۔ اس شعر میں آفاقیت ہے، آج بھی اسے پڑھ کر محسوس ہوتا ہے کہ شاعر نے گلوبلائزیشن اور صارفیت کے اس جانبدار عہد کے منہ پر ایک طمانچہ دے مارا ہے۔کلاسیک میں ایسے شعر وں کی کمی نہیں ہے اور نہ ہی ایسے شاعروں کی جن کو پڑھ کر ترقی پسندی کے اونچے اونچے ہنرمند بونے نظر آنے لگتے ہیں تو پھر سوال یہ ہے کہ صرف فیض صدی کیوں؟ یقین صدی کیوں نہیں؟ قائم صدی کیوں نہیں اور سب سے بڑھ کر میر صدی کیوں نہیں؟ اس بات کے تعین کے لیے کہ آیا فیض کی شاعری اس صدی کی سب سے ممتاز شاعری ہے یا نہیں، شاعری کا بھرپور جائزہ لینا ضروری ہے۔ فیض نے نقشِ فریادی سے شامِ شہریاراں تک کے سفر میں اردو ادب کو چھ مجموعوں سے نوازا ہے۔ ان کی شاعری ابتدا میں جس تپاک سے قاری کے گلے لگتی ہے اس کے لمس کااحساس آخری شعر تک باقی رہتا ہے۔ فیض نے ابتدا میں جس optimistکا رویہ اختیار کیا تھا اس نے انہیں سنہرے مستقبل کے خوابوں کا ایک خزانہ دے دیا تھا اور اس خزانے کی چابی تھی وہ انتظار جو ان کے پیشروؤں کے حصے میں بھی آیا تھا۔اس جذبے کے لیے ضروری تھا اپنی فرسودہ روایات سے انحراف ، مگر روایت سے انحراف کا اعلان جتنا آسان ہے اتنا ہی مشکل ہے اس جذبے کے تسلسل کو قائم رکھنا۔ شاعرچونکہ حساس طبع ہوتا ہے اس لیے بات بات پر گزری امارتوں کو یاد کرنا اور تن آسانیوں کے راگ الاپنا اس کی مجبوری ہوتی ہے، وہ اپنی روایت کی جڑوں سے کٹ جانے میں کامیاب نہیں ہوسکتا۔ شاعر معاشرے میں اس سخت کوش کی مانند ہے جو اپنے آپ کو بدلنے کی ہزار ہا کوششیں کرتا ہے مگر اس کی اپنی طبیعت اسے بدلنے کی اجازت نہیں دیتی ہے۔غزل میں تو اس مجبوری کا احساس اتنا زیادہ نہیں ہوتا کیونکہ وہاں شاعر اپنے طور پر مضامین باندھنے کے لیے آزاد ہوتا ہے اور قافیے کی مجبوری کبھی کبھی اس کے حق میں فائدے مند ثابت ہوتی ہے، لیکن نظم میں جب کسی موضوع کو روانی کے ساتھ نبھانے کا موقع شاعر کو فراہم ہوتا ہے تو اس کی شاعرانہ طبیعت موضوع کے ساتھ انصاف کا بھرپور تقاضہ کرتی ہے اور شاعر جتنا اپنے فن کے تئیں ایماندار ہوتا ہے اس کے یہاں موضوع کے ساتھ انصاف کا حق اتنی مضبوطی سے نبھایا جاتا ہے۔ فیض غزل میں اگر زیادہ کامیاب ہیں تو اس کی وجہ یہ نہیں ہے کہ وہ غزل ، نظم سے زیادہ بہتر لکھ لیتے ہیں بلکہ یہ کامیابی اس لیے ممکن ہوئی ہے کیونکہ غزل ان کو محبوب کی روایتی قصیدہ خوانی کے مکمل مواقع فراہم کراتی ہے، پھر غزل پر کسی طرح کا بہتان بھی نہیں لگ سکتا۔ شعر تو شعر ہے اس کی وسعت خدا معلوم ہے، نہ جانے کتنے معنی ہے جو فی بطن شاعر ہیں اور کتنے معنی ہیں جو ناقدین کے ہاتھ لگ سکے ہیں۔ غزل کا ہر شعر اس معاملے میں دھوکہ دیتا ہے، سادہ الفاظ میں ملبوس اشعار کی تہہ تک پہنچنے کے لیے جو ناقدین تحت الثریٰ کی سیر کر آتے ہیں ، اکثر ان کے معنی سطح پر تیر رہے ہوتے ہیں۔غزل لفظوں میں الجھانے کا کام زیادہ کرتی ہے، کیونکہ لاشعوری طور پر قاری یا سامع استعارے ، کنایے، تشبیہ وغیرہ کے سہارے معنی تک پہنچنا چاہتا ہے اس لیے وہ شعر کو مختلف تناظر میں دیکھنے کی کوشش کرتا ہے ، اگر کوئی نکتہ ذہن میں سما گیا تو کیا خوب ورنہ ناقد آئیں بائیں شائیں بک کر بھی اپنا کام چلا سکتا ہے۔میں یہ نہیں کہتا کہ شعر کی تشریحات میں زیادہ تر اسی طرح کام لیا جاتا رہا ہے مگر غزل کے لیے تنقید کی اس کمزوری کو ہی نام نہاد ناقدین نے اپنی سب سے بڑی طاقت بنا لیا ہے۔ہمارے یہاں واضح تنقیدات کا کلچر فروغ نہیں پاتا، میں ادب میں اسی تنقید کا طرفدار ہوں جہاں کلکتہ شہر میں ایک طرف اسداﷲ خاں غالب شعر پڑھ رہے ہوں، دوسری جانب شاگردانِ قتیل برسرِ مشاعرہ سوال کررہے ہوں کہ فلاں ترکیب کا جواز کیا ہے؟ فلاں محاورہ غلط استعمال ہوا ہے، اصل یوں ہے اور اہلِ زبان تو یوں کہتے ہیں۔مگر یہ طریقۂ تنقید علم سے حاصل ہوتا ہے اور علم کا چلن ندارد ہے تو صاحب ایسے میں کون فیصلہ کرے گا کہ فیض کے یہاں کون سی شاعری اچھی ہے اور کیوں ہے اور کون سی شاعری ،زبان، بلاغت اور ادب کے دائرے سے خارج ہے۔آج جو ہمارے یہاں یہ فیض تقریبات کا سلسلہ قائم کیا گیا ہے۔ بات بات پر یافیض کہنے والی اس جماعت سے پوچھیے کہ یہ شورو غوغا کیوں تو ایک ساتھ دس آوازیں آئیں گی کہ فیض کے ساتھ ہمارا جذباتی رشتہ ہے،فیض عظیم شاعر ہیں، فیض کی نظم ملاقات ایک آفاقی نظم ہے، فیض مزدوروں کے شاعر ہیں، فیض نے استعاروں کو نئے معنی دیے ہیں، علامتوں کو نئے ملبوس پہنائے ہیں یا سب سے بڑھ کر یہ کہ فیض کی شاعری ترقی پسندوں میں سب سے بہتر شاعری ہے۔پہلی بات تو یہ ہے کہ فیض کا اگر ہمارے ساتھ کوئی جذباتی رشتہ ہے بھی تو کیا شاعری کے فیصلے محض جذبات سے ہوجاتے ہیں۔ فرض کیجیے میرا کوئی عزیز دوست شاعر ہے اور اس سے میرا گہرا جذباتی رشتہ بھی ہو ، اس کے یہاں شاعری میں وہی اصنام پرستی کے قصے ہیں، ہجرووصال کی باتیں ہیں، محبوب کی ستم پروری ہے، عاشق کی مظلومیت ہے۔ تو کیا میں اسے سب سے زیادہ اہم شاعر ماننے لگوں؟ کیا میرے کہنے سے کوئی یہ مان لے گا کہ میرا دوست اردو ادب میں اس صدی کا سب سے عظیم شاعر ہے۔ پھر بات عظمت پر آئی ہے تو عظیم شاعر کے اوصاف پر سوال کھڑا ہوتا ہے۔عظیم شاعر تو وہ ہے جو کسی گھسے پٹے نظریے کا خواہ مخواہ اسیر ہو کر نہ رہ جائے ، جس کے یہاں مشاہدے کی گہری چھاپ ہو، جو حق کے لیے اپنی جڑوں کو چھوڑنے کا روادار ہو، عظیم وہ ہے جس کی بات تجربے کی بنیاد پر کہی گئی ہو، جس کے اشعار کی اثر انگیزی زمان و مکان کی قید سے ماورا ہو، جس کی فکر آفاقی قدروں کی ترجمان ہو، جسے پڑھتے یا سنتے ہوئے محض رجزیے کا احساس نہ ہو، جس کی شاعری فقط الم کی روداد نہ ہو، جو فکر کو وقت کے ساتھ نیا ملبوس بخشتا ہو، جس کی آواز توانا ہو، جسے خود پر مکمل بھروسہ ہو، جو تقلید کا قائل نہ ہو بلکہ اپنے لیے اک نئی راہ نکالنا جانتا ہو، جو موحد ہو، مجتہد ہو اور منفرد ہو۔ایسا نہیں ہے کہ فیض ان خصوصیات سے بالکل عاری ہیں، ان کی شاعرانہ عظمت مسلم ہے مگر وہ ایسی نہیں ہے کہ ان کے ہم عصر اس کی خاکِ پا تک نہ پہنچے ہوں، میں فیض کے یہاں غزل میں نظم سے زیادہ قوتِ ترسیل پاتا ہوں۔ میں جانتا ہوں کہ فیض احمد فیض غزل کی شاعری میں ایک بڑے نام کے طور پر ضرور یاد رکھے جائیں گے، میرا مقصود یہ نہیں ہے کہ ان کی نظمیں تاثیر سے بالکل عاری ہیں مگر غزل ان کے یہاں زود اثر ہے۔یہ بات تو ہم سب جانتے ہیں کہ وہ مارکسی نظریے کے حامل تھے مگر فیض کی غزل کا کمال یہ ہے کہ اس نے خودکو نظریے کی اس سخت گرفت سے آزاد رکھا ہے جس سے سردار جعفری کی غزل محفوظ نہ رہ سکی۔فیض کے یہاں غزل کی نفسیات کو سمجھنے کا ہنر اور اس کے تقاضوں کو پورا کرنے کی صلاحیت موجود ہے۔انہوں نے دیوارِ غزل پر الفا ظ کے جو پیکر چسپاں کیے ہیں ، وہ اپنی دلکشی اور خوبصورتی سے دلوں میں گھر کرنے کا سلیقہ جانتے ہیں۔فیض کی غزل نظریے کے دائرے میں محدود ہوکر سہمی، سسکتی ہوئی محسوس نہیں ہوتی بلکہ وہاں اسے اپنے پروں کو کھول کر معنی کے نئے آسمانوں میں اڑنے کا طریقہ آتا ہے۔ایک ذرا غور کرنے پر معلوم ہوتا ہے کہ فیض نے جس طرح پرانے علائم کو نئے سانچے میں ڈھالا، اس سے ان کے یہاں طنز کا پہلو زیادہ نمایاں ہوا ہے۔اکثریہ طنز لطیف ہوتا ہے مگر کہیں کہیں سخت بھی ہوجاتا ہے۔
وہ بات سارے فسانے میں جس کا ذکر نہ تھا
وہ بات ان کو بہت ناگوار گزری ہے

لو سنی گئی ہماری یوں پھرے ہیں دن کہ پھر سے
وہی گوشۂ قفس ہے، وہی فصلِ گل کا ماتم

گلے میں تنگ ترے حرفِ لطف کی بانہیں
پسِ خیال کہیں ساعتِ سفر کا پیام
طنز کی کیفیت سے شاید ہی اردو کا کوئی شاعر بچا ہوگامگر فیض جب حرفِ لطف سے بیزاری کا اظہار کرتے ہیں تو پڑھنے والے پر اس کے پسِ پشت اسباب آپ ہی ظاہر ہونے لگتے ہیں۔ یہ کیفیت آفاقی ہے، ایسا نہیں ہے کہ صرف بھوک، افلاس، بے روزگاری یا مجبورئ حالات ہی انسان کو محبت سے بیزار کردیتی ہے۔ انسان اس کیفیت کا شکار ان حالات میں بھی ہوسکتا ہے جب اسے پے بہ پے رشتوں کی طرف سے چوٹیں ملی ہوں اور اس بات نے اسے اتنا پریکٹیکل بنادیا ہو کہ وہ کسی بھی رشتے کی چھاؤں میں دم لینے کو تیار نہ ہو اور بقولِ فیض منزل پر ہی ڈیرے ڈالنے کی یہ خواہش اسے مستقل آگے بڑھاتی رہے پھر چاہیں ایک دن یہ خواہش اسے تاریک راہوں میں مار ہی کیوں نہ دے۔ اسی کیفیت کا شکار ہوکر کبھی ناصر کاظمی نے کہا تھا کہ 
ہوتی ہے تیرے نام سے وحشت کبھی کبھی
برہم ہوئی ہے یوں بھی طبیعت کبھی کبھی
فیض ہی نہیں بلکہ تمام ترقی پسندوں کے ساتھ یہ المیہ بھی رہا ہے کہ ان کی شاعری کو محض ایک مخصوص نظریے کے آئینے میں ہی دیکھا جاتا ہے، مجھے معلوم ہے کہ اس طریقۂ تنقید کو بھی خود ترقی پسندوں نے ہی فروغ دیا تھا مگر ہمیں اس سے بچنا چاہیے۔ فیض نے غزل کے میدان میں شروع سے آخر تک ایسے اشعار کی کہکشاں تیار کی جن کی چمک سے آنے والے زمانوں کے اذہان بھی منور ہوتے رہیں۔وہ غزل میں امید کے دیے بجھنے نہیں دینا چاہتے ان کا رویہ نقشِ فریادی سے شامِ شہر یاراں تک غزل کے لیے نہیں تبدیل ہوتا، وہ غزل کی تراش میں ایسی احتیاط سے کام لیتے ہیں کہ اس کا روایتی چہرہ خراب نہ ہونے پائے۔مگر وہ غزل میں زبان کے چٹخارے سے زیادہ معنی آفرینی کے عوامل پر توجہ دیتے ہیں اور اگر میں غلط نہیں ہوں تو اس کی ایک اہم وجہ ان کا اقبال سے متاثر ہونا بھی ہے، کہیں کہیں تو اقبال کی یہ تقلید ان کی نظموں میں بھی بہت صاف محسوس کی جاسکتی ہے مگر افسوس کی بات یہ ہے کہ نظموں میں فیض کی اس تقلید کی صورت بہت اچھی نہیں ہے وہ اقبال کی ’طارق کی دعا‘ جیسی عظیم اور مضبوط لب و لہجے کی نظم کے فارمیٹ میں جب ’کتے ‘ جیسی نظم لکھتے ہیں تو افسوس ہوتا ہے کہ یہاں فیض اپنی صلاحیت سے وہ کام نہ لے سکے جو انہیں لینا چاہیے تھا۔خیر بات ہورہی تھی اقبال کی تقلید کی ، میں اپنے بیان کی تائید میں فیض کے چند اشعار پیش کرنا چاہوں گا۔ملاحظہ ہو
ہم پرورشِ لوح و قلم کرتے رہیں گے
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے

ہمیں نے روک لیا پنجۂ جنوں ورنہ
ہمیں اسیر یہ کوتہ کمند کیا کرتے

نوائے مرغ کو کہتے ہیں اب زیانِ چمن
کھلے نہ پھول، اسے انتظام کہتے ہیں

اب اپنا اختیار ہے چاہیں جہاں چلیں
رہبر سے اپنی راہ جدا کرچکے ہیں ہم
دراصل فیض نے انقلاب کی جو روش اپنائی تھی اس میں وہ لفظوں کی گھن گرج سے زیادہ اس اعلانیہ رویے کو اپنانا چاہتے تھے جس کی نہریں دریائے اقبال سے جاری ہوتی ہیں۔اپنی خدمات جتانا، تکلیفوں، پریشانیوں کے نوحے پڑھنا، یقین اور ثابت قدمی کے دعوے کرنا یہ تمام باتیں اقبال سے زیادہ اور کسی کے یہاں کامیابی سے نہیں کی گئی تھیں، اس میں کوئی شک نہیں کہ اس تقلید کے باوجود فیض کا اقبال سے کوئی مقابلہ نہیں ہے کیونکہ دونوں کے انقلاب کا میدان الگ ہے،ایک کے یہاں اپنی اوریجنل آواز ہے ، دوسرے کے یہاں اس کی نقل ہے۔البتہ فیض نے پھر بھی نقل سے اصل تک کے سفر کی کوششوں میں کوئی کسر نہیں اٹھارکھی۔انہوں نے اس نئے اور پرجوش آہنگ سے سیدھی طرح کام نہیں لیا بلکہ غزل کی اسی بندھی ٹکی لفظیات سے اس کا رشتہ جوڑا کہ نتیجے میں لفظ و معنی کی ایک نئی دنیا نظروں کے سامنے نمایاں ہوگئی۔فیض کے اشعار زباں زدِ خاص و عام ہوئے، یہاں تک کہ ان کی کچھ نظموں ’رقیب سے‘، ’ملاقات‘، تنہائی‘ اور ’موضوعِ سخن‘ نے بھی اسی آمیزے کا سہارا لیا۔فیض احتجاج کے شاعر ہیں،جب ماحول پر احتجاج کا کوئی خاص اثر نہیں دیکھتے تو وہ مایوس ہوتے ہیں، پھر یقین کا جذبہ ان کے جسم میں ایک نئی روح پھونک دیتا ہے اور وہ تازہ دم ہوجاتے ہیں۔حیرت کی بات یہ ہے کہ نومیدی اور مایوسی کا یہ جذبہ فیض کے یہاں غزل کے بجائے نظم میں زیادہ ہے جس کا اظہار ان کے دوسرے مجموعے ’دستِ صبا‘ سے ہی ہونے لگتا ہے۔ پھر ’زنداں نامہ‘ ، ’دستِ تہہِ سنگ‘، ’سرِ وادئ سینا‘ اور ’شامِ شہرِ یاراں‘ میں مایوسی کا یہ گراف بڑھتا جاتا ہے اور ان کی نظموں کے عنوان تاریکی کے نئے فسانے سنانے لگتے ہیں۔’صبحِ آزادی‘، ’شیشوں کا مسیحا کوئی نہیں‘، ’زنداں کی ایک صبح‘، ’واسوخت‘، ’ہم جو تاریک راہوں میں مارے گئے‘، ’شام‘، ’ تم یہ کہتے ہو اب کوئی چارہ نہیں’، ’ کہاں جاؤ گے‘،’یہاں سے شہر کو دیکھو‘، ’دعا‘،’فرشِ نومیدئ دیدار‘، ’ ہم تو مجبور تھے اس دل سے‘ اور ’درِ امید کے دریوزہ گر‘وغیرہ اس مایوسی کی بڑی مثالیں ہیں۔اپنی ایک نظم ’یہ فصل امیدوں کی ہمدم‘ میں وہ کہتے ہیں کہ ’’سب کاٹ دو؍بسمل پودوں کو؍بے آب سسکتے مت چھوڑو؍سب نوچ لو؍بیکل پھولوں کو؍شاخوں پہ بلکتے مت چھوڑو؍یہ فصل امیدوں کی ہمدم؍اس بار بھی غارت جائے گی؍سب محنت، صبحوں شاموں کی؍اب کے بھی اکارت جائے گی‘‘دیکھا جائے تو یہ رویہ مارکسزم کے اس پریقین اور پرجوش جذبے کے برخلاف تھا جس نے مانگنے سے حق نہ ملنے پر اسے چھین لینے کی تلقین کی تھی مگر فیض جس ماحول میں جی رہے تھے وہاں سرمایہ داری اور دیوِ استبدادکے سامنے سر جھکانے کی مجبوری نے انہیں یہ سب کہنے پر مجبور کردیاشاید اسی سبب سے نظم میں فیض کی شاعری فکری ایہام کے بجائے ابہام کا شکار زیادہ دکھائی دیتی ہے، ان کے یہاں یہ عیب صرف اپنی بات کہہ دینے کی خواہش کے عمل نے پیدا کیا ہے، فکر میں حقیقت پسندی نہیں ہے اور یہ عمل تخلیق کے بنیادی پیکر کو نقصان پہنچانے کے لیے کافی ہے، نظم اس کی خاص شکار نظر آتی ہے اس کی چند مثالیں ملاحظہ فرمائیے۔مگر اس سے پہلے یہ بھی سن لیجیے کہ فیض نے شعوری طور پر اس علامت نگاری میں ترمیم یا انقلاب کی کوئی کوشش نہیں کی ہے بلکہ ان کے یہاں یہ بے ربطی فکر کے کمزور ڈھانچے کی عقدہ کشائی کرتی ہے۔ایسی شاعری میں نقالی یا Imitationکے اس بنیادی تصور پر بھی ضرب پڑتی ہے جو ارسطو کے ذریعے ہم پر ادب کی پہلی تعریف کے طور پر ظاہر ہوتی ہے۔ فیض کہتے ہیں
یہ مظلوم مخلوق اگر سر اُٹھائے 
تو انسان سب سرکشی بھول جائے
یہ چاہیں تو دنیا کو اپنا بنالیں
یہ آقاؤں کی ہڈیاں تک چبالیں
کوئی ان کو احساسِ ذلت دلادے
کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلادے
(نظم’’کتے‘‘نقشِ فریادی)
مندرجہ بالا نظم فیض کی مشہورِ زمانہ نظم ’کتے ‘ ہے جس میں وہ کتے کو غریب ، بے کس، مجبور، افلاس زدہ اور سرمایہ داری نظام کی چکی میں پسنے والے فرد کا استعارہ بناتے ہیں مگر نظم کے اس حصے تک آتے آتے فیض زبانی اعتبار سے اپنی بات کو تنگنائے نظم کی نذر کردیتے ہیں۔جب شاعر کتوں کی کریہہ آوازوں کے شورکو مزدوروں کے جائز اور بلند بانگ نعروں سے تعبیر کرے تو حقیقی شاعری کا آئینہ مضروب ہوتا ہے۔ پھر جو محاورے فیض نے استعمال کیے ہیں ان کااستعمال تفہیم کے عمل کے دوران سراب صفت معلوم ہوتا ہے ۔ سراُٹھانے سے فیض نے ہزار بغاوت کے پیکر تراشنے کی کوشش کی ہو مگر اس سے ذہن میں تفخر، شان و شوکت اور عزت و تکریم سے جینے کا خیال بھی پیدا ہوتا ہے ۔ دوسرے شعر کا پہلا مصرع پڑھ کر معلوم ہوتا ہے کہ محبت سے دنیا کو اپنا بنانے کی صفت کا اظہار کیا جا رہا ہے مگر دوسرا مصرع کرخت، زشت بیانی ،لوٹ ، کہرام، مارپیٹ اور فساد جیسے انتشاری عناصر کی تصویر کشی کرتا ہے۔کتے کی دم ہلادینے سے حس پیدا کردینا ہی کیوں نہ مقصود ہو مگر کتے کی دُم ہلنا وفاداری کی علامت بھی ہے، کوئی ان کی سوئی ہوئی دم ہلادے سے تو یہ بھی محسوس ہوتا ہے جیسے یہ نادار لوگ ادب کرنا بھول چکے ہیں اس لیے ان کی دم ہلا کر زبردستی انہیں ان کی فطری وفاداری یاد دلائی جائے۔اسی طرح فیض ایک اور نظم میں کہتے ہیں ۔
ایک افسردہ شاہراہ ہے دراز
دور افق پر نظر جمائے ہوئے
سرد مٹی پہ اپنے سینے کے
سرمگیں حسن کو بچھائے ہوئے
جس طرح کوئی غمزدہ عورت
اپنے ویراں کدے میں محوِ خیال
وصلِ محبوب کے تصور میں
موبمو چور، عضو عضو نڈھال
(نظم ’شاہراہ‘نقشِ فریادی) 
فیض نے اس نظم میں جس افسردہ شاہراہ کو غمزدہ عورت سے تشبیہ دی ہے، داخلی طور پر یہاں بھی نظم میں وہی مارکسی تفکر کارفرما ہے جس نے ’وصلِ محبوب کا وہ بنیادی تصور ‘ پیدا کیا ہے ‘ جس سے عورت عضوعضو نڈھال اور مو بمو چور ہوئی جارہی ہے۔علمی پیرائے میں اس کی تشریح کیجیے تو وہی پرانا راگ الاپنے کے علاوہ کوئی چارہ نہ رہے گا کہ اس نظم کی وسعت بھی لے دے کر وہیں تک محدود ہے جہاں غمزدہ عورت ان لٹے پٹے لوگوں کی متبادل ہے جو صرف کامیابی اور ہمکنارئ منزل کی تمنا میں اپنی عمریں بتادیتے ہیں، شاہراہ کی افسردگی ثابت کرتی ہے کہ افق کی دوری اس کی تقدیر کا حصہ بن چکی ہے مگر نظریں ہیں کہ وہاں سے ہٹتی نہیں۔’سردمٹی‘ دراصل اس جمود کا استعارہ ہے جو فکری ہیجان پیدا کرنے کے عمل سے قاصر ہے اور مزدور طبقے کے لیے یہی مسئلہ سب سے اہم ہے جس سے وہ روبرو ہونا نہیں چاہتا ۔ نظم کا پیرایہ افسردہ، دراز، دور، سرد، غمزدہ، ویراں کدے، چور اور نڈھال جیسی لفظیات سے اتنا بوجھل ہوجاتا ہے کہ اس مختصر سی نظم میں شاعر کا تصور انقلاب کے بجائے یاسیت ، محرومی اور تردد زدہ معلوم ہوتا ہے۔نظم اپنی تشکیل کے دوران ہی ایسے بصری پیکر تیار کرلیتی ہے جس سے دنیائے حیات میں سب سے زیادہ سرگرمِ عمل طبقہ ایسی زنجیروں سے بندھا نظر آتا ہے جس پر نہ کسی رجزیے کا اثر ہونا ہے نہ المیے کا۔میں نے پہلے ہی اس بات کی طرف اشارہ کردیا ہے کہ فیض احمد فیض کی شاعری ان کے مجموعوں میں بالترتیب نومیدی کا شکار ہوئی ہے۔شاعر جس سماج کا فرد ہوتا ہے وہاں کی بوسیدہ اور غلط روایات سے لڑنے کے لیے تحریک دینا اس کا فرض اولین ہوتا ہے۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ اردومیں اس طرح کی شاعری کا چلن صرف فیض کی شاعری سے پیدا نہیں ہوا بلکہ اس سے پہلے بھی کارآمد شاعری اور انقلابی شاعری کے آوازے بلند ہوچکے تھے اور کامیاب بھی رہے تھے، مگر نظریاتی شاعری کی سب سے بڑی کمزوری اس کی یک موضوعی صفت بھی ہے۔فیض بھی اسی یک موضوعی صفت کے دام میں آگئے مگر ان کے یہاں انقلاب کی گونج ، ہڑتال، نعروں، جلوسوں ، پتھراؤ اور مفسدہ پردازی کی مدد سے گرجدار بنائی گئی۔ انقلاب کی روش غلط ہو نہ ہو مگر طریقۂ انقلاب کی سمت ضرور غلط تھی، جس وجہ سے عدم تشدد کے نظریے کے ساتھ ساتھ اپنے حق بجانب ہونے کے یقین پر بھی کاری ضرب پڑتی تھی۔شخصی آزادی کا مسئلہ، بھوک کی تڑپ اور گندی نالیوں میں بسیرے کو دیکھنے والے فیض اس طرح کی تحریک کے لیے کمر بستگی کا سامان تو فراہم کردیتے ہیں مگر اس کے نتائج پر غور وخوض نہیں کرتے جس کی وجہ سے سماج میں فرد کے ارتقا کی صحیح راہیں مسدود بھی ہوسکتی ہیں۔فیض سرمایہ داری اور جمہوریت کے اس افتراق کو بھی نظر انداز کردیتے ہیں جس میں حق آزادئ رائے کا امتیاز نمایاں ہے ،نتیجتاً فیض کو معلوم ہوہی جاتا ہے کہ جہاں ان کے نظمیں ہاتھوں ہاتھ لی جارہی ہیں ، لوگ گلی کوچوں میں نظمیں گار ہے ہیں، لیڈران تقاریر میں اور شدت پسند اپنی تحاریر میں اثر انگیزی کے لیے ان کے بند استعمال کررہے ہیں اورجہاں ایک مخصوص نظریے نے فیض کو ایسی چیختی ہوئی نظمیں لکھنے پر کاربند کیا، جب فیض غور سے اسی سماج کا مشاہدہ کرتے ہیں تو وہ مارکسیت کے اس طریقۂ انقلاب سے خود بھی گھبراجاتے ہیں اور دائرۂ یاس میں سمٹ کررہ جاتے ہیں۔ان کی نظموں کی گھن گرج اس بات کو فراموش کردیتی ہے کہ سماج افراد کے ذریعے تشکیل پاتا ہے اور جس سماج میں جیسے افراد ہونگے ، سماج کی تصویر بھی وہی ہوگی، برصغیرہند میں سبز انقلاب کی لہر لانے والوں کے خواہش مند ادیب و شاعر بھول جاتے ہیں کہ رشوت خورافسران، غیرذمہ دار حکمران اور اسفل سیاسی لیڈران کہیں اور سے نہیں آئے ہیں بلکہ اسی سماج اور انہی لوگوں کا حصہ ہیں جنہوں نے اپنی آسائشوں کے لیے ، آسان راہیں تلاش کرنے کی خاطر ایک سماج میں اس سسٹم کو فروغ دیا ہے جو انہی کا خون چوسنے کے درپے ہے۔فرض شناسی سے جو لوگ آگاہ ہیں یہ سسٹم انہیں بھی بدل دیتا ہے کیونکہ بہتات ایسے ہی افراد کی ہے جو خود بدلنا نہیں چاہتے اگر ایسے میں کوئی انقلاب آ بھی جائے تو زیادہ سے زیادہ یہی ہوگا کہ موجودہ حکمرانوں کی جگہ کچھ دوسرے لوگ لے لیں گے، اول اول قسمیں کھائی جائیں گی، قول و قرار کی باتیں ہونگی مگر سسٹم کا خمیر جن لوگوں سے بنا ہے وہ اپنی فطرت سے کہاں باز آنے والے ہیں۔ایسا نہیں ہے کہ اس بات کو فیض نہیں سمجھتے اسی لیے تو 1947میں آزادی جیسی نعمت حاصل ہوجانے پر بھی ان کی رائے یہی ہے کہ 
جگر کی آگ، نظر کی امنگ، دل کی جلن
کسی پہ چارۂ ہجراں کا کچھ اثرہی نہیں
کہاں سے آئی نگارِ صبا کدھر کو گئی
ابھی چراغِ سررہ کو کچھ خبر ہی نہیں
ابھی گرانئ شب میں کمی نہیں آئی
نجاتِ دیدۂ و دل کی گھڑی نہیں آئی
چلے چلو کہ وہ منزل ابھی نہیں آئی
(نظم’صبحِ آزادی‘دستِ صبا)
وزیر آغا کی وہ بات جو میں نے شروع میں نقل کی ہے اس کے استرداد کی پہلی کڑی فیض کی یہی نظم ہے۔فیض ہرگز جمود کے شاعر نہیں ، چونکہ وہ شاعر ہیں اس لیے مشاہدے پر بھی مجبور ہیں، دنیا کے ظلم وستم، ناروائیاں اور ہنگامیہ آرائیاں ان کی نظر میں ہیں ، ایک طرف وہ قید وبند کی صعوبتیں بھی برداشت کرتے ہیں، ہیومنزم کے لیے کلفتیں اُٹھاتے ہیں اور اول اول اسی سخت کوشی کو ترقی کی بنیاد سمجھ لیتے ہیں اور زباں پہ مہر لگنے کے باوجود ہرایک حلقۂ زنجیر میں زباں رکھ دینے کے ہنر میں طاق ہونے کو اولیت دیتے ہیں۔مگر اس زندانی ولولے کا اختتام دیکھیے کس طرح ہوتا ہے، بقولِ فیض
سر پٹکنے لگا رہ رہ کے دریچہ کوئی
گوپا پھر خواب سے بیدار ہوئے دشمنِ جاں
سنگ و فولاد سے ڈھالے ہوئے جناتِ گراں
جن کے چنگل میں شب و روز ہیں فریاد کناں
میرے بیکار شب و روز کی نازک پریاں
اپنے شہپور کی رہ دیکھ رہی ہیں یہ اسیر
جس کے ترکش میں ہیں امید کے جلتے ہوئے تیر
(نظم’زنداں کی ایک صبح‘ دستِ صبا)
اس انتظار نے فیض کے یہاں ابدیت کامقام حاصل کرلیا اور بیشتر نظموں میں ان کے یہاں ایسی لفظیات ہی استعمال ہوئی ہے جو مایوسی کی ایسی فضا تیار کرتی ہے جس سے خود کو آزاد کرپانا شاعر کے بس سے باہر ہے۔لبرل ازم کی حمایت فیض کو ان قریوں میں تو لے آئی جہاں تعفن آمیز نالوں میں زہریلے جراثیم کی پرورش ہوتی ہے، دھواں اگلتی چمنیاں محنتی لوگوں کے ہاتھوں پر چند سکے اور ماتھوں پر کالک پوت دیتی ہیں۔شراب، گالی گلوچ، مارپیٹ، ہو ہلڑ اور لوٹ کھسوٹ یہاں کی پتھریلی زمینوں میں کانٹے دار پودوں کی بو دیے گئے ہیں اور شاعر انہیں دیکھ کر ہراساں ہے، بے بس ہے، کبھی وہ صبح سویرے مشینوں میں پسنے کے لیے جانے والی اس قوم کو ایک ٹوٹے پھوٹے منبر پر کھڑے ہوکر خطاب کرتا ہوا نظر آتا ہے تو کبھی ان کی بے حسی اور ان سنی پر قلم کی آنکھوں سے آنسوؤں کے دریا بہادیتا ہے۔اس نظامِ حیات کو بدلنے پر کوئی شے قادر نہیں ہے، ان خستہ کاموں کی تقدیر سیاست کی اس کال کوٹھری میں لکھی جاتی ہے جس تک پہنچنے کے لیے ان کو علم کے روشن راستوں سے گزرنا پڑے گا مگر فیض جانتے ہیں کہ یہ روشن راستے اس قوم کو نہ تو نصیب ہیں اور نہ ہی یہ خود وہاں جانے کے لیے بے چین ہے،۔اس بات کا اعتراف فیض کے یہاں بہت صاف طور پر نظر آتا ہے۔
ٓآسماں کوئی پروہت ہے جو ہر بام تلے
جسم پر راکھ ملے، ماتھے پہ سندور ملے
سرنگوں بیٹھا ہے چپ چاپ نہ جانے کب سے
اس طرح ہے کہ پسِ پردہ کوئی ساحر ہے
جس نے آفاق پہ پھیلایا ہے یوں سحر کا دام
دامنِ وقت سے پیوست ہے یوں دامنِ شام
اب کبھی شام بجھے گی نہ اندھیرا ہوگا
اب کبھی رات ڈھلے گی نہ سویرا ہوگا
(نظم ’شام‘ دستِ تہہِ سنگ)
آگے جاکر اس نظم میں فیض ضرور مارکسی نظریے کو آسماں سے تعبیر کرتے ہوئے اس کھوکھلی آس کی بات ضرور کرتے ہیں جس کے بغیر اور کوئی چارہ نہیں ہے مگر دامنِ وقت سے پیوستہ ہے یوں دامنِ شام میں جو بوجھل اور شکست زدہ اعتراف جھلکتاہے وہ یہ بتانے کے لیے کافی ہے کہ ترقی پسندی کے دعوے صرف نظموں کے عنوان بن جانے تک محدود نہیں ہیں اور نہ اس کے لیے حکومتِ وقت سے ٹکراکر چور ہوجانے کی ضرورت ہے بلکہ عمل اس کارگہہِ ہستی میں سب سے اہم کردار نبھانے والا مہرہ ہے جس کی اہمیت سے تمام ترقی پسند صرفِ نظر کرتے ہیں۔فیض جس انقلاب کی بات کرتے ہیں وہ ظاہری اتھل پتھل کو ذہن کی کارفرمائیوں پر سبقت دیتا ہے مگر اس انقلاب سے ترقی کی امید کی بہ نسبت تنزل کا اندیشہ کہیں زیادہ ہوتا ہے۔ظلم کے خلاف ظلم ہمیشہ تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہوتا ہے۔ دنیا میں سب سے پہلی لڑائی ہابیل اور قابیل نامی دو بھائیوں میں ہوئی تھی ، قابیل کا طرزِ شکایت غلط نہیں تھا مگر اس کے طریقۂ انقلاب نے اسے قاتل بنادیا، اس کی نظر میں ہابیل ہی غاصب تھا کہ وہ اس کی محبت سے دستبردار ہونے کے لیے راضی ہی نہیں تھا اور پھر خدانے بھی اسی کی نذر قبول کرکے اسے قابیل سے زیادہ ممتاز ، معتبر اور اہل ثابت کردیا، جس کے نتیجے میں قابیل کے دل میں حسد، جلن اور بدلے کے عناصر نے پرورش پائی اور نتیجتاً اس کے انقلابی رویے نے تباہی کا ایسا در کھولا کہ انسانیت انگشت بدنداں دیکھتی ہی رہ گئی۔اسی لیے جب فیض کہتے ہیں کہ
کس حرف پہ تونے گوشۂ لب اے جان جہاں غماز کیا
اعلانِ جنوں دل والوں نے اب کے بہ ہزار انداز کیا



سو پیکاں تھے پیوستِ گلو، جب چھیڑی شوق کی لے ہم نے
سو تیر ترازو تھے دل میں جب نے ہم نے رقص آغاز کیا

بے حرص و ہوا، بے خوف و خطر اس ہاتھ پہ سر، اس کف پہ جگر
یوں کوئے صنم میں وقتِ سفر نظارۂ بامِ ناز کیا

جس خاک میں مل کر خاک ہوئے وہ سرمۂ چشمِ خلق بنی
جس خار پہ ہم نے خوں چھڑکا ، ہم رنگِ گلِ طناز کیا
تو عجیب محسوس ہوتا ہے کہ شاعری کا کام انسان کو جارح بنانا نہیں ہے، شاعری علم اللسان میں وہ پہلا اور آخری علم ہے جو انسان کو امید کے نئے سے نئے در دکھاتا ہے، دلوں میں امنگ اور آنکھوں میں آنے والے سنہرے مستقبل کے خواب بوتا ہے، اس کے ذریعے مظلوموں کی آہ و بکا اور فریاد و زاریاں ضرور حکمرانِ وقت کے کانوں تک پہنچائی جانی چاہیے مگر اس کا ڈھب یہ ہو کہ کہنے والا حدِ ادب سے باہر نہ جائے ، بات بات پر جنگ و جدل اور خونریزیوں کی دھمکیاں نہ دے اور سننے والا غور وفکر کی تمام جہات کو خو د پر روشن کرلے ۔ مگر افسوس اس بات کا ہے کہ ہمارے یہاں کہنے سننے کے یہ دونوں طریقے رائج نہیں ہوسکے۔فیض کی بیشتر شاعری جس حصار میں مقید ہے اس سے سرخ لہو کی بو آتی ہے اوریہ بو کچھ ایسی موجِ بوئے گل کی صورت میں ہے جس سے پڑھنے یا سننے والے کی ناک میں دم آجائے۔دیکھا جائے توفیض کے بارے میں راشد کا نظریہ اولاً اتنا کمزور نہیں تھا جنتا بعد میں ثابت ہوا فیض کی شروعاتی شاعری پڑھ کر کہیں کہیں اس گھٹن زدہ ماحول میں بھی سانس لینے کی گنجائشیں نکل ہی آتی ہیں، مگر یہ اتنی زیادہ نہیں ہیں کہ فیض کا قاری خود کو اس زنداں سے آزاد محسوس کرنے لگے جس کی تعمیر فیض کے یہاں موجود پتھریلی لفظیات کی بدولت ممکن ہوئی ہے۔یہ روایتیں دم توڑ چکی ہیں، آج سیاست کے تاریک گھروندوں میں بھی علم کی روشنی پہنچ رہی ہے۔انقلاب اور انصاف کے نام پر لوگوں کو یرغمال بنانے کی مہم پر تف کہنے والوں کی کمی نہیں ہے، اپنے حق کی روشنی حاصل کرنے کے لیے دوسروں کے گھروں کو تاریک کردینے کی تحریک ماند پڑرہی ہے۔ اس انقلابی ظلم کو بھی ظلم کی فہرست سے باہر نہیں کیا جاسکتا۔دنیا بھر میں کمیونزم کے نام پر پنپنے والے ظلم و جبر واستبداد کی سیاست اظہر من الشمس ہے۔بیداری کا بنیادی ثبوت علم کی پائداری ہے اور علم کا لایا ہوا انقلاب دور اندیش ہوتا ہے وہ بات بات پر پاےۂ تخت الٹنے کی گردان نہیں کرتا بلکہ اپنے سسٹم کی کمزوریوں کو دور کرنے کے لیے مستقل کوشش کرتا ہے اور یہی کوشش اک ننھی کرن سے دمکتے ہوئے آفتاب میں تبدیل ہوجانے کا ہنر جانتی ہے۔ایسے ماحول میں کسی ایسے شاعر کو صدی شخصیت یا شاعر کہنا کہاں تک صحیح ہے جو اپنے نظریے کی اساس تک پر مظبوطی سے قائم نہ رہ سکا ہو اور اس کے دیوان میں جگہ جگہ مایوسی کے جالے لٹکتے ہوئے دیکھے جاسکیں۔***

مضمون نگار: تصنیف حیدر

فیض کی شاعری، ان کی لکھی گئی کتابیں پڑھنے کے لیے اس لنک پر کلک کریں
http://rekhta.org/Poet/Faiz_Ahmed_Faiz

No comments:

Post a Comment