Google+ Followers

Tuesday, 26 November 2013

بیکار کی بات


میں نے اسی سال اپریل کے آغاز میں نسیم سید کو ایک میل کیا تھا، جس کے جواب میں انہوں نے اپنی محبت اور عنایت کے سبب یہ تحریرعنایت کی۔ میرا ماننا ہے کہ ایک اچھے اور سچے فنکار کے اندر خود کو دیکھتے رہنے کی ایک اذیت ناک صلاحیت ہوتی ہے، اور وہ جس حد تک بھی ہوسکے اس صلاحیت سے جان چرانے کی کوشش کرتا ہے۔ خیر میں نے انہیں لکھا تھا۔ ''نسیم سیدانی صاحبہ! آپ کے کلام کا انتخاب تو ہم نے کرلیا ہے۔ اب رہی بات آپ کی تصویر کی تو میں چاہتا تھا ریختہ پر آپ کی وہ تصویر لگائی جائے جسے آپ چسپاں کروانا چاہیں۔ جہاں تک بات رہی آپ کے شرمندہ ہونے کی تو ہر اچھا شاعر کہیں نہ کہیں اپنی تخلیقی قوت کے سامنے کچھ ایسا شرمندہ ہے۔ ہم جتنا سوچتے ہیں اتنا کہہ ہی کہاں پاتا ہے اور ویسے بھی کہاں کہہ پاتے ہیں جیسے ہم کہنا چاہتے ہیں۔ آہ ظفر اقبال یاد آگیا دیکھیے۔ ظالم کہتا ہے ابھی اپنی میری سمجھ میں یہ نہیں آرہی میں جبھی تو بات کو مختصر نہیں کررہا آپ کے کوائف اس لیے چاہتا ہوں کیوںکہ فیس بک سے آپ کے بارے میں معلومات ادھار نہیں لینا چاہتا بلکہ کیا ہی اچھا ہو کہ آپ ریختہ کے لیے اپنے خاص اسلوب میں اپنی مختصر سی سوانح لکھ دیں۔ یہی کوئی پانچ چھ صفحات میں۔ میں اسے آپ کی پروفائل میں ویسے ہی لگوا دوں گا اور یہ بھی ظاہر کروائوں گا کہ یہ آپ کی اپنی تحریر ہے۔ اس میں سب لکھ دیجیے گا زندگی کو آپ نے کیسے گزارا اور زندگی نے آپ کو کیسے گزارا۔ اب رخصت چاہوں گا، میرے باس کو اردو نہیں آتی مگر وقت کے اسراف پر ان کی گہری نظر ہے۔'' جواب میں تقریبا ایک یا دو ہفتے بعد ان کی جو تحریر مجھے ملی وہ ریختہ کے پروفائل سیکشن میں توشامل ہے ہی۔ میں یہاں اسے الگ سے آپ لوگوں کے مطالعے کے لیے پیش کررہا ہوں۔ یہ سطریں نسیم سید کی زندگی اور ان کے گزران کو سمجھنے میں بڑٰ ی مدد دیتی ہیں۔شکریہ!
تصنیف حیدر

" تصنیف حیدر نے مجھے لکھا ۔ " سب لکھ دیجیے گا زندگی کو آپ نے کیسے گزارا اور زندگی نے آپ کو کیسے گزارا۔" میں نے وعدہ تو کر لیا مگر کئی دن گزر گئے زندگی کے ان اوراق کو ڈھو نڈنے میں جو شا ید کہیں کھو گئے یا شا ید میں نے پھا ڑ دئے ہوں ۔ " سب لکھ دیجئے " مگر کیسے ؟ با ت یہ ہے کہ ہم زندگی میں پو رے کے پو رے اپنے ہا تھ لگتے ہی کب ہیں ؟ اور پورا کا پورا خودکو یا د بھی کب رہ جا تے ہیں ؟ مگر کو شش کر تی ہوں جہا ں جہا ں سے خو د کو یا د ہوں " سب سا منے لا ئے دیتے ہیں " یہ ایک خا صہ خو بصورت تین منزلہ گھر ہے خیر پو رکے چھو ٹے سے محلے لقمان میں ۔( خیر پور سندھ پا کستان کا ایک چھو ٹا سے شہر ہے ) الہ آ باد سے میرے والدین بھی یہاں آگئے تھے رلتے رلا تے ۔ والد سید تھے اور کئی بارھم " نجیب الطر فین " ہیں کا فخریہ حصا ر ہما رے گرد کھینچتے نظر آ تے تھے ایک شجرہ سینے سے لگا ئے لگا ئے پھر تے جس میں شا ید کوئی تفصیل تھی انکے نجیب الطر فیں ہو نے کی اور یہ کہ کس طر ح اکبر الہ آبادی ہمارے رشتہ دار ہیں ۔ مگر ہم چھ بہن بھا ئیوں میں سے کسی کو کبھی کبھی اس تفصیل میں جا نے کا شو ق نہیں ہوا گو وہ شجرہ اب بھی میرے بھا ئی کے پا س کسی الما ری میں دھرا ہے مگر اس کو دیکھنے کا فا ئدہ ؟ ہم بہت چھو ٹے چھو ٹے تھے تب ہی اچا نک اماں نے ایک دن اپنی مٹھی کھو ل کے خود کو اپنے ہا تھو ں سے جھا ڑ دیا ۔
ہمارے اس تین منزلہ گھر کے دا لا ن میں میری ماں کی لحد ہے اور اس لحد میں میرا اور میرے با قی پا نچ بہن بھا ئیوں کا بچپن دفن ہے ۔ اس گھر کے کمروں میں دالا ن میں صحن میں اوپر کی منزلوں میں ان کے آ خری الفا ظ " میرے بچے " اور " بیٹا بہت پڑھنا " ہر طر ف گو نجتے تھےاور بہت سالو ں تک میں کو ئی آ واز نہیں سن پا ئی سو ا ئے اس آ واز کے ۔ ہم سب بہن بھا ئی ایک سا تھ تھے مگر ہم ایک دو سرے سے بچھڑ گئے تھے اپنی اپنی تلا ش میں لگ کے ۔تب میں شا ید چھ سا ل کی تھی مگر ما ں کے آ خری الفا ظ کا مطلب نہ سمجھتے ہو ئے بھی بہت کچھ سمجھ میں آ گیا میرے اور بہت بچپنے میں ہی زندگی نے بہت کچھ سمجھا اور سکھا دیا مجھے اسکی سمجھا ئی ہو ئی یہ با ت تو جیسے ازبر ہو گئی کہ دکھ درد اور غم وہ کڑوی گو لیاں ہیں جنہیں چبا نا نہیں چا ہئے بلکہ ایک گھو نٹ میں نگل لینا چا ہئے ۔میں ان کڑ وی گو لیوں کو نگلتی اور یہ میرے اندر بر سہا برس کی زہریلی روایا ت کے بدن میں زہر اتا رتی گئیں اپنا اور مجھ میں تر یا ق کا کام کر تی گئیں ا ن کڑ وی گو لیو ں کے بیج سے میں اپنے اندر اندر پھو ٹتی رہی شا ید ، کسی نئے پو دے کی طرح جس کا مجھے بہت بعد میں اندا زہ ہوا ۔ میری بڑی بہن جتنی ڈرپو ک اور خا مو ش تھی میں اتنی ہی نڈر اور بے باک ۔ لہذا جب سا تو ین کلا س میں تھی تو اس اسکو ل میں جس کی ہیڈ مسٹریس بھی بر قع اور نقاب میں ڈھکی چھپی رہتی تھی جب پر دے کے مو ضو ع پر مبا حثہ ہوا تو پر دے کے خلا ف تقریر کی اور مزے کی بات یہ کہ پہلا انعام بھی لیا ۔ یہ ایک چھو ٹا سا کپ تھا جو مجھے زندگی نے عطا کیا تھا اپنے سا منے اپنا اقرار کر نے کا ۔والد سید تھے سو ہم سید قرار پا ئے اور میں نسیم سید ہو گئی ۔ والد ویسے ہی تھے جیسے اس دور کے والد ہوا کر تے تھے " کھلا ئو سونے کا نوالہ دیکھو شیر کی نگا ہ " انکے پا س گو ہمیں سونے کا نوالہ کھلا نے کو نہیں تھا مگر شیر کی نگا ہ تھی ۔ سو یہ نگا ہ ہمارے اٹھنے بیٹھنے چلنے پھر نے سب کو قوانین کا پا بند رکھتی تھی ۔ میرے اندر سوالوں کا ہمیشہ انبار رہا ۔ اور یہ سوالا ت اکثر ان کے قوانین سے ٹکر ا تے ، جب ٹکر ا تے تو سخت جھا ڑ جھپا ڑ ادھیڑ پچھا ڑ ہو تی میری مگر یہ سب کچھ مجھے اوپر سے خا موش اور اندر سے پر شور بنا تا رہا ۔ غرض سوال کر نے کی عا دت کے سبب اسکو ل اور گھر دونوں جگہ ، خو ب خو ب صلواتیں پڑیں ۔سزا بھگتی ٹھکا ئی ہو ئی ۔یہ سب کچھ اب بھی ہو تا ہے کسی اور اندا ز سے مگر اپنی نظموں میں جو جی کرتا ہے بکتی ہوں ۔ لہذا " بدن کی اپنی شریعتیں ہیں " جیسی نظمیں لکھیں تو کئی بڑے شا عروں نے اشا روں اشا روں میں اور کھل کے سمجھا یا کہ عو رت کو کیسی شا عری سے پر ہیز کرنا چا ہئے اور کیسی شا عری کر نی چا ہئے ۔ اس جملے کو معتر ضہ سمجھیں۔ تو با ت تھی نو عمری کے زما نے کی اپنے چھا نے پھٹکے جا نے کی ،کو ٹے پیسے جا نے کی ۔ سا تو یں کلا س میں دو اہم واقعا ت ہو ئے ایک پر دہ کے خلا ف میری جیت اور دوسرا دلچسپ وا قعہ یہ ہوا کہ امتحان میں جملے بنا نے کو آ تے تھے اس زمانے میں ۔ جیسے چو ری اور سینہ زوری ، بکرے کی ماں کب تک خیر منا ئے گی وغیرہ وغیرہ ۔ میں نے سب کو شعر بنا ڈا لا بجا ئے جملے کے ۔ ایک فضول سا شعرکیو نکہ اس پر بہت مار پڑی تھی اس لئے شا ید اب بھی یا دہے ۔ ٹیٹوا دبا نا کا جملہ بنا نا تھا ۔ میں نے لکھامیں سر دبا نا چا ہتا تھا آ پ کا حضور بھو لے سے میں نے ٹیٹوے کو ہی دبا دیا میری اردو کی استا د کو بہت غصہ آ یا ۔ اس نے میرا امتحان کا پیپر میرے منہ پر ما را ۔ اور خوب ڈانٹا پھر ایک گھنٹہ کے لئے کلا س کے کو نے میں کھڑا کردیا ۔اس کو نے میں کھڑے ہو کے میں نے اس ایک گھنٹہ کو بہت سر شا ر ی میں گزارا کیونکہ مجھے بڑا مزا آ رہا تھا یہ سو چ کے کہ اتنی جلدی جلدی میں نے شعر گڑھ ڈا لے جبکہ اس سے پہلے ایک شعر بھی نہیں کہا تھا ۔ اس دن اس کو نے میں کھڑے کھڑے میں نے اپنے لئے سزا میں سے جزا کا فا رمولا دریا فت کر لیا ۔ والد نے حسب دستور چا لیس دن کے اندر شا دی کر لی تھی ۔ دوسری ماں بھی با کل ویسی تھیں جیسے انہیں ہو نا چا ہئے تھا ۔ بڑی بہن با رہ سال کی ہو ئی تو اس کی پینتا لیس سا ل کے مرد سے شا دی کر دی گئی ۔ تو انکی شا دی شدہ زندگی ویسی تھی جیسی اسے ہو نا چا ہئے تھا ۔ بڑے بھا ئی پا ئیلٹ کی ٹرینگ کے لئے انگلینڈ بھیج دئے گئے ۔والد نے ہمیں دوسری والدہ کے سا تھ بہت انصا ف کا ا حسا س دیا ۔ اپنے طور پر محبت بھی دی ۔تحفظ بھی اور تعلیم کے لئے آ گے بڑھتے جا نے کی اپنی بسا ط بھر پو ری مدد بھی ۔مگر انکے اور میرے بیچ میری ماں کی لحد کا فا صلہ تھا اور یہ فا صلہ لق و دق تھا شا ید جو میں چا ہتے ہو ئے بھی ختم نہیں کر پا ئی ۔ ہم چا ر بہن بھا ئی اب بھی ایک سا تھ تھے مگر ایک دوسرے سے بے خبر اپنی اپنی تلا ش میں گم تھے ۔ میں کلا س میں فسٹ اس لئے آ تی تھی کہ جس لڑکی کو ہرا کے میں نے سیکنڈ پو زیشن پر کر دیا تھا وہ بہت امیر با پ کی بیٹی تھی اور میری کلا س ٹیچرز اس کے نا ز نخرے جو تے سب کچھ اٹھا نے کو تیا ر رہتی تھیں ۔وہ نمبر دینے میں اکثر میرے سا تھ بے ایما نی کر تیں جب وہ لڑ کی مقا بلے پر ہو تی ۔ میں نے ٹھا ن لیا کہ مجھے فسٹ آ نا ، کھیل کے میدان میں اسے شکست دینا ہے ۔ جب ہیڈ گر ل کا الیکشن ہو ا تو اسے ہرا کے مجھے لگا میں نے اسے نہیں "بے ایما نی " کو ہرا یا ہے مجھے میری ٹیچر ز اور والد کی جا نب سے جن کتا بوں کو نہ پڑھنے کی تا کید کی گئی میں نے وہ سا ری کتا بیں ڈھو نڈ ڈھو نڈ کے پڑھیں ۔منٹو کے افسا نے ایک کزن کی خو شا مد کر کے منگو ائے ۔ اس پر ہسٹری کی کتا ب کا ٹا ئیٹل چڑھا کے اپنے بستے میں چھپا دیا ۔ مگر والد کو شا ید پینسل کی ضرورت ہو ئی بستہ چیک کیا اور منٹو ہا تھ آ گئے ۔ انہوں نے وہ کتا ب چو لھے میں ڈال دی ۔ مجھے آ گ میں جلتا منٹو گلزار دکھا ئ دیا ۔اور پھر اس آ گ نے بڑی روشنی دکھا ئی مجھے زندگی بھر ۔ میں نے بتا یا نا کہ سزا میں جزا کا فا رمولا تلا ش چکی تھی میں۔ پہلے شعری مجمو عے "آ دھی گو اہی " کی پہلی نظم "تعا رف " یا د آ گئی ( ایک ہی نثری نظم ہے میرے پا س ) سنا تی چلو ں با ت آ گے بڑھا نے سے پہلے ۔ تعا رف بچپن میں اس چڑیا کی کہا نی ہم سب نے سنی ہے جو زندہ رہنے کے گر سے واقف تھی سو ، جب اسے آزا د فضا ئوں سے گرفتا ر کر کے پنجرے میں ڈالا گیا تو وہ گا رہی تھی " آ ہا !! میں نے اتنی تیلیوں والا ، کیا محفو ظ سا اک گھر پا یا " چھری تلے آ ئی تب بھی گا تی رہی" آ ہا !! میں نے لال کپڑے پہنے ۔ سب نے کیسا مجھے سجا یا " اور جب کڑا ہی میں تلی گئی تو وہ گا رہی تھی " آہا !! آ گ میں جل کے سو نا کندن میں ڈھل آ یا " شا ید میں وہی چڑیا ہوں لیجئے ابھی تک میں نے خو د کو سمیٹا ہی نہیں اور تصنیف حیدر کی تا کید ہے کہ پا نچ چھ صفحا ت ہوں تو مجھے اب ایک ورق میں سمیٹنا ہے خو د کو ۔ ویسے ایک ورق سے ذیا دہ کچھ ہے بھی کہاں میرے پا س اپنے تعا رف میں ۔فا سٹ فارورڈ کر تی ہوں با قی وقت کو ۔ دسویں کے بعد کیونکہ خیر پور میں کا لج نہیں تھا لہذا کراچی بھیج دی گئی اس ضد پر کہ مجھے آ گے پڑھنا ہے ۔کراچی کا لج کا زمانہ ۔۔کیا اچھے دن تھے ۔ شا عری نے پھر ایکدن ایک نظم کی صورت میں مخا طب کیا ۔اور پھر اس سے مسلسل رابطہ رہا ۔میں اپنے کا لج کے میگزین " فضا " کی ایڈیٹر تھی ، یو نین کی صدر تھی ،ڈرامہ سو سا ئٹی کی صدر تھی ۔ ڈیبیٹ ، مشا عرے سب میں شا مل ۔ غرض اس مصروفیت میں عجب فر صت تھی عجب آرام تھا عجب خو شیاں تھیں حیدر آ با د ویمن کا لج میں مشا عرہ تھا ۔ پو رے پا کستان سے شا عرات اس مشا عرے میں شر کت کر رہی تھیں ۔ حمایت علی شا عر اور (شاید ) عبیداللہ علیم ججز میں تھے ۔اس مشا عرے میں جب میرے نام کا اعلا ن ہوا پہلے انعام کے لئے تو میں بہت دیر تک سمجھتی رہی کہ غلطی سے میرے نام کا اعلا ن ہوا ہے ۔ ( حما یت علی شا عر آ ج بھی میرے اس ہونق پن پر ہنستے ہیں ) یو نیورسٹی پہنچتے تک شا عری سے میری اتنی گا ڑھی چھنے لگی تھی کہ جب تنقیدی نشستیں ہو تیں تو وہ لڑ کے جو خا ص کر ہو ٹنگ کر نے ہی آتے تھے مجھے اکثر بخش دیتے تھے ۔ ایک نطم لکھی تھی میں نے "جمیلہ بو پا شا " ہمارے ہیڈ آ ف ڈیپا رٹمنٹ اور تما م پر وفیسر ڈیپا رٹمنٹ کے اسٹیج پر موجود ہو تے تھے ۔اس دن فر مان صا حب نے جو کہا وہ جملہ میرے لئے بہت بڑی سر شا ری تھا " نسیم !! تمہا ری شا عری کا مستقبل بہت تا بنا ک ہے " ( سر !! میں شر مندہ ہو ں ۔ یہ ذمہ داری اور سر شا ری نبھا نہیں سکی ) یو نیورسٹی کے دوسرے سال کے آ غا ز میں شا دی ہو گئی ۔ مجھے شا دی انتہا ئی احمقا نہ خیال لگتا تھا سو بہت بار بھو ک ہڑتال کر کے ۔ روکے پیٹ کے شا دی کا چکر ختم کرا چکی تھی مگر مو ت اور شا دی بر حق ہیں اس لئے اس بار ایک نہیں چلی ۔دوسرا سا ل ایم اے کا کسی طرح پوارا ہوا اور شا دی ہو گئی ۔ شا دی کے بعد مجھے پتہ چلا کہ شریف عورتیں شا عری نہیں کرتیں ۔ مشا عروں میں نہیں جا تیں ، کتا بیں نہیں پڑھتیں وغیرہ وغیرہ ۔خیر یہ کو ئی ایسا زندگی اور مو ت کا مسئلہ بھی نہیں تھا سو سر کا دیا خو د کو ایک طرف۔ ہمارے ہو نے کی ان کو بہت شکا یت تھی سو خو د سے ہٹ کے ٹھکا نہ بنا لیا ہم نے کینڈا آ ئی تو اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ ہمارے میاں ایک گوری کو پیا رے ہو گئے ( جیسے لو گ اللہ کو پیا رے ہوجا تے ہیں ) ۔ نہ جا نے ایسے میں جب بہت چھو ٹے چھوٹے چا ر بچے تھے ۔ دو دو نو کریاں تھیں ۔ پڑھا ئی تھی ( ہما ری ڈگڑیا ں یہاں آ کے ردی کا غذ جیسی ہو تی ہیں اگر یہاں کی کو ئی ڈگری نہ ہو میں نے ہو ٹل مینج مینٹ کا کور س یہا ں سے کیا ) ایسے میں وہ جو میں تھی اپنے اندر کسی کو نے میں پڑی جس کو میں کب کا بھو ل بھال چکی تھی وہ آ مو جودہو ئی ۔برتن دھو تے ، برف صا ف کر تے ، گھا س کا ٹتے ، روٹی پکا تے ، گا ڑی چلا تے میں نظمیں لکھتی رہی ۔نہ صرف لکھتی رہی بلکہ بے پنا ہ چھپتی بھی رہی مختلف رسا ئل میں ادبی تنظیم بنا ڈا لی ، اور شا ید ہی کو ئی معروف شا عر ایسا ہو جو کنگسٹن نہ آ یا ہو ۔ سر دا رجعفری کا لیکچر یا د گار ہے میری زندگی کا کہ ایک ہفتہ سردار بھا ئی میرے گھر رہے تھے ۔جو ن بھا ئی سے تفصیلی ملا قا ت بھی تب ہی ہو ئی ۔بہت کچھ ہے لکھنے کو مگر پھر کبھی شا ید ان اوراق میں ہی کچھ اضا فہ کروں ۔ اسی زما نے میں شعرا سے ملنے کا اتفا ق ہو ا ۔ اور بہت کچھ سمجھا اور جا نا اپنی شعرا برا دری کے با رے میں ۔ اسکا تفصیلی ذکر بھی پھر کبھی ۔ اسی مصروفیت کے زما نے میں پہلا مجمو عہ " آ دھی گواہی " آیا ۔ سمندر را ستہ دیگا " دوسرا مجمو عہ ہے ۔ آ دھی گو اہی کے بعد یہ یقین کہ سمندر را ستہ دیگا کا سبب یہ تھا کہ خوف کی چھو ٹی چھو ٹی چڑیا میرے بچپن سے جو مجھ میں قید پڑی تھیں تا کیدوں کی جنکے پروں میں گر ہیں لگی تھیں میں نے ان سب چڑیوں کے پر کھو ل دئے میں بہت سے شعرا کی بے پنا ہ خو بصورت شا عری پڑھ کے سو چتی ہوں ۔ میرے لکھنے کا اور پھر شا ئع کر نے کا کیا کوئ جو از ہے ؟ " نہیں ہے " میرے اندر سے آ واز آ تی ہے ۔ پھر بھی لکھتی ہوں کہ اس کے علا وہ مجھے خود سے مخا طب ہونے کا طر یقہ نہیںآ تا ۔زندہ رہنے کے لئے اپنے آ پ سے مکا لمہ ضروری ہے ۔میری شا عری میرا مجھ سے مکا لمہ ہے اورکچھ نہیں ۔ مجھے اپنی صرف ایک کتاب پسند ہے "شما لی امریکہ کے مقا می با شندوں کی شا عری" یہ تر جمہ نہیں ہے بلکہ بہت خو بصورت احسا سا ت کی تر جما نی ہے ۔ اور یہ تر جما نی بہت دل سے کی ہے میں نے ۔ اس پر ابھی اور کام کر رہی ہوں ۔ " جس تن لا گے " اشا عت کے مراحل میں ہے ۔ یہ کچھ کہا نیاں ہیں ۔ اپنے بارے میں بات کرنا بیکا ر کی بات لگتی ہے مگر بعض محبتوں کا کہا ٹا لنا ممکن نہیں ہوتا ، یوں تو لکھنے کو ابھی بہت کچھ ہے مگر جتنا ہے اتنی ہمت بھی ہو نی ضروری ہے ۔سو چنا پڑے گا شا ید لکھ ہی ڈا لوں ۔

تحریر: نسیم سید
نسیم سید کی شاعری بہت جلد ریختہ پر موجود ہوگی۔

www.rekhta.org

No comments:

Post a Comment