Google+ Followers

Thursday, 7 November 2013

یادیں: دیویندر ستیارتھی ایک قلندر ۔۔۔ ایک ملنگ


دوسری جنگ عظیم کے دوران جب مَیں نے ہوش سنبھالا تو اُس دَور میں دیویندر ستیارتھی لوک گیتوں اورکہانی نویسی کی بدولت ادبی دنیا میں بڑی شہرت حاصل کر چکے تھے۔ اُن دنوں ہمارے راولپنڈی شہر کے بازار تلواڑاں میں کتابوں کی ایک دکان تھی ’’موجی بک اسٹال ‘‘ جہاں نہ صرف اُردو کتابیں اور ر سائل فروخت ہی ہوتے تھے بلکہ پڑھنے کے لیے کرائے پر بھی دستیاب ہوتے تھے ۔ اُس دکان پر ایک بہت بڑا بورڈ آویزاں تھا جس میں دائیں جانب گورو دیو ٹیگور اور بائیں جانب ستیارتھی جی کی تصویر بنی ہوئی تھی۔ دونوں کی لمبی لمبی داڑھیاں تھیں۔ بس فرق صرف اتنا تھا کہ جہاں گورو دیو کی داڑھی بالکل سفید تھی وہاں ستیارتھی جی کی بالکل سیاہ۔* تب تک مَیں ستیارتھی جی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا تھا، پوچھنے پر معلوم ہوا کہ یہ پنجاب کے مشہور افسانہ نگار دیویندر ستیارتھی ہیں جن کا سب سے بڑا کارنامہ یہ ہے کہ انھوں نے بیس برس تک ہندوستان بھر میں گھوم گھوم کر مختلف صوبوں اور علاقوں کے لوک گیت جمع کیے ہیں اور ان کے اس غیرمعمولی کام کی گاندھی جی اور رابندر ناتھ ٹیگور ایسی شخصیات نے بھی بڑی تعریف کی ہے۔
اُن کے بارے میں یہ سب جان کر دل میں ایک خواہش پیدا ہوئی کہ کاش میں کبھی ان کے دیدار کر سکوں۔ لیکن کسے معلوم تھا کہ تقسیم کا طوفان شہروں اور آبادیوں کو اُکھاڑ کر وہاں کے لاکھوں افراد کو اپنے آبائی شہروں کو خیرباد کہہ کر خوف و ہراس میں بہ عالم مجبوری کسی اور مقام پر آسرا ڈھونڈنے پر مجبور کر دے گا۔اسی بٹوارے کے کارن جب ہم دہلی میں آکر سکونت پذیر ہوئے اور کچھ مدت بعد ادبی سرگرمیاں شروع ہوئیں تو کئی بار ستیارتھی جی سے ملاقات ہوئی کبھی آج کل کے دفتر میں،کبھی کافی ہاؤس میں اورکبھی اُن کی روہتک روڈ قرول باغ میں واقع رہاش گاہ پر۔ اور ان تمام ملاقاتوں میں مَیں نے اندازہ لگایا کہ ستیارتھی جی ایک مشہور و معروف ہستی ہونے کے باوجود ایک ملنگ ۔۔۔ایک قلندر قسم کے انسان ہیں جن کی داستان زندگی کسی الف لیلوی داستان سے کم نہیں۔ 
ٍمشرقی پنجاب کے ضلع سنگرور میں ایک چھوٹا سا گاؤں ہے بھدوڑ۔ یہیں پر ۲۸؍ مئی ۱۹۰۸ء کو ستیارتھی جی کا جنم ہوا اور ماں باپ نے شروع میں اُن کانام یدھشٹر رکھا مگر بعد ازاں اسے بدل کر دیونیدر بترہ کر دیا گیا۔ ۱۹۲۳ء میں وہ مڈل کا امتحان پاس کر کے موگاکے متھرا داس ہائی اسکول میں نوویں جماعت میں داخل ہوئے۔ ان ہی دنوں انھیں گورو دیو رابندر ناتھ ٹیگور کی شہرہ آفاق کتاب ’’گیتانجلی‘‘ پڑھنے کا موقع ملاجس کے مطالعے سے وہ صرف متاثر ہی نہیں ہوئے بلکہ اُن کے ذہن میں یہ خیال گھر کر گیا کہ اگر گیتانجلی پر نوبل انعام مل سکتا ہے تو ملک کے کونے کونے میں بکھرے ہوئے لوک گیتوں کو یکجا کرنے پر کیوں نہیں؟ 
پھر ۱۹۲۵ء میں انھوں نے ہائی اسکول کا امتحان پاس کیا اورمزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے لاہور آگئے اور وہاں ڈی اے وی کالج میں داخلہ لے لیا۔ اسی دوران لاہور میں آریہ سماج کی سلور جوبلی کے موقعے پر انھوں نے پہلی بار گاندھی جی کو دیکھا اور اُن کی شخصیت سے بے حد متاثر ہوئے۔ 
وہ کوئی ڈیڑھ سال تک ڈی اے وی کالج لاہور میں بھی تعلیم پاتے رہے لیکن پھر اسی دوران اُن پر مایوسی اور نا امیدی کاایسا دورہ پڑا کہ وہ زندگی سے بیزار ہوگئے۔ کہا جاتا ہے کہ اُس مایوسی کے دور میں اگر علامہ اقبال نے انھیں سمجھا بجھاکرراہ راست پر لانے کی کوشش نہ کی ہوتی تو ممکن تھا کہ انھوں نے لاہور کے نیلے گنبد کے چوک میں خود کشی کر لی ہوتی۔ علامہ اقبال کے سمجھانے بجھانے کا اُن پر مثبت اثر ہوا۔ اُن میں جینے اور جدو جہد کرنے کا جوش و ولولہ پیدا ہوا اور پھر اُن میں ملک کے کونے کونے میں گھوم کر لوک گیت جمع کرنے کی دیرینہ خواش جاگ اُٹھی اور اس خواہش کو عملی جامہ پہنانے کے لیے وہ ملنگوں کی طرح گھر بار چھوڑ کر لوک گیتوں کی تلاش میں ایک لمبے سفرپر تن تنہا چل پڑے۔ اور لگ بھگ بیس برس تک ملک کے طول و عرض میں جگہ جگہ گھوم گھوم کر اور طرح طرح کی دشواریوں اور مصائب برداشت کرکے انھوں نے دیس کے مختلف علاقوں میں رائج لاتعداد لوک گیتوں کا ذخیرہ جمع کرکے اہلِ ہند کو ایسا بے مثال قومی ورثہ عطا کیا جو اُنھیں آج تک کوئی نہیں دے پایا تھا۔ اُن کی اس غیر معمولی کھوج پر گاندھی جی تک عش عش کر اُٹھے اور وہ ان کے اس کارنامے سے اتنے متاثر ہوئے کہ انھوں نے اس کی تعریف میں انھیں کئی خطوط ہی نہیں لکھے بلکہ اس کام کو اہم بتاتے ہوئے انھوں نے کاکا کالیلکر کو بطور ایلچی بھیج کر انھیں ہندی ساہتیہ سمیلن میں خاص طور پر شرکت کرنے کی دعوت بھی دی۔
1927
 میں ستیارتھی جی نے اپنے اس منتہائے مقصود کے حصول کی خاطر تعلیم ادھوری چھورڑکر اپنے گھر بار کو خیرباد کہا تھا اور جب لگ بھگ دو برس تک مختلف علاقوں میں گھوم گھوم کرکچھ مدت کے لیے وہ گھر واپس آئے تو اُن کے والد نے سوچا کہ ان کی اس آوارہ گردی کو ختم کرنے کے لیے اُن کی شادی کردی جائے تاکہ اُن کی یہ عادت چھوٹ جائے اور وہ دنیاوی بندھنوں میں بندھ کر کسی کام کاج میں لگ جائیں مگر ازدواجی زندگی بھی ان کے جنون۔۔۔ان کے مقصد کے راستے میں حائل نہ ہو سکی اور وہ لوک گیت جمع کرنے کے لیے دوبارہ نکل کھڑے ہوئے ۔ اور ایک مدت تک گھر نہ آئے۔اس سلسلے میں اُن کی رفیقۂ حیات شانتی ستیارتھی نے لکھا ہے:
’’آج عمر کے اس پڑاؤ پر آکر حیرت ہوتی ہے۔اتنے ضدی ، غیر ذمہ دار اور غیر دنیا دار آدمی کے ساتھ کیسے جی لیا مَیں نے ؟ اور کیسے کیسے دُکھ اُٹھا کر بھی کتنی خوشی سے جی لیا۔آج کے بہت سے ادیب ان حالات کا تصور کرکے بھی حیران رہ جائیں گے جن سے مجھے ستیارتھی جی کے ساتھ گھومتے گھومتے اور بھٹکتے ہوئے گزرنا پڑا۔بن باسی سیتا جیسا جیون تھا اور نہ جانے کون سا شراپ تھا۔۔۔شادی کے کچھ دن بعد ساتھ رہے تھے کہ ایک دن وہ بھاگ نکلے۔صبح صبح گھومنے گئے تھے ،اُدھر ہی سے چلے گئے ۔مہینوں بعد واپس آئے۔تب تک مَیں بھی اُن کی ’کلا‘ سے واقف ہو چکی تھی۔سو مَیں نے ضد ٹھان لی جیسے ہی وہ(دوبارہ) جانے کے لیے تیار ہوئے ۔میں بولی’’مَیں بھی ساتھ چلوں گی۔ تم راجہ تو مَیں رانی۔تُم بھکاری تو مَیں بھکارن۔‘‘ وہ بولے ’’پہلے والا چھوڑو، دوسرا ہی ٹھیک ہے‘‘ سو لوک گیتوں کے لیے ہم بھکاری ہوگئے کہاں کہاں گئی اب تو کچھ ٹھیک سے یاد بھی نہیں لیکن بڑا تکلیف دہ سفر تھا۔‘‘
لیکن بیوی کے ساتھ ہونے پر بھی ستیارتھی جی نے کبھی بیوی کی پروا نہیں کی۔کبھی راستے ہی میں انھیں تنہا کسی دھرمشالہ وغیرہ میں چھوڑ کر چلے جاتے تھے اور کئی کئی ہفتے لوٹ کر نہ آتے تھے۔ جب اُن کی پہلی بیٹی کویتا کی ۱۹۳۲ء میں ولادت ہوئی تو اُس وقت بھی وہ اُن کے پاس نہیں بلکہ بہت دور برما میں تھے۔ ایک بار توستیارتھی جی اپنی بیوی اور چھہ سالہ ننھی بیٹی کویتا کو کلکتہ چھوڑکر شانتی نکیتن چلے گئے اورکئی دن تک واپس نہیں آئے ۔ بالآخر تنگ آکر بیوی کمسن بیٹی کو ایک پڑوسی کے پاس چھوڑ خود انھیں لانے شانتی نکیتن جاپہنچیں ۔
وہ ستیارتھی جی کے ساتھ جگہ جگی گھومتی رہیں یہاں تک کہ وہ اُن کے ساتھ ۱۹۴۰ء میں شری لنکا تک بھی گئیں مگر جب کویتا بڑی ہوگئی تو انھوں نے بیٹی کی پڑھائی کی خاطر اُن کے ساتھ گھومنا بند کر دیا اور وہ ۴۱ ۱۹ء میں مستقل طور پر لاہور میں رہنے لگیں۔
شانتی نکیتن میں قیام کے دوران انھوں نے گورو دیو رابندر ناتھ ٹیگور اور دیگر مشاہیر سے ملاقات کی اور پھر ہزاروں لوک گیت جمع کرکے تقریباًبیس برس بعد لاہور لوٹے۔ ۱۹۳۸ء میں وہ کچھ عرصہ اجمیر کے ویدک ینترالیہ میں، جہاں سے آریہ سماج کا’’ ستیارتھ پرکاش‘‘ شائع ہوا کرتاتھا، پروف ریڈر کی حیثیت سے بھی کام کرتے رہے۔یہاں کام کرنے کاہی اثر تھا کہ ستیارتھ پرکاش کی ہی طرز پر انھوں نے اپنے نام کے ساتھ بھی ’’ ستیارتھی‘‘ کا اضافہ کرلیا۔ لاہور میں وہ کوئی پانچ سال تک مقیم رہے پھر پنجاب کے مشہور آئی سی افسر ایم ایس رندھاوا نے انھیں دہلی میں انڈین فارمنگ میں اڈیٹر کی ملازمت دلوادی اورمئی۱۹۴۶ء تا فروری ۱۹۴۸ء وہ اس رسالے سے وابستہ رہے۔ تقسیم ملک کے بعد وہ مستقل طور پر دہلی میں بس گئے اور مارچ ۱۹۴۸ء میں انھیں پبلی کیشنز ڈویژن وزارتِ اطلاعات ونشریات کے مشہور ہندی ماہنامہ’آج کل‘ کا مدیر مقرر کیا گیا۔ یہ اُن کی زندگی کا سنہری دور تھا۔ اس دور میں شہرت کے ساتھ انھیں دولت بھی نصیب ہوئی اور انھوں نے ’’ہِل مین ۵۰‘‘ نام کی کار کے ساتھ ساتھ ڈرائیور بھی رکھا۔ لیکن بعد ازاں انھوں نے یہ گاڑی بیچ کر رہتک روڈ پر زمین خریدلی۔ اسی دوران وہ ہندی ماہنامہ ’’آج کل‘‘ سے علاحدہ ہوگئے اور خریدی ہوئی زمین پر مکان بنانے میں منہمک ہوگئے۔ اس سلسلے میں انھیں کچھ قرض بھی لینا پڑا جو سود سمیت کئی گنا لوٹانا پڑا۔
مگر اُن کی گھومنے کی عادت نہ گئی اور ایک بار پھر دسمبر ۱۹۵۶ء میں وہ یک لخت گھر سے غائب ہوگئے اوربغیر کسی کو بتائے پاکستان چلے گئے اورلگ بھگ چار مہینے تک لاہور میں مقیم رہے۔ اس دوران وہ کراچی بھی گئے جہاں وہ پاکستان رائٹرز گلڈ کے مہمان کی حیثیت سے قیام پذیر رہے۔ اس دوران اُن کے گھر والے بے حدپریشان رہے مگر اُن کا کوئی اتا پتا نہ تھا کیوں کہ انھوں نے کوئی خط تک نہ لکھا تھا۔ آخر ایک دن پاکستان کے ایک رسالے میں چھپی اُن کی کہانی سے پتا چلا کہ وہ پاکستان میں ہیں۔ تب اُن کی رفیقۂ حیات نے وزیراعظم شری جواہر لال نہرو سے امداد کی درخواست کی ۔شری نہرو نے پاکستان میں انڈین ہائی کمشنر کو لکھا اور اُس نے انھیں سمجھا بجھا کر واپس دہلی بھیجا۔ لیکن کھومنے اور گھر سے اچانک غائب ہوجانے کی یہ عادت پھر بھی نہ چھوٹی۔ ۱۹۶۸ء میں پنڈت نیائے شرما(ماہنامہ چندن کانپور کے مالک مدیر) کے چکر میں پڑکر وہ بمبئی چلے گئے اور ایک عرصہ تک آنے کا نام نہ لیا۔بالآخر بیوی کی دھمکی پر کہ مَیں نے بمبئی کا ٹکٹ کٹوا لیا ہے اور تمھیں خود لینے آ آرہی ہوں، واپس دہلی آگئے۔
لوک گیتوں سے متعلق ستیارتھی جی کی پہلی کتاب اُردو میں ’’مَیں ہوں خانہ بدوش‘‘منظر عام پر آئی اور اس سے انھیں اتنی شہرت ملی کہ اُن کے چرچے بڑے زور شور سے ادبی حلقوں میں ہونے لگے بعد میں’’دھرتی گاتی ہے‘‘ اور ’’گائے جا ہندوستان ‘‘کی اشاعت سے تووہ اتنے مقبول و معروف ہوگئے کہ اُن کے ہمعصر رشک و حسد سے کبھی اُن کی داڑھی کا اور کبھی اُن کی شخصیت کا ’’ فراڈ‘‘ اور ’’بور‘‘ کہہ کر مذاق اُڑانے لگے۔
لیکن ستیارتھی جی نے صرف لوک گیتوں کے میدان میں ہی کارہائے نمایاں انجام نہیں دئے تھے بلکہ انھوں نے اُردو ، ہندی ،پنجابی اور انگریزی چاروں زبانوں اپنے قلم کے جوہر دکھائے اور اپنی کثیر الجہات شخصیت کے امٹ نشان چھوڑے۔ انھوں نے کہانیاں، ناول، نظمیں لکھنے کے علاوہ تراجم بھی کیے اور ہر میدان میں اپنی مہارت کا ثبوت دیا۔ تاہم اس میں کوئی شک نہیں کہ ستیارتھی جی پنجابی،ہندی اور انگریزی میں لکھنے کے باوجود بنیادی طور پر اُردو کے ادیب تھے۔ اُن کی پہلی کہانی’’ اور بانسری بجتی رہی‘‘ لاہور کے مشہور ادبی رسالے ’’ادبِ لطیف‘‘ میں دسمبر ۱۹۴۰ء کے شمارے میں شائع ہوئی تھی۔ یہی نہیں اُن کا پہلا افسانوی مجموعہ ’’نئے دیوتا‘‘ بھی اُردو ہی میں شائع ہوا تھا جب کہ اُن کے ہندی میں افسانوی مجموعے۱۹۴۹ء کے بعد منظر عام پر آئے۔ اور پھرہندی میں زیادہ آؤ بھگت ہونے کی وجہ سے وہ بھی ہندی کے ہوکر رہ گئے۔ یہی وجہ ہے کہ ’’بٹوارے ‘‘ کے بعد ہندی میں اُن کے آٹھ افسانوی مجموعے۔’’چٹان سے پوچھ لو (۱۹۴۹ء) چائے کے رنگ (۱۹۴۹) نئے دھان سے پہلے (۱۹۵۰ء) سڑک نہیں بندوق (۱۹۵۰ء) گھونگھٹ میں گوری جلے (۱۹۹۰ء) مس فوک لور (۱۹۹۴ء) دیویندر ستیارتھی کی چنی ہوئی کہانیاں (۹۹۶ ۱ ء ) اور دس پرتی نِدھی کہانیاں (۱۹۹۷ء) شائع ہوچکے ہیں مگر افسوس کہ اس دوران اُردو میں اُن کا کوئی مجموعہ منظرِ عام پر نہیں آیا۔
یہی نہیں افسوس ناک پہلو یہ بھی ہے کہ ہم اُردو والوں نے اُن کی وفات کو بھی کوئی خاص اہمیت نہیں دی ۔ ان کی موت کی خبر اُردو اخبارات میں یا تو چھپی نہیں یا بہت ہی اختصار میں کہ اس سے یہ بھی معلوم نہیں ہوتا کہ اُن کی وفات کس تاریخ کو ہوئی۔ کہیں ایسا تو نہیں کہ ہم اُردو والے اپنے اُن ادیبوں کو نظر انداز کرنا شروع کردیتے ہیں جو اُردو کے ساتھ ساتھ ہندی کو بھی اپنا لیتے ہیں؟ کیوں کہ سوائے پریم چند کے باقی سب اُردو سے ہندی کی جانب رجوع کرنے والے ادیبوں کے ساتھ ایسا ہی ہوا۔ آج کہانی کارمہاشہ سدرشن کو کتنے لوگ جانتے ہیں حالاں کہ ایک زمانہ میں اُردو ادب میں اُن کا مقابلہ پریم چند سے کیا جاتا تھا جیسے بنگالی میں شرت چندر کا مقابلہ رابندر ناتھ ٹیگور سے کیا جاتا رہا ہے۔ اسی طرح اختر حسین رائے پوری اور ہنسراج رہبر کا بھی معاملہ ہے۔ ہنسراج رہبرؔ کی موت تو دہلی میں واقع ہوئی تھی مگر میرے خیال میں اُن کی وفات پرایک آدھ انجمن کے علاوہ یہاں کسی انجمن یا ادارے کی جانب سے کوئی جلسہ بھی نہیں کیا گیا حالاں کہ وہ بنیادی طور پر اُردو کے ادیب تھے اور اُن کی تین افسانوی مجموعے،پانچ ناول اور دو تنقیدی کتابیں اُردو میں شائع ہوچکی ہیں اور اُن کی پریم چند پر کتاب تو اُردو میں پہلی تنقیدی کتاب ہے۔ لیکن آج اُس کے حوالے بھی کم دئے جاتے ہیں حالاں کہ اس کتاب کی اشاعت کے بعداُردو میں پی ایچ ڈی کرنے والوں کے لیے یہ بہت مددگار و معاون بھی ثابت ہوئی۔رہبرؔ صاحب کا تو ایک طرح سے بائیکاٹ کیا گیا تھا۔شاید یہی وجہ تھی کہ انھیں ریڈیو اور دور درشن پر اُردو والوں نے کبھی بلانے کی بھی زحمت نہیں کی تھی جب کہ ہندی میں دور درشن والوں نے اُن پر اُن کی وفات سے پیشتر فلم تک بنائی تھی اور ن کی وفات پردلی دور درشن سے دو تین قسطوں میں اُسے ٹیلی کاسٹ بھی کیا گیا تھااور متعدد ہندی اداروں نے ملک کے مختلف حصوں میں اُن کی وفات پر تعزیتی جلسے بھی کیے تھے۔ ایسا کیوں ہوتا ہے یہ ایک اہم غور طلب مسئلہ ہے اور اس پر ہمیں ایک مذاکرہ کرانا چاہیے۔
بہر حال اس میں کوئی شک نہیں کہ ستیارتھی جی تقسیم سے پیشتر اُردو کے نامور کہانی نویس کی حیثیت سے بڑی شہرت رکھتے تھے اوراُردو افسانے میں انھیں ایک اہم مقام حاصل تھا۔ اور اُن کی بعض کہانیوں کا بڑا چرچا رہا۔ یہاں تک کہ سعادت حسن منٹو نے جب اُن سے متعلق افسانہ’’ترقی پسند‘‘ لکھا تو جواب میں انھوں ’’نئے دیوتا ‘‘ ایسی یادگار کہانی لکھی جس کا ذکر آج بھی کیا جاتا ہے۔
اس میں شک نہیں کہ ابتداء میں ستیارتھی جی نے کہانی کے تکنیکی پہلو پر زیادہ توجہ نہیں دی اور وہ’ من کی موج‘ کے تحت کہانیوں کی تخلیق کرتے رہے۔ انھوں نے فطری مناظر اور لوک گیتوں کے حوالے سے کردار نگاری پر زور دیا لیکن بعد میں انھوں نے تکنیکی پہلوؤں کو بھی پیش نظر رکھنا شروع کر دیا۔ اُن کی کہانیاں قوم پرستی ،جنسیاتی مسائل، معاشی عدمِ مساوات،غریبوں اور مزدوروں کی خستہ حالی اور اُن کے استحصال ایسے مسائل پر مبنی ہیں اور بنگال کا قحط،بر صغیر کی تقسیم،فرقہ وارانہ فسادات اور دوسری جنگِ عظیم جیسے موضوعات کو انھوں نے بڑے دل پذیر انداز میں پیش کیا ہے اور چوں کہ وہ گیتوں کی کھوج میں ملک کے مختلف علاقوں میں گھو متے رہے تھے اور سفر کے دوران انھیں مختلف قسم کے واقعات اور کرداروں سے واسطہ پڑتا رہا تھا لہٰذااُن کے افسانوں کا کینوس بھی بہت وسیع اورکشادہ ہے اوران میں واقعات اور کردا روں پر مبنی ایسی منفرد کہانیوں کی تخلیق کی گئی ہے جو ایک مسافر ۔۔۔ ایک سیاح اور ایک شاعر کی داستان معلوم ہوتی ہیں جن میں لوک گیتوں کی مدھرتا اور موسیقی کا جادو بسا ہوا ہے ۔انھوں نے اپنی کہانیوں میں اپنے زمانے کی سچائیوں کوبڑے خوبصورت انداز میں پیش کیا ہے اور ان میں اپنے ہمعصروں کے برعکس ایک ایسا جدااور منفرد اسلوب اپنایا ہے جو اُن کی شناخت بن گیاہے۔
ستیارتھی جی کہانیوں کے مجموعے تو اُردو میں شائع ہوئے ہیں لیکن غالباً اُردو میں اُن کا کوئی ناول شائع نہیں ہوا حالاں کہ ناول نگار کی حیثیت سے بھی ہندی اور پنجابی میں اُن بڑا نام ہے اور اُن کے کئی ناول جیسے رتھ کے پہیے،کٹھ پُتلی ، دودھ گاچھ ، برہمُ ُ پُتر،کتھا کہواُ روشی ،تیری قسم ستلج، منظر عام پر آچکے ہیں نیز انھوں نے شاعری بھی کی اور مضامین بھی لکھے۔ اُن کی ان ادبی خدمات کا اعتراف کرتے ہوئے انھیں کئی اداروں اور اکادمیوں کی جانب سے انعامات و اعزازت بھی دیے گئے۔ ۱۹۴۹ء میں بھاشا وبھاگ پٹیالہ نے انھیں شریشٹھ نثر نگار کا اعزاز عطا کیا۔ ۱۹۷۶ء میں حکومتِ ہند نے پدم شری کے اعزاز سے نوازا۔ ۱۹۷۷ء میں پنجاب سرکار نے شریشٹھ ہندی لیکھک کا اعزاز عطا کیا۔ ۱۹۸۸ء میں پنجابی ساہتیہ اکادمی، دہلی نے انعا م سے نوازا۔پنجابی ماہنامہ ’آرسی‘ نئی دہلی نے اُن پرخصوصی نمبرشائع کرنے کے علاوہ انھیں ایک لاکھ روپے کا انعام بھی دیا۔ مگرافسوس ناک پہلو یہ ہے کہ اس سلسلے میں اُردو اداروں نے انھیں بہت کم اعزازات سے نوازا۔
ستیارتھی جی صحیح معنوں میں ایک قلندر ۔۔۔ ایک مست مولا ادیب تھے جنھوں نے اپنی زندگی ایک بنجارے۔۔۔ ایک سیاح کی طرح گزاری۔ تلاش و جستجو کا جنون اُن کے سر پر ہمیشہ سوار رہا۔زندگی کے آخری چند برسوں میں اُن کی یادداشت کچھ کمزور ہوگئی تھی اور اُن کے ہوش و حواس درست نہیں رہے تھے۔ورنہ مطالعہ اور کھوج ہمیشہ اُن کا جنون کی حد تک بڑھا ہوا شوق رہا۔ یہاں تک کہ قرول باغ میں پٹڑی پر پرانی کتابیں اور رسالے بیچنے والوں کے پاس اکثر نظر آتے تھے اور پیسے ہونے کی صورت میں پرانی کتابیں اور رسالے خرید لیا کرتے تھے ۔ یہ اُن کی ہابی تھی یہی وجہ ہے کہ اُن کی بیوی کم آمدنی کے پیشِ نظرجب وہ گھر سے چلتے تھے تو اُتنے ہی پیسے دیتی تھیں جتنی ضرورت ہوتی۔ فالتو ایک پیسہ بھی نہیں دیتی تھیں تاکہ وہ پرانی کتابیں اور رسالے نہ خرید لائیں۔
مجھے یاد ہے کہ اسی جنوں کے تحت ایک دن وہ جون جولائی کو اتوار کے دن شدید دھوپ میں جب پرندے بھی اپنی گھونسلوں سے باہر نکلنے سے گھبراتے ہیں، وہ میرے گھر تشریف لائے تھے ۔مَیں اسی شدید گرمی کے کارن کھانا کھانے کے بعد آرام کر رہاتھا کہ کسی نے میرے گھر کے گیٹ کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ مَیں جلدی سے باہر نکلا کہ اتنی گرمی میں بھلا کون آنے کی ہمت کر سکتا ہے۔ دیکھا تو گیٹ پر پسینے سے تربتر ستیارتھی جی کھڑے ہیں ، حیرت ہوئی۔ اندرلا کر ڈرائنگ روم میں بٹھایا اور ٹھندا پانی پلانے کے بعد اس سے پہلے کہ مَیں اُن سے اس بھری دوپہر میں آنے کامدعا پوچھا تو وہ بولے آپ نے ایک بار کافی ہاؤس میں’’ آج کل‘‘ کے لوک گیت نمبر کا ذکر کیا تھا۔ وہ مجھے ضرورت ہے اگر عاریتاً یا قیمتاً جیسے بھی دینا چاہیں ،دے دیجیے مہربانی ہوگی مجھے ایک مضمون کے سلسلے میں اس کی اشد ضرورت ہے۔مَیں دل میں عش عش کر اُٹھا ۔کسی رسالے یا کتاب کے مطالعے کا یہ جنون کہ اتنی گرمی میں کوئی رہتک روڈ قرول باغ سے کرشن نگر کا بیس کلومیٹر کا سفر کرے ۔کسی مرد مجاہد کا ہی حوصلہ ہوسکتا ہے۔
تب مجھے یاد ہے کہ مَیں نے کافی ہاؤس میں باتوں باتوں میں لوک گیت نمبر کا ذکر کیا تھا مگر تب یہ سوچا تک نہ تھاکہ وہ ا تنی تکلیف اُٹھاکر جھلستی گرمی میں اسے لینے کے لیے اتنی دور آجائیں گے۔ خیر مَیں نے انھیں مذکورہ شمارہ اور اُن کی خواہش پر عالمی اُردو ادب کے ایک دو شمارے دئے ۔اور وہ میری التجا پر بھی زیادہ دیر نہیں رُکے اور کتابیں اپنے جھولے میں ڈال کر واپس اپنے گھر کی جانب چلے گئے۔ 
سچ مُچ ستیارتھی ایک قلندر۔۔۔ایک مست مولاادیب تھے جنھیں لوک گیتوں کی تلاش اور کہانی نویسی کی وجہ سے بڑی شہرت حاصل ہوئی اورجنھیں گھومنے اور تلاش و جستجو کا ایسا جنون تھا،کہ وہ ہمیشہ بنا کسی کو بتائے چپکے سے گھر سے کسی انجانی منزل کی جانب چل پڑتے تھے اور شاید ۱۲؍ فروری ۲۰۰۳ء کو بھی وہ اپنی رہتک روڈ نئی دہلی میں واقع رہائش گاہ سے کسی جستجو ... کسی کھوج میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے نکل گئے کہ اب لاکھ ڈھونڈنے پر بھی انھیں تلاش کر پانا ممکن نہیں۔

مضمون نگار: نند کشور وکرم

دیوندر ستیارتھی کی کلیات جلد ہی پڑھیں ریختہ پر
www.rekhta.org

No comments:

Post a Comment