Google+ Followers

Thursday, 7 November 2013

سالیم سلیم کی شاعری



شاعری ایک فریب ہے اور فریب ایک سچائی ہے ،سچائی ہونے کی ،وہ ہونا جو انسان کو اس کے دھیرے دھیرے برف کی طرح گھلتے رہنے کا احساس دلاتا رہتا ہے۔وہ فریب جو انسان کے بتدریج اپنے ہی گم ہوتے رہنے پر دلالت کرتا ہے۔ایسا نہیں ہے کہ کوئی بھی شخص اس حقیقت سے واقف نہیں ہے، مگر لوگوں نے اس حقیقت سے سمجھوتہ کرلیا ہے، مگر فنکار سمجھوتہ نہیں کرتا، وہ بدن کی مٹی کرید کرید کر اس کے باطن میں موجود اس منی کی تلاش میں رہتا ہے جس میں انسان کے اس ہونے یا ہوپانے کا راز موجود ہے، اس راز کو پانے کے لیے وہ بدن کی جن تہوں کو اپنے ناخنوں سے کھرچتا ہے، اس کی تراش خراش اس فنکار کی بے چینی اور کرب کا اعلامیہ ہوتی ہے اور یہ اعلامیہ اس فن کار کا فن ہوتا ہے۔اب یہ الہام ہو، آمد ہو یا آورد۔اس سے کیا فرق پڑتا ہے، فرق پڑتا ہے تو اس بات سے کہ وہ کون فن کار ہے جو سماج کے اس سرد ترین نظام زندگی میں بھی اس عمل پر مصر نظر آتا ہے۔
سالم سلیم میرا دوست ہے۔دوست ہے اس لیے سالم سلیم نہیں ہے، اس کی شخصیت دو حصوں میں منقسم ہے۔ایک کسی ٹھنڈے توے پر جمی ہوئی سیاہی سا رنگ اور ایک بھٹی میں سکتی ہوئی کسی لال انگارہ اینٹ کا سا رنگ،یہ دو بالکل متضاد رنگ اس کی شخصیت اور شاعری کے ایسے پہلو ہیں ،جن سے آدھی صدی بعد کے لوگ کم کم واقف ہونگے۔کیونکہ ان کے سامنے موخر الذکر سالم سلیم تو رہ جائے گا مگر اول الذکر رفتہ رفتہ خاک ہوکر غروب زندگی کے ساتھ نہ جانے کہاں غائب ہوجائے گا، کسے معلوم!
میں سالم سلیم کی شاعری کا پرستار ہوں۔اس کی شعر گوئی میں بلا کا دم خم ہے۔وہی بے چینی، وہی کرب جو کسی فنکار کی ابلتی ہوئی سطروں میں ہوتا ہے،اس کی تخلیق میں موجزن رہتا ہے۔اس سے زیادہ اور کیا کہوں کہ اس نے غزل کے کچھ ایسے شعر اپنی اختراعی صلاحیت سے دم مار کر زندہ کردیے ہیں کہ ان کی گرمی میرے اور ہم تمام دوستوں کے بازار فن کے اٹھ جانے کے بعد بھی آئندہ کی سنسان یا گنجان بستیوں میں محسوس کی جاسکے گی۔
تصنیف حیدر

غزل 
زماں مکاں سے بھی کچھ ماورا بنانے میں 
میں منہمک ہوں بہت خود کو لا بنانے میں 
چراغِ عشق بدن سے لگا تھا کچھ ایسا 
میں بجھ کے رہ گیا اس کو ہوا بنانے میں 
یہ دل کہ صحبتِ خوباں میں تھا خراب بہت 
سو عمر لگ گئی اس کو ذرا بنانے میں 
گھری ہے پیاس ہماری ہجومِ آب میں اور 
لگا ہے دشت کوئی راستا بنانے 
مہک اٹھی ہے مرے چار سو زمینِ ہنر
میں کتنا خوش ہوں تجھے جا بہ جا بنانے میں 

غزل 
یہ کیا کم ہے کہ کوئی کام کرتے جا رہے ہیں 
مبارک ہو انھیں جو لوگ مرتے جا رہے ہیں 
مجھے پھر سے پکارو تم کہ ان تنہائیوں میں 
مری خاموشیوں کے زخم بھرتے جا رہے ہیں 
ہمیں تنظیم کی صورت میں رکھتی ہے کوئی آنکھ
مگر ہم اپنے خوابوں میں بکھرتے جا رہے ہیں 
بہت ہم کو بلاتی ہے وہ خوشبو جان لیوا
سو چلتے جا رہے ہیں اور ڈرتے جا رہے ہیں

غزل 
عشق کو کشف کیا حسن کا قائل ہوا میں 
اور پھر اپنے لئے کلمۂ باطل ہوا میں 
راس آتی نہیں اب میرے لہو کو کوئی خاک 
ایسا اُس جسم کا پابندِ سلاسل ہوا میں 
سارے اسرارِ فنا کھلتے رہے صبح تلک 
رات آئینۂ ہستی کے مقابل ہوا میں 
اور پھر میری خموشی میں بھنور پڑنے لگے 
دمِ رخصت تری آواز کا ساحل ہوا میں 
سہل کرتا رہا جتنا بھی مجھے میرا عدم 
کارِ ہستی کی طرح اتنا ہی مشکل ہوا میں

غزل
رات آنکھوں کے دریچوں میں سجا دی گئی ہے
یہ مجھے جاگتے رہنے کی سزا دی گئی ہے 
ایک صورت تھی مرے عشق کا سرمایۂ کل 
اور وہ شکل تھی تیری سو بھلا دی گئی ہے 
اب کہاں جاؤں میں خوابوں کی پرستش کرنے
میرے اندر کوئی مسجد تھی جو ڈھا دی گئی ہے 
بھاگ کر مجھ میں آتے ہیں یہ وحشت کے غزال 
کیا مرے دشت میں دیوار اٹھا دی گئی ہے 
سب جہانوں کو سمیٹا گیا میری خاطر 
بن گیا میں تو مری خاک اڑا دی گئی ہے 

غزل 
ایک ہنگامہ بپا ہے عرصۂ افلاک پر
خامشی پھیلا رکھی ہے آج میں نے خاک پر
اب مرا سارا ہنر مٹی میں مل جانے کو ہے
ہاتھ اس نے رکھ دئے ہیں دیدۂ نمناک پر
روز بڑھتی ہی چلی جاتی ہے بینائی مری
روز رکھ دیتا ہوں آنکھوں کو تری پوشاک پر

غزل 
اثباتِ ذات میں ہوا انکار ہر طرف
بس ہو رہی ہے اپنی ہی تکرار ہرطرف 
کیا حسن بک رہا ہے ہوس کی دکان میں
چڑھتی گئی ہے گرمئ بازار ہر طرف
یوں تھا کہ اک خیال نمو پا نہیں سکا 
الجھا پڑا ہے جذبۂ اظہار ہر طرف
جاؤں کہاں نکل کے میں تنہائی سے کہ ہیں 
گھیرے ہوئے مجھے درودیوار ہر طرف 
اٹھتی ہوئی ہیں مجھ میں وہ آتش فشانیاں
سلگے ہوئے ہیں ثابت و سیار ہر طرف

غزل 
میری ارزانی سے مجھ کو وہ نکالے گا مگر
اپنے اوپر ایک دن قربان کر دے گا مجھے 
منجمد کر دے گا مجھ میں آ کے وہ سارا لہو 
دیکھتے ہی دیکھتے بے جان کر دے گا مجھے
ہجر میں بخشی ہوئی سب مشکلوں کے بعد وہ
میرے پاس آئے گا آسان کر دے گا مجھے
رفتہ رفتہ ساری تصویریں دمکتی جائیں گی
اپنے کمرے کا وہ آتشدان کر دے گا مجھے
خواب میں کیا کچھ دکھا لائے گا وہ آیئنہ رو
نیند کھلتے ہی مگر حیران کر دے گا مجھے
ایک قطرے کی طرح ہوں اسکی آنکھوں میں ابھی
اب نہ ٹپکوں گا تو وہ طوفان کر دے گا مجھے

غزل 
اک نئے شہرِ خوش آثار کی بیماری ہے
دشت میں بھی درو دیوار کی بیماری ہے
ایک ہی موت بھلا کیسے کرے اس کا علاج
زندگانی ہے کہ سو بار کی بیماری ہے
بس اسی وجہ سے قائم ہے مری صحتِ عشق
یہ جو مجھ کو ترے دیدار کی بیماری ہے
لوگ اقرار کرانے پہ تلے ہیں کہ مجھے
اپنے ہی آپ سے انکار کی بیماری ہے 
یہ جو داغوں کی طرح لفظ چمک اٹھتے ہیں
صرف اک صورتِ اظہار کی بیماری ہے
گھر میں رکھتا ہوں اگر شور مچاتی ہے بہت
میری تنہائی کو بازار کی بیماری ہے

غزل 
ہنگامۂ سکوت بپا کرچکے ہیں ہم
اک عمر اس گلی میں صدا کرچکے ہیں ہم
اپنے غزالِ دل کا نہیں مل رہا سراغ
صحرا سے شہر تک تو پتہ کرچکے ہیں ہم
اب تیشۂ نظر سے یہ دل ٹوٹتا نہیں 
اس ائینے کو سنگ نما کر چکے ہیں ہم
ہر بارا پنے پاؤں خلا میں اٹک گئے 
سو بار خود کو رزقِ ہوا کر چکے ہیں ہم
اب اس کے بعد کچھ بھی نہیں اختیار میں 
وہ جبر تھا کہ خود کو خدا کر چکے ہیں ہم

غزل 
بدن سمٹا ہوا اور دشتِ جاں پھیلا ہوا ہے
سو تا حدِّ نظر وہم وگماں پھیلا ہوا ہے
ہمارے پاؤں سے کوئی زمیں لپٹی ہوئی ہے
ہمارے سر پہ کوئی آسماں پھیلا ہوا ہے
یہ کیسی خامشی میرے لہو میں سرسرائی
یہ کیسا شور دل کے درمیاں پھیلا ہوا ہے
تمہاری آگ میں خود کو جلایا تھا جو اک شب
ابھی تک میرے کمرے میں دھواں پھیلا ہوا ہے
حصارِذات سے کوئی مجھے بھی توچھڑائے
مکاں میں قید ہوں اور لا مکاں پھیلا ہوا ہے

غزل 
بجھی بجھی ہوئی آنکھوں میں گوشوارۂ خواب
سو ہم اٹھائے ہوئے پھرتے ہیں خسارۂ خواب
وہ اک چراغ مگر ہم سے دور دور جلا
ہمیں نے جس کو بنایا تھا استعارۂ خواب
چمک رہی ہے اک آواز میرے حجرے میں 
کلام کرتاہے آنکھوں سے اک ستارۂ خواب
میں اہلِ دنیا سے مصروفِ جنگ ہو جاؤں
کہ پچھلی رات ملا ہے مجھے اشارۂ خواب
عجب نہیں مری نیندیں بھی جل اٹھیں اس بار
دبا ہوا مرے بستر میں ہے شرارۂ خواب 

غزل 
دالان میں کبھی کبھی چھت پر کھڑا ہوں میں
سایوں کے انتظار میں شب بھرکھڑا ہوں میں
کیا ہو گیا کہ بیٹھ گئی خاک بھی مری
کیا بات ہے کہ اپنے ہی اوپر کھڑا ہوں میں
پھیلا ہوا ہے سامنے صحرائے بے کنار
آنکھوں میں اپنی لے کے سمندرکھڑا ہوں میں
سناّٹا میرے چاروں طرف ہے بچھا ہوا
بس دل کی دھڑکنوں کو پکڑ کرکھڑا ہوں میں
سویا ہوا ہے مجھ میں کوئی شخص آج رات
لگتا ہے اپنے جسم سے باہر کھڑا ہوں میں
اک ہاتھ میں ہے آئینۂ ذات و کائنات
اک ہاتھ میں لئے ہوئے پتھر کھڑا ہوں میں

غزل 
کام ہر روز یہ ہوتا ہے کس آسانی سے
اس نے پھر مجھ کو سمیٹا ہے پریشانی سے
مجھ پہ کھلتا ہے تری یاد کا جب بابِ طلسم
تنگ ہو جا تا ہوں احساسِ فراوانی سے
آخرش کون ہے جو گھورتا رہتا ہے مجھے
دیکھتا رہتا ہوں آئینے کو حیرانی سے
میری مٹی میں کوئی آگ سی لگ جاتی ہے
جو بھڑکتی ہے ترے چھڑکے ہوئے پانی سے
تھا مجھے زعم کہ مشکل سے بندھی ہے مری ذات
میں تو کھلتا گیا اس پر بڑی آسانی سے
کوئی ہنگامہ کریں صبح کے آجانے تک
رات کٹنے کی نہیں قصۂ طولانی سے

غزل 
خود اپنے واسطے کارِ سخن بناتے ہیں 
کسی کی زلف کو جب پُر شکن بناتے ہیں 
غزال شام و سحر یوں ہی رم کئے جائیں 
ہم اپنے سینے کو دشتِ ختن بناتے ہیں 
اسی کی مٹّی کے ہم بھی بنے ہوئے ہیں میاں 
یہ چاک ہے چلو اس کا بدن بناتے ہیں 
یہ لوگ بھاگے ہوئے ہیں ترے وصال سے کیا 
جو تیرے ہجر کو اپنا وطن بناتے ہیں 
ہمیں پہ پڑتی ہے ان آئنوں کی بوچھاریں 
تو ہم بھی ان کے لئے بانکپن بناتے ہیں 
تمام عمر کی آشفتگ�ئ جاں کے عوض 
کسی کے لمس کو اپنا کفن بناتے ہیں 

غزل 
کچھ بھی نہیں ہے باقی بازار چل رہا ہے 
یہ کاروبارِ دنیا بے کار چل رہا ہے 
وہ جو زمیں پہ کب سے اک پاؤں پر کھڑا تھا 
سنتے ہیں آسماں کے اُس پار چل رہا ہے 
کچھ مضمحل سا میں بھی رہتا ہوں اپنے اندر
وہ بھی بہت دنوں سے بیمار چل رہا ہے 
شوریدگی ہماری ایسے تو کم نہ ہو گی 
دیکھو وہ ہو کے کتنا تیار چل رہا ہے 
تم آؤ تو کچھ اُس کی مٹی اِدھر اُدھر ہو
اب تک تو دل کا رستہ ہموار چل رہا ہے 

غزل 
نہ چھین لے کہیں تنہائی ڈر سا رہتاہے
مرے مکاں میں وہ دیوار ودر سا رہتا ہے
کبھی کبھی تو ابھرتی ہے چیخ سی کوئی
کہیں کہیں مرے اندر کھنڈر سا رہتاہے
وہ آسماں ہو کہ پرچھائیں ہو کہ تیرا خیال
کوئی تو ہے جو مرا ہم سفر سا رہتاہے
میں جوڑ جوڑ کے جس کو زمانہ کرتا ہوں 
وہ مجھ میں ٹوٹا ہوا لمحہ بھرسا رہتاہے 
ذرا سا نکلے تو یہ شہر الٹ پلٹ جائے
وہ اپنے گھر میں بہت بے ضررسا رہتاہے
بلا رہا تھا وہ دریا کے پار سے اک دن
جبھی سے پاؤں میں میرے بھنور سا رہتا ہے
نہ جانے کیسی گرانی اٹھائے پھرتا ہوں 
نہ جانے کیا مرے کاندھے پہ سرسا رہتاہے
چلو سلیمؔ ذرا کچھ علاجِ جاں کر لیں 
یہیں کہیں پہ کوئی چارہ گر سا رہتاہے

غزل 
جسم کی سطح پہ طوفان کیا جائے گا
اپنے ہونے کا پھر اعلان کیا جائے گا
ہم رہیں گے ابھی اس آئنہ خانے میں اسیر
ابھی کچھ دن ہمیں حیران کیا جائے گا
سامنے سے کوئی بجلی سی گزر جائے گی
مرے اندر کوئی ہیجان کیا جائے گا
منزلِ خاک پہ جانا ہے اسی شرط کے ساتھ
یہ سفر بے سروسامان کیا جائے گا
آ رہا ہو گا وہ دامن سے ہوا باندھے ہوئے
آج خوشبو کو پریشان کیا جائے گا

سالم سلیم کی غزلیں ان کی اپنی آواز میں پڑھنے کے لیے ریختہ کےمندرجہ ذیل لنک پر کلک کیجیے
http://rekhta.org/Poet/Salim_Saleem

No comments:

Post a Comment